Thursday, 25 November, 2004, 02:53 GMT 07:53 PST
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھارت کے دو روز کے دورے کے اختتام پر بتایا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور دوسرے رہنماؤں سے مذاکرات مثبت رہے اور باہمی امور کے ہر موضوع پر بات ہوئی لیکن یہ مذاکرات کشمیر کے سوال پر آکر ایک بار پھر رک گئے۔
دورے کا جائزہ لیتے ہوئے دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ بظاہر پاکستانی وزیرِ اعظم کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔
انہوں نے بتایا کہ شوکت عزیز کے دورے سے پہلے یوں دکھائی دیتا تھا جیسے کوئی بڑی کامیابی ہوگی۔ دونوں رہنماؤں نے بات چیت کے بعد دورے کومثبت قرار دیا لیکن بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سری نگر مظفر آباد بس سروس شروع کرنے کا معاملہ جوں کا توں ہے اور ایران گیس پائپ لائن کی صورتِ حال میں بھی بظاہر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
دونوں حکومتوں کے درمیان پہلے جو معاملات طے پائے تھے اور پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ممبئی میں پاکستانی قونصل خانہ کھولنے کے لیے ابھی تک زمین تک حاصل نہیں کی جا سکی۔
پہلے جن مسائل پر بات چیت ہو رہی تھی وہ اب سست ہو گئی ہے۔ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے پر اگرچہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے لیکن بھارت نے ایسے کوئی اشارہ نہیں دیا۔
اعتماد سازی کے اقدامات تقریباً رک گئے ہیں اور جامع مذاکرات ہو رہے ہیں مگر ان کی سمت کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ دنوں ملکوں میں کشمیر کے معاملے پر اختلافات ہیں لیکن بین الاقوامی دباؤ کے باعث دونوں ہی بات چیت سے کنارہ کش نہیں ہو رہے۔
اس بات چیت پر پاکستان میں بھی بجھا بجھا سا رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستانی مبصروں نے بس اتنا کہا ہے کہ ’اس ابتدائی بات چیت سے ہم بہت زیادہ توقعات نہیں رکھتے تھے۔‘
اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگوں کو امید تھی کہ بھارت صدر مشرف کی اتنی بڑی پیش کش کا بڑھ کر خیر مقدم کرے گا جس میں انہوں نے کشمیریوں کے حق خود ارادی کا مطالبہ ترک کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔