Thursday, 18 November, 2004, 01:52 GMT 06:52 PST
علی سلمان
لاہور
پاکستانی حکام نے کراچی میں امریکی قونصل خانے پر خود کش حملے سمیت تشدد کے متعدد واقعات میں مطلوب ایک شخص نوید الحسن کی گرفتاری کے تصدیق کی ہے۔
ان کا تعلق کالعدم تنظیم حرکت المجاہدین العالمی سے بتایا جاتا ہے اور حکومت پاکستان نے ان کے سر کی بیس لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔
نوید الحسن کی گرفتاری بھارت کی سرحد کے واہگاہ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے جہاں اس نے کپڑے کی دوکان کھول رکھی تھی۔
کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے دفتر کے باہر جون 2002 میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں چودہ پاکستانی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
نوید الحسن ایک نیوائر نائٹ کے موقع پر ایک ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے ایک اور بم دھماکے میں بھی ملوث تھے جس میں نو افراد زخمی ہوئے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری بھارت کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے واہگہ سے عمل میں آئی جہاں انہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی کپڑے کا کاروبار شروع کیا تھا اور ایک چھوٹی سی دکان کھولی تھی لیکن سیکورٹی ایجنسیوں کو ملنے والی اطلاعات کے نتیجے میں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ انہیں مقدمات کی تفتیش کے سلسلے میں جلد کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔
ان کی گرفتاری کے سلسلے میں ایک پولیس ٹیم بھی کراچی سے لاہور آئی تھی۔
حکام کا کہنا ہے وہ پاکستانی صدر مشرف پر قاتلانہ میں ملوث امجد فاروقی سے بھی رابطے میں رہےہیں۔ امجد فاروقی گزشتہ ماہ ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔