Sunday, 17 October, 2004, 13:15 GMT 18:15 PST
گورنر سرحد افتخار حسین نے محسود قبائلی عمائدین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکیوں کو اپنے علاقے سے نکالیں ورنہ حکومت ان کے خلاف کارروائی کرئے گی۔
گورنر نے کہا کہ محسود قبائل کے پاس آخری موقع ہے اور اگر اس موقع کو ضائع کیا گیا تو بعد میں احتجاج بےمعنی ہو گا۔
گورنر سرحد نے ٹانک میں قبائلی جرگے سے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں اور محسود قبائل ان کو علاقے سے بےدخل کرے یا ان کو رجسٹریشن پر مجبور کرے۔
گورنر نے کہا کہ غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کوئی بڑا مسئلہ نہیں اور حکومت کے لیے مسئلہ صرف یہ ہے کہ جب حکومت ان غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی شروع کرتی ہے تو یہ محسود قبائل کی آبادی کے علاقے میں گھس جاتے ہیں اور پھر کارروائی کے دوران عام لوگ بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔
گورنر نے کہا کہ جولوگ شہرت کے شوق میں ہیں ان کو نیک محمد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے۔
گورنر سرحد نے محسود قبائل کی ذیلی شاخ زولوخیل کے قبائل کے لیےایک خصوصی پیکیج کا اعلان کیا۔ اس قبیلے کے لوگوں نے چینی انجینیئروں کے اغوا کارروں کا راستہ روک لیا تھا۔
اب محسود قبائل کا ایک وفد وزیراعظم سے اسلام آباد میں ملاقات کرے گا اور ہلاک ہونے چین کی حکومت کو ایک چینی انجینیئر کی ہلاکت پر تعزیتی پیغام بھیجا جائے گا۔