Friday, 15 October, 2004, 11:06 GMT 16:06 PST
پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں چینی انجینیئروں کو یرغمال بنانےوالوں کے رہنما عبداللہ محسود کو پکڑنے کے لئے مہم شروع کردی ہے۔
چینی انجینیئروں اور ان کے پاکستانی محافظ کو رہا کرانے کی کارروائی فوج نے جمعرات کو کی تھی جس کے دوران پانچ اغواکار اور ایک چینی ہلاک ہوگئے تھے۔
اغواکاروں کے رہنما عبداللہ محسود یرغمالیوں کے ساتھ نہیں تھے جس کی وجہ سے وہ بچ نکلے۔
چینی وزیراعظم وین جیاباؤ نے حکومت پاکستان سے چینی شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔ صدر پرویز مشرف نے اپنے چینی ہم منصب ہُو جِنتاؤ کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں اس واقعے کے ذمہ داروں کو پکڑنے کی بات کی ہے۔
صدر مشرف نے کہا کہ ’دہشت گردی کے اس واقعے کے ذمہ داروں کو پکڑنے کے لئے پوری کوشش کی جائے گی اور سخت ترین سزا دی جائے گی۔‘
جمعہ کو ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ احمد محسود کو پکڑنے کی تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔ خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اہلکار نے کہا: ’ہمیں (محسود ) کو پکڑنا ہے اور اب اس کے لئے ہم ایک لائحۂ عمل طے کریں گے۔‘
محسود گوانتانامو بے میں واقع امریکی جیل سے گزشتہ مارچ میں رہا کیے گئےتھے لیکن واپسی کے بعد سے لاپتہ رہے ہیں۔