Monday, 11 October, 2004, 09:10 GMT 14:10 PST
پاکستان کے قبائلی علاقے میں دو چینی باشندوں کی رہائی کے سلسلے میں محسود قبائل کا جرگہ ناکام ہو گیا ہے اور دوسری طرف اغواء کنندگان کی طرف سے پیر کی شام چار بجے تک کی ’ڈیڈ لائن‘ یا مہلت بھی ختم ہو گئی ہے۔
اغواء کاروں کے سرغنہ عبداللہ محسود نے دھمکی دی تھی کہ اگر سکیورٹی فورسز نے ان کے کمین گاہ کا محاصرہ پیر کی شام چار بجے تک ختم نہ کیا تو ان دونوں چینی باشندوں میں سے ایک کو ہلاک کر دیا جائے گا۔
مہلت کی مدت ختم ہونے کے بعد چینی انجینئروں کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
دریں اثناء چین کی حکومت نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مغویوں کی جان بچانے کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ اغواء کاروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ مغویوں کے ساتھ اپنے آپ کو بم سے ا ُڑا دیں گے۔
ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ اغوا کرنے والوں نے مذاکراتی ٹیم کی بجائے اخبارات کے دفاتر ٹیلی فون کر کے قتل کی دھمکی دی تھی۔
قبائلی علاقے سے صحافی دلاور خان وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اغوا کرنے والوں نے ابتدائی طور پر حکومت کو دن کے بارہ بجے تک کا وقت دیا تھا جس میں بعد میں چار گھنٹے کی توسیع کر دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق اغوا میں ملوث افراد چاہتے ہیں کہ ان کو دونوں چینی باشندوں اور ان کے ساتھ اغوا کیے جانے والے دو پاکستانیوں کے ساتھ محفوظ مقام تک جانے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔
دلاور خان وزیر نے بتایا کہ مغویوں کی رہائی کے لیے ٹانک میں محسود قبائل کا جرگہ بھی منعقد ہوا جو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔
انہوں نے کہا کہ اتوار کی رات کو قومی اسمبلی کے رکن مولانا معراج الدین کی قیادت میں ایک جرگہ ناکام ہو گیا تھا۔
اس کے علاوہ چینی حکام کے ایک وفد نے قبائلی علاقے میں پولنگ ایجنٹ سے بھی ملاقات کی ہے۔
ان لوگوں کو ہفتے کے روز اغوا کیا گیا تھا۔