http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 08 October, 2004, 12:19 GMT 17:19 PST

عروج جعفری
کراچی

حیدرآباد سے کراچی تک چھپر ہوٹلوں کی دنیا

کراچی سے حیدرآباد تک طویل سپر ہائی وے پر ٹرک ڈرائیوروں کی مدارات اور رات گزارنے کے لیے کم از کم تیس سے پینتیس چارپائی ہوٹل برسوں سے قائم ہیں جن کے تندور صبح پو پھٹنے کے ساتھ ہی سلگ جاتے ہیں اور چائے کی کیتلیاں چولہے پر چڑھ جاتی ہیں۔

چاہے وہ نیو کوئٹہ ہوٹل ہو ، مہمند ہوٹل ، ملیر ہوٹل، سندھ بلوچستان ہوٹل یا سب سے پرانا جدہ چارپائی ہوٹل سبھی کے معمول میں کوئی تفریق نہیں۔ سبھی کے باہر اور اندر صحن میں چارپائیاں بچھی ہیں جنہیں مقامی زبان میں ’ کھاٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اور ان کھاٹوں پر ہر تھوڑی دیر بعد مسافروں کے چہرے بدلتے رہتے ہیں اور ’چھوٹے‘ ان کی خدمت پر مامور رہتے ہیں۔

آج کل ان ہوٹلوں پر مہدی حسن کے گانے نہیں بلکہ ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کی موسیقی کا دور ہے۔ ڈش اور ٹی وی بھی تقریبا ہر چار پائی ہوٹل میں موجود ہیں۔

مسافروں کا جم غفیر اپنی جگہ مگر ہوٹل کے مالکان کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار میں پچھلی ایک دہائی کی نسبت اب منافع پر منفی اثر پڑا ہے۔ جس کی وجہ سندھ بلوچستان ہوٹل کے ملک احمد خان کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے جس کے باعث قوت خرید اور فروخت متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دودھ، چینی‘ پتی، گوشت‘ آٹا اور دیگر اشیا خوردونوش جس رفتار سے مہنگے ہوئی ہیں اس رفتار سے کاروبار میں اضافہ نہیں ہوا۔

جدہ ہوٹل اور مہمند ہوٹل کے ’چھوٹے‘ یعنی خدمتگار اس بات پر متفق ہیں کہ روٹی کی ہی قیمت ہر دو کوس بعد دو روپے اوپر یا نیچے ہو جاتی ہے۔ تاہم میانوالی ہوٹل کے بیرے اعجاز کا کہنا تھا ’مہنگائی تو اپنی جگہ، پر اس کا گزارہ تین ہزار ماہانا میں ہو جاتا ہے اور باقی سیٹھ لوگ اوپر سے بھی دیتے ہیں‘۔

مہمند ہوٹل کے کمو نے کہا ’میرا گزارہ تو ڈھائی میں بھی ہو جاتا ہے ، کھانا پینا مفت اور کھاٹ بھی یہاں بہت ہیں۔ بس کبھی کبھی ماں کو بھیجوں تو ذرا قرضہ لینا پڑتا ہے۔ لیکن ہاں روٹی کی قیمت پر اکثر ڈرائیور مالک سے جھگڑا کرتے ہیں‘۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے آنے والے ٹرک ڈرائیور کا کہنا تھا ’جو پراٹھہ چائے جدہ ہوٹل پر ہے وہ بڑا لاجواب ہے میں اس رووٹ پر ہمیشہ یہیں ناشتہ کرتا ہوں‘۔

یاد رہے کہ بیشتر ہوٹلوں پر چائے اور سبز چائے پانچ روپے فی پیالی ہیں، جبکہ دال فرائی پچیس سے پینتیس کے بیچ اور گوشت کی پلیٹ پچپن روپے کی ملتی ہے۔ جبکہ نان کی قیمت پانچ سے تین روپے کے درمیان بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔

کئی ہوٹلوں پر گرمی سے تپتے تندور پر روٹیاں لگاتے نان بائیوں کا کہنا تھا کہ ماہانہ چار ہزار میں گزارہ مشکل سے ہوتا ہے لیکن اور کام بھی نہیں ملتا سو اسی میں گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ ’کم از کم ہم کو اپنی روٹی کے پیسے تو دینا نہیں پڑتے‘۔

ان چارپائی ہوٹلوں کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ نہ صرف دلچسپ تھا بلکہ مختلف لب و لہجے میں اردو زبان کو سمجھنا بھی کسی مرحلے سے کم نہ تھا۔