Thursday, 07 October, 2004, 01:44 GMT 06:44 PST
ندیم سعید
ملتان
ملتان میں مولانا اعظم طارق کی برسی کے اجتماع میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی اجتماعی نماز جنازہ فوج اور پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں ادا کی گئی۔
ملتان شہر میں بم دھماکے کے بعد کشیدگی پھیل گئی تھی اور شہر میں مختلف مقامات پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے جس کے بعد شہر میں فوج طلب کر لی گئی۔
جمعرات کی صبح ملتان میں مولانا اعظم طارق کی برسی کے اجتماع کے دوران بم دھماکے میں کم از کم 39 افراد ہلاک اور100 کے قریب زخمی ہوگئےتھے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نشتر ہسپتال اور رشید آباد کے علاقے میں جہاں بم دھماکہ ہوا تھا فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
نشتر ہسپتال میں کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنماؤں کے ساتھ مقامی انتظامیہ کے مذاکرات جاری ہیں۔
دھماکے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے اور ان کی لاشیں ابھی تک نشتر ہسپتال میں موجود ہیں۔
جمعرات کی صبح ملتان میں مولانا اعظم طارق کی برسی کے اجتماع میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 39 افراد کی ہلاکت اور100 افراد زخمی ہوئے۔
دھماکہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق علی الصبح چار بجکر چالیس منٹ پر ہوا۔
ملتان کے ضلعی پولیس افسر سکندر حیات نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا ہے کہ دھماکہ خانیوال روڈ پر واقع محلہ رشیدآباد کی مسجد سے ملحقہ فٹ بال گراؤنڈ میں ہوا جہاں کالعدم سنی تنظیم سپاہ صحابہ کے ارکان سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کی پہلی برسی کے سلسلے میں جمع ہوئے تھے۔
مسٹر سکندر حیات کے مطابق دھماکے کی جگہ ایک گاڑی کا ملبہ پڑا ملا ہے جس سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ دھماکہ ایک کار بم کے ذریعے کیا گیا تھا۔
سنی تنظیم ملت اسلامیہ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی کےمطابق کہا ہے کہ یہ دھماکہ چند روز پہلے سیالکوٹ میں ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے بم حملے کا رد عمل ہو سکتا ہے۔
سیالکوٹ میں ہونے والے بم دھماکے میں اکتیس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے تھے۔