Sunday, 03 October, 2004, 15:33 GMT 20:33 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
وزیراعظم شوکت عزیز نے اتوار کو کوئٹہ میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان سے ملاقات کی ہےجس میں صوبے میں جاری وفاقی حکومت کے منصوبے اور قوم پرستوں کے تحفظات پر بات کی گئی ہے۔
اس ملاقات کو صوبے میں کافی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ موجودہ دور حکومت میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ صدر یاوزیر اعظم نے قوم پرستوں سے اس طرح ملاقات کی ہو۔
اجلاس کے بعد اور اخباری کانفرنس سے پہلے گورنر ہاؤس میں دوپہرکےکھانے کے لیے حزب اختلاف کے اراکین کی نشستیں وزیر اعظم گورنر اور وزیر اعلی کے ساتھ رکھی گئی تھیں۔
حزب اختلاف کے اراکین کی قیادت اپوزیشن لیڈر کچکول علی ایڈووکیٹ کر رہے تھے۔
اس وفد میں نیشنل پارٹی کے کچکول علی ایڈووکیٹ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی عبدالرحیم زیارتوال اور مجید اچکزئی کے علاوہ جمہوری وطن پارٹی کے سینیٹر امان اللہ کنرانی شامل تھے۔
مجلس عمل جو کہ بلوچستان میں اس وقت مخلوط حکومت کا حصہ ہے کے اراکین کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
اس ملاقات میں کچکول علی ایڈووکیٹ نے تحریری طور پر وزیر اعظم کو قوم پرستوں کے تحفطات سے آگاہ کیاجس میں صوبائی خودمختیاری، بلوچستان کے گیس اور سونے کے ذخائر میں رائلٹی، بلوچستان کے بے روزگاروں کو روزگار کی فراہمی اور فارن سروس میں بلوچستان کا حصہ وغیرہ شامل تھے۔
جمہوری وطن پارٹی کے لیڈر سینیٹر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو صوبے میں جاری ظالمانہ کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا ہے جن میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی مقامی آبادی سے زیادتیاں، وڈھ میں ایف سی کے اہلکاروں کے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کا قتل، ڈیرہ بگٹی اور پنجاب کی سرحد پر رینجرز کے ہاتھوں خواتین کے قتل اور دو سو کے لگ بھگ سیاسی کارکنوں کی بلا جواز گرفتاری کے معاملات شامل تھے۔
امان اللہ کنرانی نے جولائی میں تُربت کے علاقے میں فوجی کارروائی کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو مطلع کیا ہے اور کہا ہے کہ اس موقع پر گرفتار سیاسی کارکنوں کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسلام آباد جا کر وہ اس بارے میں کارروائی کریں گے۔
مبصرین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو اس وقت بلوچستان اسمبلی میں صدر کی وردی کے حوالے سے حزب اختلاف کا تعاون چاہیے اس کے لیے توقع ہے کہ پانچ اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر قرارداد پیش کی جائے گی۔
اس کے علاوہ گوادر منصوبے اور فوجی چھاؤنیوں کے قیام کے حوالے سے قوم پرستوں کے تحفظات پر بات چیت کےذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی جس کے لیے کوششیں پہلے سے جاری ہیں۔