Friday, 01 October, 2004, 02:56 GMT 07:56 PST
ظفرعباس
بی بی سی اسلام آباد
پاکستان میں حال ہی میں دہشت گردی کے لیے سب سے زیادہ مطلوب اور القاعدہ کے اہم رکن امجد فاروقی کی ہلاکت کے بعد ایک بار پھر دنیا کی توجہ اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الزواہری کے پکڑے جانے کے امکانات کی سمت مرکوز ہو گئی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہاڑوں میں روپوش ہیں۔
امجد فاروقی کے گروہ کے کئی شدت پسندوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔لیکن سیکیورٹی ایجنسیاں دو اور افراد کی تلاش میں ہیں پاکستان کے لئے یہ خاصے اہم ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ پاکستان میں القاعدہ کا نیٹ ورک چلاتے ہیں۔
پاکستان میں سیکیورٹی کے اعلی افسران کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امجد فاروقی ملک میں اسلامی تحریک کے ساتھ القاعدہ کے لیے ایک کڑی کا کام کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابو فراج القاعدہ اور فاروقی کے درمیان ایک اہم کڑی تھا۔ابو فراج ایف بی آئی کو مطلوبہ افراد کی فہرست میں کافی عرصے سے ہے جس کے سر پر پانچ ملین ڈالر کا انعام ہے
افسران کا کہنا ہے کہ ابو فراج نے ہی امجد فاروقی کے ذریعےپاکستان میں تخریب کارانہ کاروائیوں کے لئے فنڈز مہیا کرائے ۔
ان کارروائیوں میں صدر مشرف کو قتل کرنے کی دو ناکام کوششیں بھی شامل ہیں۔خیال ہے کہ ابو فراج القاعدہ کے ایک اور اہم رکن حمزہ عربی کے ساتھ قبائلی علاقے میں روپوش ہے۔
پاکستانی خفیہ اداروں کے افسران گزشتہ چند ہفتوں سے ملک میں اسلامی شدت پسندوں کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلات بتا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے زیادہ تر عرب جو 11 ستنبر کےحملوں کے بعد یا ان سے قبل پاکستان میں آباد ہوئے تھے عراق چلے گئے ہیں۔
جہاں امریکیوں اور مغربی ممالک کے لوگوں کو باآسانی نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور وہ مقامی آبادی میں گھل مل سکتے ہیں۔
تاہم افسران کا یہ بھی کہناہے کہ ان کےجانے کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے پاکستان کو چھوڑ دیا ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ اس نیٹ ورک کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر نظر ہے ۔ افسران کا کہنا ہے کہ فاروقی ایک بغیر پائلٹ والے طیارے کی تلاش میں تھا تاکہ مختلف ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا سکے۔
انہیں اس بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ فاروقی اس طرح کا طیارہ کیسے حاصل کرتا لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں اتنا یقین ہے کہ وہ ایسی کوششیں کر رہا تھا۔