Sunday, 26 September, 2004, 14:05 GMT 19:05 PST
علی سلمان
لاہور
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی وفاقی کونسل نے صدر پرویز مشرف کا وردی میں رہنے کے حق میں دلائل دینےکو ’آئین سے بغاوت‘ کے مترادف قرار دیا ہے اورسپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اپنے اختیارت استعمال کرتے ہوئے ازخود صدر پریز مشرف کے خلاف ایکشن لیں۔
یہ مطالبہ وفاقی کونسل نےاتوار کو لاہور میں اپنے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیا۔اجلاس میں ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے مندوبین نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعدسابق وفاقی وزیر خالد احمد کھرل اور منیر احمد خان نے اخبار نویسوں کو اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دی ۔
انہوں نے کہاکہ آئین میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ کوئی شخص صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے نہیں رکھ سکتا اور جنرل مشرف اس کے باوجود وردی میں رہنے کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔ ان کا یہ اقدام ’آئین سے بغاوت‘ کے مترادف ہے اس لیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل پانچ اور چھ کے تحت ’آئین سے بغاوت‘ کی کارروائی ہونے چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے اور اس کی تشریح کرتی ہےاس لیے ان کی جماعت کی فیڈرل کونسل کو خدشہ ہے کہ اگر چیف جسٹس نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا تو ہر طالع آزما ملکی آئین کی تشریح اپنے طور پر کرے گااور ذاتی مفاد کو قومی مفاد کا نام دے گا۔
انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کے وردی والے معاملے کی وجہ سے فوج میں بددلی پھیل رہی ہے کیونکہ ان کے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کو نہ چھوڑنے سے دیگر افسران کی ترقیاں رکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’وہ جس طرح غیر آئینی صدر ہیں اسی طرح سے غیر آئینی چیف آف آرمی سٹاف ہیں‘۔
بغاوت کا مقدمہ کیوں؟ |
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں۔