Wednesday, 22 September, 2004, 00:53 GMT 05:53 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی اردو سروس نیویارک
امریکی صدر جارج بش نے منگل کو صدر جنرل پرویز مشرف اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے افغانستان میں اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور انتخابات کے دوران سکیورٹی کے معاملات کے حوالے سے مشترکہ ملاقات کی۔
صدر مشرف نے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک خطے میں واقع ہیں اور ان دونوں ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کے خلاف تعاون ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے سلسلے میں بات چیت ہو رہی ہے۔
امریکی اخبارات کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف ہونے والی تنقید کو جنرل مشرف نے پُرزور انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تنقید بالکل نہ قابل قبول ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر اس حوالے سے الزامات عائد نہیں کیے جا سکتے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن کارروائی نہیں کر رہا۔
جنرل مشرف بدھ کی صبح صدر جارج بش سے ناشتے کی میز پر ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات میں صدر مشرف امریکی صدر کو پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اور قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے مبینہ عناصر کے خلاف ہونے والی کارروائی سے آگاہ کریں گے۔
جنرل مشرف پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات سے بھی صدر بش کو آگاہ کریں گے۔
اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی بات زیر بحث آئے۔
صدر بش سے ملاقات کے بعد جنرل مشرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور وہاں سے واشنگٹن چلے جائیں گے۔