Sunday, 12 September, 2004, 17:56 GMT 22:56 PST
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے نواحی علاقہ کانی گرم میں مبینہ طور پر القاعدہ کے حامی شدت پسندوں اور فوج کے درمیان مسلح جھڑپوں میں چھ سے آٹھ شدت پسند اور دو یا تین فوجی ’شہید‘ ہوئے ہیں جب کہ سکیورٹی فورسز کے کچھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سے سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں مسلح جھڑپیں جاری ہیں اور اتوار کی شام تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق اب بھی وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ معاملہ کنٹرول سے باہر ہونے کی بات نہیں ہے۔
جب ان سے ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی شہریت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ آیا ہلاک شدگان غیر ملکی ہیں یا مقامی لوگ۔
زخمی فوجیوں کی تعداد سمیت دیگر تفصیلات کے متعلق سوال پر میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ وہ اس ضمن میں کوئی تفصیلات نہیں بتانا چاہتے۔
پشاور سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگارہارون رشید نے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں لدھا سب ڈویژن کے کاروان منزہ علاقے سے اتوار کی صبح قبائلیوں اور فوج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور خدشہ ہے کہ فریقین کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
کاروان منزہ کے علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق قبائلیوں نے صبح پانچ بجے پیش قدمی کی اور فوجی ٹھکانوں کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنانا شروع کیا۔
فوج نے بھی جوابی کارروائی شروع کر دی ہے اور آخری اطلاعات تک تصادم جاری تھا۔
جانی نقصان کے بارے میں ابھی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی ہے البتہ خاصے نقصان کا خدشہ ہے۔
قبائلیوں کی جانب سے سنیچر کی رات ایک بجے سکاؤٹس تحصیل بلڈنگ مکین پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا البتہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سیکیورٹی دستوں نے جوابی کارروائی کی اور یہ تصادم دو گھنٹے تک جاری رہا۔
کئی راکٹ اور گولے شہری آبادی میں گرنے کی بھی خبر ہے جن سے مکانات کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔