http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 09 September, 2004, 13:42 GMT 18:42 PST

علی سلمان
لاہور

پاکستان آنے کی ایک اور کوشش

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کی اہلیہ اور ان کی دو بیٹیوں کی وطن واپسی کی خواہش ایک بار پھر پوری نہ ہوسکی اور واپسی کا پروگرام بننے کے بعد ایک بار پھر مؤخر ہوگیا۔

پی آئی اے کے ریکارڈ کے مطابق سات مئی کو پی آئی اے کی پرواز نمبر’ پی کے دوسو دس‘ سے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز ، ان کی دو صاحبزادیوں جویریہ اور رابعہ کی دوبئی سے لاہور کے لیے بکنگ کروائی گئی تھیں۔

بکنگ کے مطابق انہیں پاکستانی وقت کے مطابق نو ستمبر کو پونے تین بجے دوبئی سے روانہ ہوکر شام سات بجےلاہور پہنچناتھا تاہم بعد ازاں ان کی بکنگ کینسل کروا دی گئی اور یہ تینوں خواتین وطن واپس نہیں آسکیں۔

ان کی متوقع آمد کے پیش نظر لاہور کے ایئر پورٹ پر خصوصی انتظامات کیے گئے تھے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کے علاوہ پولیس بھی تعینات تھی لیکن یہ اطلاع ملنے کے بعد کہ تینوں خواتین جہاز میں سوار نہیں ہوئیں یہ اہلکار واپس چلے گئے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے بھی اپنی والدہ اور بہنوں کی وطن واپسی کے لیے کوششیں کی تھی لیکن حکومت نے انہیں اجازت نہیں دی۔

خود حمزہ شہباز شریف پر بیرون ملک جانے پر پابندی ہے۔

نصرت شہباز اور ان کی صاحبزادیوں کو ایک سے زائد بار پاکستان سے زبردستی باہر بھجوایا جا چکا ہے۔

گیارہ مئی کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے بھی وطن لوٹنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ایئرپورٹ سے ہی واپس سعودی عرب بھجوادیا گیا تھا۔اس واقعے کے بعد شریف فیملی کے کسی بھی رکن کی یہ دوسری کوشش تھی۔

ان کے خاندانی ذرائع کے مطابق لاہور میں نصرت شہباز اپنے کسی عزیز رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے آنا چاہتی تھیں۔

لاہور میں پاکستان مسلم لیگ شہباز شریف سیکرٹریٹ کے ترجمان فرخ شاہ نے اس تمام معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اقتدار سے ہٹاِئے جانے کے بعد بیرون ملک بھجوا دیا گیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایک معاہدے کے تحت بیرون ملک گئے ہیں جبکہ شریف خاندان ہمشہ ایسے کسی معاہدے کی تردید کرتے ہیں ۔