Wednesday, 08 September, 2004, 14:25 GMT 19:25 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سیاحت غازی گلاب جمال نے کہا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کو بحال کرنے میں پانچ برس لگ سکتے ہیں۔
پیر کے روز سینیگال کے شہر ڈاکار میں سیاحت کے متعلق عالمی تنظیم کے سولہویں اجلاس میں شرکت کے لیے اپنی روانگی سے قبل جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر اور صوبہ سرحد کے جن نو اضلاع میں زلزلہ آیا وہاں ایک سو دس ہوٹلوں کے چوبیس سو کے قریب کمرے تباہ ہوگئے ہیں۔
ان کے مطابق صرف ہوٹل انڈسٹری کو ایک کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ تباہ ہونے والی سڑکوں کا نقصان اس سے علاوہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کانفرنس میں پاکستان کی سیاحت کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے دنیا سے امداد کی اپیل کریں گے۔
وزیرِ سیاحت نے بتایا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی وجہ سے پاکستان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سن دو ہزار چھ کے بجائے سن دوہزار سات کو سیاحت کا سال منایا جائے گا۔
ان کے مطابق وہ عالمی سیاحت کی تنظیم کے شرکاء سے کہیں گے کہ وہ ’وزٹ پاکستان 2007 ، کو اپنے کیلنڈر میں شامل کریں۔
ادھر وزیِر کھیل اور ثقافت محمد اجمل خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے زلزلے سے متاثر ہونے والے قومی ورثہ اور یادگاروں کو پہنچنے والے نقصان کا سروے شروع کر دیا ہے۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے ’یونیسکو، سمیت دیگر عالمی اداروں نے ثقافتی ورثے کو ہونے والے نقصان کی بحالی کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔