Monday, 30 August, 2004, 23:20 GMT 04:20 PST
علی سلمان
لاہور
لاہور کے نواحی علاقے میں زائد مسافروں سے لدا موٹر سائیکل رکشہ بی آر بی نہر میں جا گرا جس سے پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔
موٹر سائیکل رکشہ رینجرز کے تین اہلکاروں کے زبردستی لفٹ لینے کی وجہ سے اوورلوڈ ہوا تھا ۔
چار افراد نے تیر کر اپنی جان بچا لی لیکن سیر کے لیے آنے والے چار دوست ا ور رینجرز کا ایک سپاہی ڈوب گئے۔
لاہور کے نواح میں دریائے روای کے نیچے زیر زمین راستے بنا کر ایک نہر گذاری گئی ہے اس مقام کو راوی سائفن کہا جاتا ہے۔
لاہور کے علاقے سراج پورہ باغبانپورہ کے رہائشی پانچ دوست اپنے ہی محلے دار ڈرائیور شہباز کے موٹرسائیکل رکشہ پر راوی سائفن کی سیر کر کے لوٹ رہے تھے۔
تھانہ باٹا پور کے محرر کے مطابق ’راستے میں رینجرز کے تین اہلکار بھی اس رکشہ پر سوار ہوگئے۔‘
اس طرح ڈرائیور سمیت اس رکشہ کے مسافروں کی تعداد نو ہوگئی تھی جو اس رکشہ کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں۔
بھینی پورہ کے نزدیک موڑ پر ڈرائیورموٹر سائیکل پر پر قابو نہ رکھ سکا اور یہ موٹر سائیکل رکشہ نہر میں جاگرا۔ زبردستی کے سوار رینجرز کے دو اہلکار اور دو دیگر لڑکے تو تیر کر نہر سے نکل آئے لیکن رینجرز کا ایک اہلکار اور سراج پارک باغبانپورہ کے چار نوجوان دوست ڈوب گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں رکشہ کا ڈرائیور بھی شامل ہے جو اپنے گھرانے کا واحد کفیل تھا۔
پاکستان میں ان دنوں موٹرسائیکل رکشاؤں کی بہتات ہے اور ان کی بیشتر تعداد غیر رجسٹرڈ اور دیہاتی مکینکوں کی تیار کردہ ہیں۔ اس رکشہ کو چاند گاڑی اور پیٹر رکشا بھی کہا جاتا ہے۔ اور عام طور پر موٹرسائیکل کے پیچھے تانگے کی طرز کی گاڑی جوڑ کر سے تیار کیا جاتا ہے۔
موٹرسائیکل چونکہ صرف دو افراد کے وزن اٹھانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے ۔ اس لیے اس کی بریک کا نظام گاڑی اور اس میں لدی سواریوں کے لیے انتہائی ناکافی ہوتا ہے اور نتیجہ حادثات کی شکل میں نکلتا ہے۔