سہیل سانگی
حیدرآباد، سندھ
دو سرکردہ شخصیات کے اغوا کے بعد کراچی سے لے کر کشمور تک ہندو برادری میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
پہلا اغوا لاڑکانہ کے تاجر سنتوش کمار کا ہے جنہیں دو ماہ قبل اغوا کیا گیا تھا۔
دوسرا واقع کپیل شرنگی کا ہے جنہیں پانچ روز قبل کراچی کے کلفٹن کے علاقےمیں سکول جاتے ہوئے اغوا کیا گیا۔
ہیمپٹن سکول میں آٹھویں جماعت کے طالب علم کپیل کا تعلق شہداد کوٹ سے ہے وہ کراچی میں پڑھائی کے لیے کلفٹن کے علاقے میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس کے سامنے بیچ بلیسنگ نامی بلڈنگ میں رہتا تھا۔
کپیل کے اغوا کے اثرات سرحد پار بھی ہوئے ہیں، اس کے نانا، چچا اور دو پھوپھیاں بھارت میں مقیم ہیں۔
نانا نارائن داس نواسے کے اغوا کا صدمہ برداشت نہ کر سکے اور بھارت کے شہر کٹنی میں انتقال کر گئے۔ چچا راجندر کمار دہلی سے کراچی پہنچ گئے ہیں۔ ان کی پھوپھی وینا شرنگی سینئر براڈ کاسٹر ہیں اور اس وقت آل انڈیا ریڈیو میں ڈائریکٹر ہیں جبکہ دوسری پھوپھی شالنی بھی بھارت میں براڈکاسٹر ہیں۔ یوں اس خاندان کی ادب کے حوالے سے بھی ایک پہچان ہے۔
وینا شرنگی نے سندھ کے ادیبوں اور دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بھتیجے کپیل کی بازیابی میں مدد کریں۔ ان کی اس اپیل کے بعد بعض سینئر سندھی ادیبوں نے حکومت سندھ کے اعلی حکام سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کپیل کے والد مہاراج رمیش لال کا کہنا ہے کہ وہ ٹیلیفون پر آنکھیں لگائے پوری پوری رات جاگتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی رابطہ کرے لیکن تاحال کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو وطن میں رہنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
![]() سنتوش اپنے خاندان میں کے چوتھے فرد ہیں جنہیں اغوا کیا گیا ہے |
انہوں نے کہا کہ ہم آخر کہاں جائیں؟ لاڑکانہ میں بدامنی کی وجہ سے بچے کو بہتر تعلیم نہیں دلا سکتے اسے لیے کراچی لے آئے تو یہاں ہم پر یہ قیامت ٹوٹ پڑی۔
لاڑکانہ کے مغوی تاجر سنتوش کمارکےخاندان میں اغوا کی یہ چوتھی واردات ہے۔ ان کے دادا کو تاوان کے لیے اغوا کر کے ڈاکوؤں نے قتل کر ڈالا تھا۔سنتوش کے دو بھائیوں کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ جنہیں بعد میں ڈیل کے ذریعے رہائی نصیب ہوئی۔
سنتوش کمار ہندو پنچائت لاڑکانہ ضلع کے صدر اور چاول کے بڑے بیوپاری ہیں۔ ان کے اغوا کے خلاف چار دن تک نصیرآباد اور گرد و نواح کے قصبے بند رہے۔ چاول کی ڈھائی سو ملیں بطور احتجاج بند رہیں۔احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں روزانہ علامتی بھوک ہڑتال کی گئی۔ ان احتجاجوں کے نتیجے میں دو ڈی پی او بھی معطل ہوئے۔
![]() کپیل کی والدہ کو اس بات کا دکھ ہے کہ اگر وہ کراچی سے نہ جاتیں تو ان کا بیٹا شاید اغوا نہ ہوتا |
ان دو وارداتوں کے علاوہ دو ہفتے قبل حیدرآباد اور کراچی کے درمیان سپر ہائی وے پر واقع تھانہ بولا خان میں ایک سینئر ہندو ڈاکٹر ٹیک چند کو شدید زخمی کردیا گیا تھا جو ابھی تک کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سنتوش کو ایک ڈیل کے تحت رہا کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لاڑکانہ میں قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی رہائی تاوان کی ادائیگی سے ہی مشروط ہے۔
ان واقعات کے خلاف کراچی سے کشمور تک اقلیتی برادری کے لوگ مختلف شہروں میں احتجاج، مظاہرے اور بعض اوقات شٹر ڈاؤن ہڑتالیں بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن تاحال نہ حکومت ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی مغویوں کو رہا کرا سکی ہے۔
کپیل دیو کے اغوا نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ گزشتہ روز سکھر میں بالائی سندھ کی ہندو پنچائتیوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور اغوا کی وارداتوں کی مذمت کی گئی۔ اور فیصلہ کیا گیا کہ ایک نمائندہ وفد صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلی سندھ سے ملاقات کرے گا۔
![]() سندھ کی روایت کے مطابق سیدوں، عورتوں اور بچوں پر مشتمل وفد دریائے سندھ کے کنارے بیٹھا ہے تا کہ اغوائی رحم کھا کر مغویوں کو چھوڑ دیں |
ہندو پنچائت تھانہ بولا خان کے ڈاکٹر ویرسی مل کہتے ہیں کہ ہندؤوں کے خلاف مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
حالیہ ضمنی انتخابات میں وزیر اعظم شوکت عزیز کے مخالف امیدوار مہیش ملانی نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ہندؤوں کے خلاف یہ مظالم جاری رہے تو وہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
ہندو پنچائت سکھر کے صدر ایشورلال جنرل سیکریٹری دیوان چند چاولہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی کلاشنکوف بردار دکان پر پہنچ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک لاکھ روپے دو ورنہ کل اس دنیا میں نہیں رہوگے۔
پروفیسر شمن لال سمجھتے ہیں کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو حکومت کو اغوا برائے تاوان کے لیے انشورنس اور ڈیل کے محکمے قائم کرنے پڑیں گے۔
ہندو پنچائت لاڑکانہ کے نمائندے مکھی لوک چند نے کہا کہ ضیا دور میں جداگانہ انتخابات کا نظام رائج کر کےنفرت کا بیج بویا گیا۔ جس نے لوگوں کو الگ تھلگ کر دیا اور آہستہ آہستہ مقامی بااثر افراد نے ہم پر سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اور ہم اکیلے ہوگئے ہیں اسی کے بعد ہندوؤں کے خلاف کارروائیاں شروع ہوئیں۔