Tuesday, 17 August, 2004, 13:05 GMT 18:05 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں واقع مرکزی لال مسجد اور اس سے ملحقہ لڑکیوں کی دینی تعلیم کے مدرسہ پر پیر اور منگل کی درمیانی رات پولیس نے چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔
تھانہ آبپارہ کے ڈیوٹی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ایک مقدمے میں مطلوب افراد کے وہاں رہائش تھی اور انہیں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماراگیا۔ تاہم انہوں نے چھاپے میں کسی گرفتاری یا کوئی سامان تحویل میں لینے کی تردید کی۔
![]() مدرسے کی طالبات |
لال مسجد کے امام اور مدرسے کے مہتمم عبدالعزیز کے صاحبزادے احسان عزیز نے صحافیوں کو بتایا کہ منگل کو فجر کے وقت پولیس کی بڑی تعداد نے لال مسجد اور مدرسے سے ملحقہ ان کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا اور پولیس زبردستی گھر میں گھسی اور اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے ساتھ تلاشی بھی لی۔
![]() چھاپے میں مدرسے کی تلاشی لی گئی |
جب احسان عزیز سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں تو کئی مدرسے ہیں تو اس مدرسے پر چھاپہ کیوں پڑا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے والد مولانا عبدالعزیز اور چچا غازی عبدالرشید ڈاکٹر عبدالقدیر کی حراست ہو یا اسلام پسندوں کے خلاف کارروائی اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور اسی لیے چھاپہ پڑا۔