نادیہ اسجد
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کراچی کے حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں۔ اس کا احساس مجھے چند دن کراچی میں گزارنے کے بعد ہی ہوا۔ کراچی میں ایک سائنسی نمائش میں شرکت کے لیے گئی تھی ۔ جس دن وہاں پہنچی اس دن ایک بم دھماکے کی اطلاع آئی ۔ یوں تو کراچی جیسے شہر کے لیے یہ معمولی بات ہے مگر یہ سب کچھ جب آپ کے ارد گرد ہورہا ہو اور آپ کو معلوم ہو کہ راستے میں چلتے پھرتے معصوم لوگوں ہی میں سے کچھ ایسی درندگی کا شکار ہوجائیں گے تو خوف کچھ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تو تھا کراچی میں کئی سالوں کے بعد گزارا ہوا پہلا دن۔ دوسرے دن دو دھماکے ہوئے جس میں کئی جانیں گئیں۔
یہاں کے رہنے والے مقامی افراد سے ذکر ہوا تو کہنے لگے معمولی بات ہے، یہ تو ہوتا رہتا ہے۔ لوگ پے درپے پیش آنے والے واقعات سے بے حس یا پھر شاید نڈر ہوتے جارہے ہیں۔
نمائش میں آنے والے غیر ملکیوں کی حیرت کا تو عجیب عالم تھا۔ جب انہوں نے خصوصی طور پر فراہم کی گئی بس سروس کے پیچھے موبائیل پولیس سکواڈ دیکھا تو ان کے چہروں پر خوف کے تاثرات تھے۔ کچھ نے تو کئی تصاویر کھینچ کر موقع کی نزاکت کو اپنے پاس محفوظ کرلیا۔
شہر میں ہر طرف پولیس موبائیل، رینجرز اور سکیورٹی کے دیگر اہلکار نظر آئے۔ لوگ کم اور پولیس زیادہ۔رہائشی علاقوں کی گلیوں کے باہر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں تاکہ گاڑیاں گلیوں میں داخل نہ ہوسکیں اور شاید اس طرح دھماکے کچھ کم ہوسکیں۔ ایسی رکاوٹیں میں نے شہر میں دس سال پہلے دیکھی تھیں جب میں یہاں آئی تھی۔ افسوس سا ہوا کہ کچھ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ ویسی سی سکیورٹی، وہی رکاوٹیں، وہی رینجرز اور وہی الطاف حسین کی تصویریں ۔
سکیورٹی کے اتنے انتظامات پاکستان کے کسی اور شہر میں نہیں ہیں مگر پھر بھی سکیورٹی کی خلاف ورزی کیسے ہوجاتی ہے۔ یہ نہیں معلوم ہوسکا۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے تو شاید پھر یہ مسئلہ سرے سے ہی ختم ہوجائے۔