Sunday, 08 August, 2004, 22:48 GMT 03:48 PST
علی سلمان
لاہور
اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے سربراہ اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیاسی لیڈروں کی اچھا کردار پیش کرتے ہیں لیکن ہماری فلم دلیپ کمار اور امیتابھ بچن جیسی اداکاری کے باوجود ناکام ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی منظر نامے پر کئی بار تاج محل بنانے کی کوشش کی گئی لیکن ہر بار ایک ظالم شخص آ کر اسے مٹی کا ڈھیر بنا دیتا ہے اور پھر ان مٹی کے ڈھیروں کو باہر رکھ کر کہتا ہے کہ انہیں تاج محل مانو۔
وہ اتوار کو لاہور میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر کی کتاب ’ہاؤ ٹو بی اے لیڈر‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب کے مہمان خصوصی بھارتی اداکار و رکن پارلیمان راج ببر تھے۔
مخدوم امین فہیم نے کہا کہ راج ببر ایک جمہوری ملک، بھارت سے آئے ہیں یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ وہاں تاج محل بھی ہے اور وہ خود ایک ایسے جہموری ملک کی اسمبلی کے رکن ہیں جہاں آئین بھی موجود ہے اور اس پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ کاش ہم (پاکستانی) بھی آپ ( بھارتیوں) سے سیکھیں کہ جمہوریت کیا ہوتی ہے‘۔
مخدوم امین فہیم نے پاکستان کے سیاسی حالات اور انتخابات کے عمل کو ایک فلم سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں بڑی سیاسی کوششوں اور محنت کے بعد ایک’ سیاسی فلم‘ تیار کرتے ہیں اس کے کردار بھی اچھے اور جاندار ہوتے ہیں اور اس میں بڑے لیڈر، ہیرو اور اچھے ڈائریکٹر ہوتے ہیں لیکن فلم تیار ہوکر باکس آفس پر فیل ہو جاتی ہے۔ صرف اس لیے کہ اس پر ناجائز ٹیکس اور غیر قانونی بندشیں لگائی جاتی ہیں۔
![]() اداکار اور پارلیمنٹیرین راج ببر کتاب کی رونمائی میں شرکت کے لیے خاص طور پر لاہور گئے |
انہوں نے کہا کہ یہاں اندھے قانون بنائےجاتے ہیں۔فاؤل پلے ہوتا ہے اور قانون اور آئین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔
اس موقع پر انہوں نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ الیکشن کمیشن ربڑ سٹمپ بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود اتحاد برائے بحالی جمہوریت ضنمی انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گا۔
بھارتی اداکا راج ببر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت دو ہمسائے ہیں دوست اور دشمن کو تو چھوڑا جا سکتا ہے لیکن ہمسائے کو نہیں چھوڑا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمسایہ اگر تجاوز کرے، گھر کے سامنے کوڑا پھینکے یا نالہ غلط جگہ پر بنائے تو تکلیف تو ہوتی ہے۔اس لیے ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمسائے سے دوستی میں فائدہ ہے یا دشمنی میں۔
انہوں نے کہ ان کے خیال میں ہمسائے سے دوستی ہو تو معاملات بہتر رہتے ہیں۔
اردو زبان کا ذکر کرتے ہوئے انےہوں نے کہا کہ بھارت کے کچھ علاقوں میں بعض لوگ اسے مذہبی زبان قرار دیتے ہیں ایسا کہنے سے زبان کو نقصان پہنچتا ہے انہوں نے کہا کہ وہ اسے انسان کی زبان قرار دیتے ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف قاسم ضیا نے کہا کہ دونوں اطراف کے بعض اراکین پارلیمان تو ملنا چاہتے ہیں لیکن پائیدار امن تب ہی ہوگا جب عوام کا دل ملے گا۔