Wednesday, 14 July, 2004, 07:58 GMT 12:58 PST
علی سلمان
لاہور
حکومت پنجاب نے لاوڈ سپیکر پر پابندی کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور صوبہ بھر کے پولیس افسران کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں اس قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مساجد کی نگرانی کریں۔
صوبائی وزیر قانون وبلدیات راجہ بشارت نےپنجاب کے تمام ضلعی پولیس افسران کو ایک مراسلہ بھجوایا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ لاوڈ سپیکر پر عائد پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جاۓ اور آذان اور خطبہ جمعہ کے علاوہ لاوڈ سپیکر کے غیر ضروری استعمال کی ہر گز اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ہدائت کی کہ وہ علماءکرام اور مذہبی خطیبان سے قریبی رابطہ رکھیں اور ان کی مشاورت سے صوبہ میں امن وامان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھیں ۔
انہوں نے ایک بیان میں علماء سے بھی اپیل کی کہ وہ نماز جمعہ کے خطبات میں ایسی تقاریر سے گریز کریں جن سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہو۔ان کا کہناتھا کہ علماء فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہاکہ حکومت پنجاب نے مساجد کے باہر ایسے کسی بھی لٹریچر اور پمفلٹ وغیرہ کی تقسیم پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں کسی دوسرے فرقہ کے خلاف اشتعال انگیز باتیں لکھی گئی ہوں۔
مبصرین کے مطابق پاکستان میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے بعض افراد کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد کے سنگین واقعات بھی رونما ہوتے رہتےہیں۔
خاص طور پر شیعہ اور سنی فرقہ کی بعض کالعدم تنظیموں کے انتہا پسند ارکان ایک دوسرے پر تشدد آمیز حملے کرتے ہیں جن میں انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے ۔