Friday, 09 July, 2004, 20:16 GMT 01:16 PST
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان سن انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی جغرافیائی حدود کی بنیاد پر اسرائیل کو ایک حقیقت تصور کرتا ہے۔
آذربائیجان کی پارلیمنٹ سے جمعہ کو خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کا بھی حامی ہے جو اسرائیل کے ساتھ امن اور ہم آہنگی سے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کا حل دنیا میں انتہا پسندی کو روکنے میں مدد کرے گا۔
مشرف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دنیا میں تنازعات کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی مدد کرے اس لیے کہ زیادہ تر لڑائی جھگڑے اسلامی دنیا میں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ یہ محاذ بند کیے جائیں۔
انہوں نے کشمیر کے حل پر بھی زور دیا اور کہا کہ کشمیر کے زخم کئی دہائیوں سے رس رہے تھے۔ اب خوشی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں اور ان کے ساتھ کشمیری عوام نے اس مسئلے کے پر امن حل کی حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر خلوص اور لچک دار رویے کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کے خلاف جرات مندانہ اقدام کی ضرورت ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے راستے اور بات چیت کے دروازوں کو کھلا رکھنا اور اس کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔ اور اس مسئلے کے حل سے دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی میں مدد ملے گی۔
جنرل مشرف نے آرمینیا کے ساتھ نگورنو کاراباخ کے تنازع میں آذربائیجان کی حمایت کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کا اس کے تمام علاقوں پر قبضہ بحال ہونا چاہیے۔