Sunday, 04 July, 2004, 21:27 GMT 02:27 PST
ریاض سہیل
حیدر آباد
سندھ میں زرعی پانی کی چوکیداری کے لیے رینجرز پہنچ گئی ہے- حکومت سندھ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے جمڑاؤ - مٹھڑاؤ کینالوں اور سکھر ریجن میں نہروں اور شاخوں ( واٹر ویز) پر رینجرز تعینات کردی گئی ہے-
سندھ میں پانی کی قلت اور اس کے ساتھ بااثر زمینداروں کی جانب سے پانی کی چوری کی بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے-
صوبے میں پانی کی قلت کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہوتے رہے ہیں-
چیف انجنیئر سکھر بیراج نورمحمد شاھ نے آن لائن کو بتایا کہ نارا کینال میں پانی کی قلت کے بعد درست تقسیم نہیں ہو رہی تھی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے- انہوں نے کہا کہ رینجرز صرف نگرانی کرے گی-
یاد رہے کہ میرپورخاص ضلع میں وزیراعلی سندھ کی زمینیں ہیں جو کہ ٹیل پر واقع ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت کا شکار رہی ہیں- مشہور کاچھیلو فارم کے مالکان نے دوسرے کاشتکاروں کے ساتھ ملکر پانی کی کمی کے خلاف پچھلے دنوں تین روز تک روڈ بلاک کیا تھا-
![]() سندھ میں پانی کے حصول کے لیے خون خرابہ اور اسلحہ کا استعمال بھی عام بات ہے |
سکھر ریجن میں شہباز رینجرز کے اہلکاروں نے نہروں اور شاخوں پر گشت شروع کردیا ہے- شہباز رینجرز کے میجر عدنان کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ان کے کمانڈنٹ کی محکمہ آبپاشی کے سینئر افسران سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے چوری والے مقامات کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں- تاہم انہوں نے بتایا کہ رینجرز کے اہلکار آبپاشی اہلکاروں کے ساتھ گشت کرینگے-
میرپورخاص اور سانگھڑ اضلاع کی زمینوں کو سیراب کرنے والی نہر جمڑاؤ کینال سے پانی کی چوری روکنے کے لیے رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے- رینجرز کے افسران نے حیدرآباد سے میرپورخاص پہنچ کر کینال کا معائنہ کیا- اور متعلقہ افسران سے بریفنگ لی-
![]() سندھ میں پانی پر احتجاج اور دھرنا ـذبات کا اظہار ہی نہیں سیاست کا حصہ بھی ہے |