Friday, 02 July, 2004, 08:59 GMT 13:59 PST
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں علاقائی سلامتی فورم میں شرکت کے لیے آئے ہوئے پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ نے ملاقات کی ہے جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بات کی گئی ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان گزشتہ پندرہ دن کے دوران یہ دوسری ملاقات ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان امن کے عمل کے فروغ کو ظاہر کرتی ہے۔
نٹور سنگھ اور خورشید قصوری کے درمیان یہ ملاقات دس منٹ جاری رہی۔
بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا ’ہم نے اپنی بات چیت کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ اور ہم اسلام آباد میں اسے اور آگے لے جائیں گے جس کے بعد ہم نے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری کو اگست میں نئی دہلی کے دورے کی دعوت دی ہے جس سے اس سلسلے میں مزید پیش رفت ممکن ہوسکے گی‘۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا جمعہ کے مذاکرات کے بعد امن کے عمل کے بارے میں پر امید ہیں تو انہوں نے کہا ’میں مذاکرات کو منفی یا مثبت نہیں کہوں گا۔ انسان کو حقیقت پسند ہونا چاہیے‘۔
علاقائی سلامتی فورم میں پاکستان کو چوبیسواں رکن ملک چنا جا رہا ہے۔ بھارت نے ابتدائی طور پر اس فورم میں پاکستان کی شرکت کی مخالفت کی تھی لیکن بعد میں اس نے یہ رویہ ترک کر دیا۔
فورم کے عمومی ایجنڈے سے ہٹ کر پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید قصوری اور ان کے بھارتی ہم منصب کے درمیان ملاقات دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔
حال ہی میں دونو وزارئے خارجہ کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ کراچی اور ممبئی میں قونصلیٹ کھول دیئے جائیں۔