Saturday, 26 June, 2004, 14:17 GMT 19:17 PST
انور سِن رائے
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
میر ظفر اللہ جمالی کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں انیسویں وزیراعظم کا باقاعدہ دور ختم ہو گیا۔ ان سے پہلے قیام ہاکستان سے ظفر اللہ جمالی کے وزیر بننے تک اٹھارہ وزیراعظم آئے ہیں جن میں سے چار نگراں وزیرِ اعظم تھے۔
پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان تھے جو پندرہ اگست انیس سو سینتالیس سے سولہ اکتوبر انیس سو
![]() ذوالفقار علی بھٹو مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد وزیراعظم بنے اور آخر فوج کی ہوسِ اقتدار کا نشانہ بن گئے |
خواجہ ناظم الدین 19اکتوبر1951 سے 17 اپریل 1953 تک۔
محمد علی بوگرہ 17 اپریل1953 سے 11 اگست 1955 تک۔
چوہدری محمد علی 11 اگست 1955 سے 12ستمبر 1956 تک۔
حسین شہید سہروردی 12 ستمبر 1956 سے 11 اکتوبر 1957 تک۔
آئی آئی چندریگر 18 اکتوبر 1957 سے 11 دسمبر 1957 تک۔
ملک فیروز خاں نون 16دسمبر 1957 سے 17 اکتوبر 1958 تک۔
جنرل محمد ایوب خان 27 اکتوبر 1958 سے 28 اکتوبر 1958 تک۔
صدر اسکندر مرزا نے مارشل لاء لگانے والے بری فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کو وزیرِاعظم مقرر کیا جنہوں نے حلف اٹھانے کے کچھ ہی گھنٹے کے بعد اسکندر مرزا کو سبکدوش کر کے اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا اور وزیرِاعظم کا عہدہ ہی ختم کر دیا۔
![]() نواز شریف فوج کے ذریعے سیاست میں آئے اور فوج ہی نے انہیں سبکدوش کر دیا |
صدر غلام اسحاق خان نے 18اپریل 1993 کو محمد نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو بھی توڑ دیا تاہم سپریم کورٹ نے صدر کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دے کر محمد نواز شریف کی حکومت بحال کر دی۔
مبصرین کے مطابق اس کے باوجود صدر اسحاق اور وزیرِاعظم نواز شریف کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف نے مداخلت کی اور صدر اور وزیرِاعظم دونوں کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ جس کے بعد صورتِ حال کچھ یوں رہی۔
معین الدین قریشی ( نگراں ) 18 جولائی 1993 سے 19اکتوبر 1993 تک۔
بے نظیر بھٹو 19 اکتوبر 1993 سے 5 نومبر 1996 تک۔
ملک معراج خالد ( نگراں ) 5 نومبر 1996 سے 17 فروری 1997 تک۔
محمد نواز شریف 17فروری 1997 سے 12اکتوبر 1999 تک۔
میر ظفر اللہ جمالی نے 32 نومبر 2002 کو حلف اٹھایا اور 26 جون 2004 کو مستعفی ہو گئے۔