Monday, 14 June, 2004, 14:08 GMT 19:08 PST
کراچی میں کور کمانڈر کے قافلے پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث جند اللہ تنظیم کے آٹھ اراکین کو پیر کو عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔
کور کمانڈر پر حملے کے علاور دہشت گردی کی دیگر کئی وارداتوں میں ملوث ان آٹھ ملزمان کی گرفتاری کا اعلان اتوار کے روز اسلام آباد میں کیا گیا تھا۔
کراچی کی عدالت نے ان ملزمان کو چودہ روز کے ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
عدالت کے باہر جند اللہ کے مبینہ سرغنہ عطاء رحمان نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہوں نے کسی واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے اتوار کو دعوی کیا تھا کہ جند اللہ تنظیم کے ارکان نےجن کا القاعدہ سے بھی رابط ہے وزیرستان کے صدر مقام وانا میں قائم کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی۔
وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے انکشاف کیا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں القاعدہ کا ایک تربیتی مرکز قائم تھا اور یہاں پر ایک فائرنگ رینج بھی واقع تھی۔
ملک بھر میں کی جانے والی کارروائی میں جس کا اعلان اتوار کو اسلام آباد میں کیا گیا تھا کل گیارہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور اس میں القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کے بھتیجے موصعب الروچی بھی شامل ہیں۔
موصعب الروچی کی گرفتاری پر امریکی حکام نے دس لاکھ امریکی ڈالر کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔