Tuesday, 08 June, 2004, 09:17 GMT 14:17 PST
صوبہ سندھ کے گورنر عشرت العباد نے گزشتہ روز وزیراعلی علی محمد مہر کے مستعفی ہوجانے کے بعد صوبائی کابینہ تحلیل کر کے بدھ کے روز اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
بدھ کو ہونے والے اسمبلی کے اجلاس میں نئے قائد ایوان کا انتخاب کیا جائے گا۔
اگرچہ سرکاری طور پر کہا گیا ہے کہ مسٹر مہر نے ذاتی وجوہ کی بنا پر استعفٰی دیا ہے۔ تاہم گزشتہ ماہ کراچی میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد ان پر دباؤ تھا۔
ابھی تک صوبے کی وزارت اعلی کے منصب کے لئے کسی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن مبصرین اس سلسلے میں تھرپارکر سے رکن صوبائی اسمبلی ارباب رحیم کا نام تواتر سے لے رہے ہیں۔
اہل تشیع کی دو مساجد میں خودکش دھماکوں، ایک سنّی عالم کی ہلاکت، امریکی کونصلیٹ جنرل کی رہائش گاہ کے قریب کار بم دھماکے اور شہر میں تین دن تک جاری رہنے والے فسادات میں مجموعی طور ہر اکیاون افراد ہلاک ہوئے۔
صدر جنرل مشرف نے کہا تھا کہ وہ سندھ میں امن و امان کی بحالی کے لئے غیرمعمولی اقدامات کریں گے۔
کراچی پولیس کے سربراہ کو گزشتہ ہفتے تبدیل کر دیا گیا تھا۔