Wednesday, 12 May, 2004, 11:56 GMT 16:56 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی اراکین کے اندراج کے قضیے کے حل کی ایک مرتبہ پھر امید پیدا ہوئی ہے۔
صدر مقام وانا میں بدھ کو ایک جرگے میں حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت معافی پانے والے قبائلی جنگجو نیک محمد اور ان کے ساتھیوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ غیرملکیوں کے اندراج کے لئے آمادہ ہیں۔
انہوں نےاس امید کا اظہار کیا کہ یہ عمل جمعے کے روز سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں شروع کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اندراج کا یہ کام ایک قبائلی سردار ملک خانزادہ کے مکان میں شروع ہوگا۔
جرگے میں مقامی انتظامیہ کے اہلکار، اراکین قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک اور مولانا معراج الدین اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
البتہ اس اعلان کے بارے میں ابھی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اس سے قبل منگل کے روز احمدزئی وزیر قبیلے کی جانب سے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی ارکان کے خلاف کارروائی کے لئے دو ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر کی تشکیل حسب اعلان نہیں ہوسکی تھی۔
قبائلی سرداروں نے لشکر کی تشکیل سے پہلے مسئلے کے حل کے لئے بظاہر آخری کوشش کے طور پر مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا تھا۔