یوں تو پاکستان بھر میں آزادی سے صحافت کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں، لیکن ملک کے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں آزاد صحافت کچھ زیادہ ہی شجرِ ممنوعہ ثابت ہوئی ہے۔
پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں میں بظاہر مخصوص حالات میں ایک خاص قسم کی ہی صحافت ہو رہی ہے جو مبصرین کے خیال میں آزادی سے کوسوں دور ہے۔
کمال فن |
قلم کے جفاکشوں کے ان مسائل پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے سربراہ اور بزرگ صحافی سیلاب محسود کہتے ہیں کہ قبائلی معاشرہ حساس ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ بھی ہے۔ سرکاری پابندیاں تو ہیں ہی، بعض اوقات اپنے رشتہ دار بھی جانی دشمن ہوجاتے ہیں۔ ”ایسے حالات میں قبائلی صحافی انتہائی مشکل اور کٹھن صورتحال سے دوچار ہے۔”
سیلاب خود بھی پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر سات مرتبہ جیل جاچکے ہیں اور ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں جان کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے حالات میں ان علاقوں میں آزاد صحافت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب حکومت اس جانب توجہ دے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرے۔
نمائیندہ برائے فروخت |
”بڑی شرم کی بات ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ کئی صحافی ان پڑھ ہیں۔ وہ گروہوں کی شکل میں کام کرتے ہیں: ایک خبر لکھتا ہے اور چار پانچ اپنا اپنا نام لگا کر اپنے اپنے اخبارات کو بھیج دیتے ہیں۔ میں خود ایسے صحافیوں کو جانتا ہوں جو اشتہاری مجرم رہ چکے ہیں۔”
ان سے پوچھا گیا کہ قبائل میں صحافت کتنی آزاد ہے تو انہوں نے کہا ”ففٹی ففٹی”۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر قبائلی صحافت پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے گرد گھومتی ہے۔
اسی قسم کا الزام شمالی وزیرستان کے ایک صحافی بھی مقامی انتظامیہ پر لگاتے ہیں۔ حیات اللہ خان نے بتایا کہ آجکل اخبارات، خاص طور پر اردو روزنامے، صحافی سے اس کی بطور نمائندہ تعیناتی کے لئے بھاری رقوم کا تقاضا کرتے ہیں۔ ”غریب آدمی تو یہ نہیں دے سکتا تو مقامی انتظامیہ اپنے من پسند شخص کی جگہ یہ رقم ادا کرتی ہے تو ایسے میں یہ صحافی کیا رپورٹنگ کرے گا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ناپسندیدہ خبر کی اشاعت پر گرفتاری عام ہے۔”
صحافی کو نصیحت |
گورنر سرحد سے جب قبائلی علاقوں میں آزادی صحافت کے بارے میں استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں مکمل آزادی ہے۔ ”ملک میں جتنی آزادی صحافت آج ہے ماضی میں کبھی نہیں تھی۔” تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایک حساس علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے صحافیوں کو ملکی سلامتی کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔