آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سندھی ادبی بورڈ کا مونو گرام کلچر کی عکاسی کرتا ہے یا کسی مذہب کی؟
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکومت کے زیر انتظام سندھی ادبی بورڈ کا مونو گرام کلچر کی عکاسی کرتا ہے یا کسی مذہب کی؟ ادبی بورڈ نے حال میں اپنے مونو گرام سے بیل کو ہٹاکر سندھ کا نقشہ کردیا ہے۔ اس فیصلے پر سندھ میں ادیبوں، شاعروں اور سیاسی کارکنوں کا احتجاج جاری ہے اور اس کو رجعت پسندانہ فیصلہ قرار دیا جارہا ہے۔
ادبی بورڈ قیام پاکستان سے پہلے بھی موجود تھا
سندھی ادبی بورڈ ان چند ادبی علمی اداروں میں شامل ہے جو قیام پاکستان سے بھی پہلے سے موجود تھے۔ جس کے بانی قوم پرست رہنما جی ایم سید تھے۔ 1940 میں جب جی ایم سید صوبائی وزیر تعلیم تھے تو انھوں نے سندھی ادب کے فروغ کے لیے مرکزی معاون بورڈ تشکیل دیا تھا، جس میں اس وقت کے سکالرز اور ادیب شامل تھے جو ہندو اور مسلم دونوں کمیونٹیز سے تعلق رکھتے تھے۔ اس ادارے کا دفتر موجودہ این جی وی ہائی سکول میں قائم کیا گیا تھا۔
پاکستان کے قیام کے بعد سندھی ادب اور تاریخ کی تحقیق اور تالیف کے لیے یہ ادارہ جاری رکھا گیا 1951 کو اسے سندھ ادبی بورڈ کا نام دیا گیا، اس کی رجسٹریشن خیرپور ریاست میں کرائی گئی اور اگلے چند سالوں میں اس کو مکمل خود مختار ادارا بنادیا گیا۔
ادبی بورڈ کا دفتر کراچی سے حیدرآباد منتقل کیا گیا اور یہ سروری جماعت کے روحانی پیشوا، شاعر اور سینئر سیاست دن مخدوم محمد زمان طالب المولی کی رہائش گاہ میں قائم رہا، طالب المولی سندھ کے نامور شاعر رہے ہیں ان کے بیٹے اور گدی نشین مخدو فہیم الزمان بھی شاعری کرتے تھے ۔
حیدرآباد سے ادبی بورڈ کو سپر ہائی وے پر ایک نئی عمارت میں منتقل کیا گیا جہاں ایک بڑے رقبے میں یہ موجود ہے، اس کی سربراہی زیادہ تر پروگریسو طبقے کے ادیبوں کے پاس رہی ہے۔ بورڈ کی ذمہ داری میں سندھی لغت کی تیاری، لوک ادب، قدیم ادب، سندھ کی تاریخ کو فروغ دینا ہے شامل ہے، اس وقت تک یہ ادارہ 6500 کے قریب کتابیں شائع کرا چکا ہے اور ادارے کی جانب سے خواتین، بچوں سمیت تین ادبی جرائد شایع ہوتے ہیں جبکہ اس کی ویب سائیٹ پر بھی یہ کتابیں دستیاب ہیں۔
بیل والا لوگو تبدیل اور بورڈ کا جھنڈا
سندھی ادبی بورڈ کے موجود چیئرمین مخدوم سعید الزمان ہیں جو مخدو طالب المولی کے فرزند ہیں، انھوں نے سربراہی سنبھالنے کے بعد بورڈ کے لیے آسمانی رنگ کا ایک جھنڈہ بنانے اور لوگو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور دونوں فیصلوں پر عملدرآمد کردیا گیا۔
مخدوم سعید الزمان سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا موقف سامنے نہیں آسکا تاہم بورڈ کے سیکریٹری سکندر شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگو تبدل کرنے کا فیصلہ بورڈ آف گورنرز کے پاس ہے جو مجاز اور با اختیار ادارہ ہے، اس سے قبل بھی بورڈ کا لوگو تبدیل ہوتا رہا جس میں معصوم شاہ کا منارہ تو کبھی ’س ا ب‘ تحریر کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’سندھ کا نقشہ سندھ کی عکاسی کرتا ہے جو مروج اور مقبول ہے چونکہ یہ سندھ کا ادارہ ہے اسی لیے نقشے کو لوگو بنایا گیا ہے۔‘
کیا فیصلہ مذہبی بنیادوں پر کیا گیا ہے؟
ادبی بورڈ کے چیئرمین مخدوم سعید الزمان سروری سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں جس کی بنیاد مخدوم نوح سرور نے رکھی تھی ہالا میں ان کی درگاہ واقع ہے، سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ بیل کے لوگو کو ہٹانے کے پیچھے مذہبی بنیاد ہے۔
ادبی بورڈ کے سیکریٹری سکندر شاہ کا کہنا ہے کہ موھن جو دڑو کی مہر والے لوگو کو ہٹانے کے پیچھے مذہبی سوچ نہیں ہے۔ ’ویسے بھی جو مذہبی کتابیں شایع کی جاتی ہیں اس پر یہ لوگو نہیں لگایا جاتا ہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کب سے عمل کیا گیا ہے تو انھوں نے بتایا کہ کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب ماضی میں شائع ہونے والی کچھ مذہبی کتابوں پر بیل والا یہ مونو گرام موجود ہے۔
سندھ کے ادیب اور دانشور تاج جویو نے مخدوم سعید الزمان کو ایک خط تحریر کرکے اس فیصلے پر احتجاج کیا اور سوال اٹھایا ہے کہ کہیں اس فیصلے میں ادبی بورڈ کے قدامت پسند اراکین کا ہاتھ تو نہیں۔
انھوں نے لکھا ہے کہ ’بیل کے لوگو کا مونو گرام 1958 سے زیر استعمال ہے جو سندھ کے نامور مصور ع ق شیخ نے بنایا تھا، 2022 کے ابتدائی مہینوں میں جو جرائد شایع ہوئے ان پر یہ مونو گرام شامل تھا بعد میں اپریل میں اس کو ہٹاکر سندھ کا نقشہ دے دیا گیا ہے وہ اس کو لالی پاپ سمجھتے ہیں تاکہ بیل کا لوگو ہٹانے کی مخالفت نہ ہوسکے۔‘
بیل کا سندھ کی تہذیب سے کیا تعلق ہے؟
وادی مہران کی 4500 سال پرانی تہذیب۔ موئن جو دڑو کے کھنڈرات سے ملنے والی مہروں میں بیل کی مہر بھی شامل ہے، سندھی لینگوئج اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اسحاق سمیجو کہتے ہیں کہ بیل کی علامت کا تاریخی اور شعوری پس منظر ہے، موئن جو دڑو کے لوگوں نے بیل کی مہر اسی وجہ سے ہی بنائی تھی کیونکہ ان کے پاس بیل صرف ایک جانور کے طور پر نہیں تھا بلکہ ان کے معاشرتی اور معاشی زندگی میں سب سے معاون و مددگار تھا اور دوست تھا۔
’بیل جنگلی، زرعی سماج اور آج کے صنعتی دور میں بہ انسانوں کے ساتھ گھر کے افراد کی طرح رہتا ہے جن لوگوں نے ادبی بورڈ کے لوگو میں موئن جو دڑو کے بیل کو شامل کیا تھا ان کے پاس ایک سوچ تھی، اس لوگو میں سے بیل کی بیدخلی سندھ کے قدیم تہذیبی سفر، فطرت سے محبت اور ترقی سے انحراف ہے اس سے بڑی بدقسمتی ہوئی نہیں سکتی۔‘
ادیب اور دانشور تاج جویو کہتے ہیں کہ موئن جو دڑو اور اس میں سے ملنے والے سندھی بیل اور قدیم سندھی اسکرپٹ کی مہر والا لوگو سندھ کی تہذیب کی علامت ہے اس کی تبدیلی کے پیچھے کیا محرک ہیں؟ کہیں کسی کی خوشنودی اور رضامندی کے لیے تو یہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ موئن جو دڑو ہندوؤں کا شہر اور بیل ان کی نشانیگ‘
یہ بھی پڑھیے
احتجاج اور سوشل میڈیا پر مہم
سندھی ادبی بورڈ کے چیئرمین کے فیصلے کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے حیدرآباد میں بھوک ہڑتال کی گئی جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ری پلس مونو گرام آف ادبی بورڈ کے ہیش ٹیک سے مہم چلائی گئی جبکہ فیس بک سمیت دیگر ایپس پر بحث جاری ہے۔
ٹوئٹر پر راجہ ساند کا کہنا تھا کہ ’سندھی ادبی بورڈ کا لوگو تبدیل کرنے کے پیچھے ایک مخصوص ذہنیت ہے، آئیے ہم سب مل کر سندھ کی شناخت (موئن جو دڑو) کو بچائیں اور اصل لوگو کی بحالی کے لیے آواز بلند کریں۔‘
مکیش راجہ لکھتے ہیں کہ ’دنیا موہن جو دڑو کا رسم الخط پڑھنا چاہتی ہے اور سندھی ادبی بورڈ کے متعصب چیئرمین نے اس رسم الخط کی مہر کا لوگو ہٹا دیا کیونکہ اس میں بیل ہے اور وہ اس بیل والے لوگو سے مذہبی کتابیں نہیں چھاپ سکتے۔‘
اسد اللہ درانی نے لکھا کہ ’بیل کا لوگو ہمارا ثقافتی نشان ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، مذہبی جماعتوں نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ موئن جو دڑو کی تمام نوادرات عالمی ورثہ ہیں جو خصوصی طور پر سندھ سے تعلق رکھتی ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے۔‘
صحافی اور کالم نویس دودو چانڈیو لکھتے ہیں کہ ’بیل کا لوگو تبدیل کرنے پر اس وجہ سے بھی اعتراض ہے کیونکہ اس کی تبدیلی کا جو جواز پیش کیا گیا ہے وہ احمقانہ ہے کہتے ہیں کہ موئن جو دڑو ہندؤں کا شھر تھا اور بیل ان کی نشانی ہے لہٰذا اس لوگو کے ساتھ مذہبی کتابیں کیسے شائع ہوں اگر یہ بات انھیں ہضم ہوگئی تو 14 سو سال قدیم تاریخ کو یہ ہندو کی تاریخ دیکر مسخ کردیں گے۔‘
الاھی بخش سموں نے لکھپا کہ ’سندھ حکومت ادبی بورڈ میں قدامت پسند لوگوں کی جگہ ترقی پسند اور سیکولر لوگوں کو شامل کرے۔‘