آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی: جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چار ججوں کے نام مسترد ہوئے یا فیصلہ مؤخر ہوا؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی تعیناتی سے متعلق گزشتہ روز ہونے والے سپریم جوڈیشل کے اجلاس میں ہونے والی کارروائی کے بعد جاری ہونے والے بیان سے ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔
گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کیے گئے ناموں کو منظوری نہیں مل سکی تھی۔
جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جمعرات کو ہونے والے اجلاس کے بعد سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے تجویز دی تھی کہ جن کے نام سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لیے پیش کیے گئے تھے ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اجلاس کو مؤخر کر دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کی اس تجویز سے ان کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بھی اتفاق کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے اس اعلامیے کے برعکس اس اجلاس میں شریک ایک رکن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے معاملے کو سپریم جوڈیشل کمیشن کے اگلے اجلاس تک ملتوی کیا گیا جبکہ پاکستان کے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کیے گئے باقی چار نام کثرت رائے سے مسترد کیے گئے تھے۔
سپریم جوڈیشل کمیشن کے رکن اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیشن کا اجلاس تین گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہا اور اس اجلاس میں چیف جسٹس کی طرف سے پیش کیے گئے ہر نام پر تفصیلی غور کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس بارے میں جب رائے شماری ہوئی تو ان کے نام کثرت رائے سے مسترد کر دیے گئے جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے معاملے پر غور کرنے کے لیے اس کو اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کمیشن جن ججز کے ناموں کو مسترد کر دے انھیں دوبارہ کمیشن کے اجلاس میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں شریک رکن کے مطابق کمیشن کے رکن جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے سندھ ہائی کورٹ کے جج نعمت اللہ پھلپھوٹو کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی مخالفت کی تھی اور انھوں نے جسٹس عقیل عباسی کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی حمایت کی تھی۔
اس رکن کے مطابق کمیشن کے اجلاس میں پیش کیے گئے ناموں کے مسترد ہونے کے بعد چیف جسٹس کوئی ہدایات جاری کیے بغیر اور اجلاس کے منٹس کو حتمی شکل دینے سے متعلق کوئی احکامات جاری کیے بغیر اٹھ کر چلے گئے جبکہ ان کے جانے کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی اٹھ کر چلے گئے۔
اجلاس میں شریک رکن کے مطابق اس اجلاس میں اکثریتی ارکان کی یہ تجویز دی تھی کہ سنیارٹی کو کسی طور پر نظر انداز نہیں ہونا چاہیے اور اگر کسی جونیئر جج کو سینئیر جج پر ترجیح دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں تعینات کرنا ہے تو اس کی ٹھوس وجوہات ہونے کے ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط بھی ہونے چاہیے۔
اس رکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید اور دوسرے نمبر کے جج کی سنیارٹی میں ایک دن کا فرق ہے جس کی وجہ سے ان کا نام جوڈیشل کمیشن کے اگلے اجلاس میں مؤخر کرنے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے۔
اس سے قبل سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کا معاملہ اس بنیاد پر کمیشن کے اگلے اجلاس میں بھیج دیا گیا کیونکہ اس کے حق میں اور مخالفت میں چار چار ووٹ آئے تھے۔
جمعرات کو ہونے والے سپریم جوڈیشل کمیشن کے اس اجلاس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایک خط بھی سامنے آیا ہے جو کہ انھوں نے پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ اس کمیشن کے دیگر ارکان کو تحریر کیا۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ ان کے علاوہ جسٹس سردار طارق مسعود، وزیر قانون، اٹارنی جنرل کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے رکن نے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کیے گئے چار ججز کے نام مسترد کر دیے ہیں ان میں سندھ ہائی کورٹ کے تین جبکہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک جج شامل ہے۔
اس کے علاوہ اس خط کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نہ تو سینئیر جج یا اور نہ ہی ملک کی دیگر ہائی کورٹس کے دیگر چیف جسٹس صاحبان سے سینئیر ہیں، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ اس بارے میں مزید معلومات اور دیگر ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کا ڈیٹا بھی طلب کیا جائے گا۔
اپنے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران چیف جسٹس نے اپنے فیصلے ڈکٹیٹ نہیں کروائے اور جلدی میں اجلاس چھوڑ کر چلے گئے جبکہ ان کے پیچھے جسٹس اعجاز الااحسن بھی اجلاس سے چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ عوام کی نظریں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر تھیں اور یہ ان کا آئینی حق ہے کہ انھیں معلوم ہو کہ اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا کہ سپریم جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری جو آج کل چھٹیوں پر ہیں، ان کی جگہ قائم مقام سیکرٹری مقرر کیا جائے، جو اس اجلاس کے منٹس لکھ کر میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے اس سے قبل بھی 25 جولائی کو چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا گیا تھا جس میں ان سے درخواست کی گئی تھی کہ چونکہ وہ بیرون ملک ہیں اس لیے سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر دیا جائے تاہم ان کی اس استدعا کو منظور نہیں کیا گیا تھا۔
جوڈیشل کمیشن کے اس اجلاس میں شریک رکن کے مطابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف جو کہ بیرون ملک تھے اور وطن واپس آرہے تھے، اس اجلاس کا سن کر وہ بھی لندن میں رک گئے اور سکائپ کے ذریعے اس اجلاس میں شریک ہوئے۔
اس رکن کے مطابق اس اجلاس میں اکثریت نے بھی اس تجویز سے اختلاف کیا کہ سپریم کورٹ کے کسی جج کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی ان کی جگہ کسی دوسرے جج کے تعینات کرنے کے لیے کسی جج کے نام پر غور کیا جائے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی اپنے اس خط میں اس بات کا ذکر کیا کہ ملکی آئین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی شخص کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی اس جگہ کو فل کرنے کے لیے کسی کے نام کو زیر بحث لایا جائے۔
وکلا تنظیمیں بھی اس بات کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں کہ اعلی عدلیہ میں ججز کی تعیناتی میں سنیارٹی کو اہمیت دی جائے اور اس کے علاوہ چیف جسٹس کے پاس جو نام پیش کرنے کا استحقاق ہے وہ واپس لیا جائے۔
جسٹس طارق مسعود کا خط
سپریم جوڈیشل کمیشن کے ایک اور رکن سردار طارق مسعود کا خط بھی سامنے اگیا ہے جو انھوں نے گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے بارے میں لکھا ہے۔ یہ خط انھوں نے چیف جسٹس کے علاوہ کمیشن کے دیگر ارکان کو بھی لکھا ہے۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس سے متعلق جو اعلامیہ جاری کیا گیا وہ ان حالات سے بالکل برعکس ہے جو کمیشن کے اجلاس میں وقوع پذیر ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جب اجلاس شروع ہوا تو چیف جسٹس کی طرف سےح پیش کیے گئے ناموں پر سب سے پہلے جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلاس عثمانی سے رائے مانگی گئی ۔ انھوں نے کہا کہ ان کے علاوہ جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ نے ان ناموں سے اتفاق کیا۔ جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ کہ انھوں نے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کیے جانے والے ناموں پر اپنی رائے دی جس سے جسٹس قاضی فایز عیسی ،وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کے رکن نے بھی اتفاق کیا تھا۔ انھوں نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اجلاس میں واضح ہوگیا تھا کہ کمییشن کے ارکان نے کثرت رائے سے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کیے گئے ناموں کو مسترد کردیا ہے ۔ اس خط میں سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ جب قاضی فائز عیسی ان ناموں کو مسترد کیے جانے سے متعلق وجوہات کا زکر کر رہے تھے تو ایسے میں جوڈیشل کمیشن کے سربراہ اجلاس کو ختم کرنے کا اعلان اور اس اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بتائے بغیر غیر جمہوری طریقے سے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے اور جسٹس اعجاز الااحسن بھی ان کے پیچھے پیچھے چل دیے۔اس خط میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے رائے دی تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا جائے کیونکہ وہ ملک کی تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان میں سے سب سے سنئیر ہیں۔ جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اس اجلاس کے بعد جو بیان جاری کیا گیا اس میں کہا گیا کہ چار ارکان نے اس اجلاس کو موخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پبلک ریلیشن آفیسر نہ تو اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے رکن ہیں اور نہ ہی کمیشن کے سیکرٹری ہیں۔ انھوں نے درخواست کی کہ اس اجلاس کے حقائق پر مبنی منٹس فوری جاری کیے جائیں۔