سپریم کورٹ کے بائیکاٹ کے فیصلے سے حکومتی اتحاد کو نقصان ہو گا یا فائدہ؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ نے منگل کو حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کو کالعدم قرار دیا مگر اس سے قبل ہی وفاق میں حکمراں اتحاد پی ڈی ایم عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر چکا تھا۔

پی ڈی ایم نے عدالت کے تین رکنی بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے 'فُل کورٹ' تشکیل دینے کی درخواست دی تھی مگر اسے مسترد کیا گیا۔ پی ڈی ایم کا مؤقف تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے ابہام موجود ہے اور ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کرنے کا جو فیصلہ دیا وہ اسی آرٹیکل کے حوالے سے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کی روشنی میں سنایا تھا۔

تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کوئی بھی وکیل لارجر بینچ یا فُل کورٹ پر عدالت کو قائل نہیں کر سکا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ درخواستیں معاملے کو غیر ضروری طول دینے کی کوشش نظر آتی ہیں۔

منگل کے روز حکومتی جماعتوں کے وکلا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے اور عدالت کو بائیکاٹ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران وہ عدالت میں موجود بھی رہے تاہم انھوں نے عدالت کی معاونت نہیں کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے سب کو ’معاونت کی کھلی دعوت‘ دی۔ تاہم اس کے باوجود حکومتی جماعتوں اور ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی نمائندگی کرنے والے وکلا عدالت کی معاونت کے لیے سامنے نہیں آئے۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے پر ن لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جبکہ عدالت نے ان کے بائیکاٹ کے باوجود فیصلہ سنا دیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کے اتحادیوں نے عدالتِ عظمیٰ کی کارروائی کے بائیکاٹ کو ’سپریم کورٹ پر حملے کے مترادف‘ قرار دیا ہے۔ حکومتی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا تھا کہ ’کوئی حکومت اپنی ہی عدالتِ عظمٰی پر عدم اعتماد کا اظہار کیسے کر سکتی ہے۔‘ یہاں تک ان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وفاقی وزرا کے بعض بیانات توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔

جبکہ بعض ماہرین کے خیال میں حکومتی اتحاد نے بائیکاٹ کا فیصلہ ’اپنے سیاسی مفاد میں کیا‘ اور آنے والے دنوں میں وہ اسے اپنے سیاسی مخالفین کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کیا ہو گی؟ اور کیا حکومتی اتحاد کا بائیکاٹ کا فیصلہ بعد ازاں انھیں کوئی سیاسی نقصان پہنچا سکتا ہے؟

’قانونی اور اخلاقی اعتبار سے عدالت کا فیصلہ مکمل طور پر معتبر ہے‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وکیل اور ماہرِ قانون اسد رحیم کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس بات سے قطع نظر کے وفاق کے حکومتی اتحاد کی جماعتوں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ’قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے مکمل طور پر معتبر اور قابلِ عمل ہے۔‘

اسد رحیم سمجھتے ہیں کہ حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کا فیصلہ اس وقت کیا جب انھیں لگ رہا تھا کہ ان کی مرضی کا بینچ تشکیل نہیں دیا جا رہا یا شاید فیصلہ ان کے حق میں نہیں آئے گا۔

'ایسا بھی نہیں کہ انھوں نے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف یا ریکارڈ پیش نہیں کیا ہو۔ انھوں نے عدالت میں مکمل طور پر اپنا مؤقف پیش کیا اور انھیں ایسا کرنے کا عدالت کی جانب سے پورا موقع دیا گیا۔‘

ان کے خیال سیاسی جماعتوں کی طرف سے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ سراسر سیاسی نوعیت کا تھا، اس لیے اس سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی قانونی یا اخلاقی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’فیصلے کی اخلاقی حیثیت میں تنزلی آئے گی‘

وکیل اور ماہرِ قانون اسد جمال سمجھتے ہیں کہ قانونی اعتبار سے تو عدالتِ عظمٰی کا فیصلہ مکمل طور پر قابلِ عمل ہو گا کیونکہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرتی ہے، اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔

تاہم ان کے خیال میں اس وقت جب ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ملک کی سب سے بڑی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا ہے تو اس صورت میں ’اخلاقی اعتبار سے اس عدالتی فیصلے کی حیثیت میں تنزلی آئی ہے۔‘

اسد جمال سمجھتے ہیں کہ فل بینچ یا لارجر بینچ کا مطالبہ کرنے والے فریقین کے مؤقف کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 'اس بات میں کوئی حرج نہیں تھا کہ عدالت لارجر بینچ یا فل کورٹ تشکیل دے دیتی تاکہ (آرٹیکل) 63 اے جیسے آئینی مسئلے کا جامع حل نکالا جا سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں یعنی سنہ 2015 اور اس کے بعد سنہ 2018 کے فیصلوں کو پڑھا جائے تو اس آئین کی شق 63 اے کے حوالے سے کافی ابہام سامنے آتے ہیں۔ 'اس مقدمے میں سوال پارٹی کے سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کے اختیارات کا تھا تو اس پر بھی وضاحت کی ضرورت تھی۔'

اسد جمال کا کہنا تھا کہ خود چیف جسٹس عمر عطا بندیال اپنے ماضی کے کئی فیصلوں میں اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ پارٹی سربراہ کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عدالت چاہتی تو لارجر بینچ یا فُل کورٹ بنانے کے لیے ججوں کو بلایا جا سکتا تھا۔

بائیکاٹ سے حکومتی اتحاد کو فائدہ ہو گا یا نقصان؟

حکومتی اتحاد کے بائیکاٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنانے والے مبصرین کا ایک مؤقف یہ ہے کہ اس میں شامل جماعتیں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر کے عوام کے سامنے یہ تاثر قائم کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی اور ان کی استدعا کو نہیں مانا گیا۔ ان کے مطابق اس طرح وہ 'مظلوم کارڈ' کھیل کر سیاسی طور پر اپنے مخالفین کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ بظاہر ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ ’یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس فیصلے کا انھیں نقصان ہو گا یا فائدہ تاہم بظاہر یہی لگتا ہے کہ سرِ دست وہ یہ کہیں گے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی اور اسی کی بنیاد پر وہ اپنا ایک جارحانہ بیانیہ بنائیں گے جس کو وہ سیاسی طور پر استعمال بھی کریں گے۔'

ادھر وکیل اور ماہرِ قانون اسد رحیم کا کہنا ہے کہ جس طرح سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی دی گئی رولنگ آئین سے لاتعلق تھی بالکل اسی طرح پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی دی گئی رولنگ کا بھی آئین سے تعلق نہیں تھا۔

ان کے خیال میں اگر قاسم سوری کے وقت پر اس سوال پر فل کورٹ نہیں بنائی گئی تھی تو اس مرتبہ بھی فل کورٹ کا سوال نہیں تھا اور جواز نہیں بنتا تھا۔

اسد رحیم کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی قیادت نے سپریم کورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تاہم یہ وہی سپریم کورٹ تھی جس نے قاسم سوری کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا۔ 'اور یہ وہ سپریم کورٹ ہے جس نے ماضی میں اسی پی ڈی ایم کے کئی رہنماؤں کے خلاف کئی مقدمات میں ریلیف بھی دیا۔'

انھوں نے سنہ 1993 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی بحالی اور دیگر کئی قائدین کی ضمانتوں کی توثیق جیسی مثالوں کی طرف اشارہ کیا۔

اسد رحیم کا کہنا تھا کہ 'صرف اس لیے کہ جج آپ کی مرضی کے نہیں تھے، سپریم کورٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنا ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔‘

کیا چوہدری پرویز الٰہی بطور وزیرِاعلٰی ن لیگ کو نقصان پہنچائیں گے؟

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر صوبہ پنجاب میں حکومت جانے سے ن لیگ اور ان کی اتحادی جماعتوں کو سیاسی نقصان ضرور ہو گا۔ تاہم ان کے خیال میں چوہدری پرویز الٰہی کے وزیرِاعلٰی بننے سے ن لیگ کو پنجاب میں کوئی طویل مدتی خطرہ نہیں ہو گا۔

سہیل وڑائچ کے خیال میں چوہدری پرویز الٰہی خود بھی جس قسم کی طبیعت کے مالک ہیں وہ نہیں چاہیں گے کہ وہ ن لیگ کے ساتھ محاذ آرائی کریں۔

’ماضی میں بھی وہ حمزہ شہباز وغیرہ کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اور انھوں نے محاز آرائی کی کوشش نہیں کی اور اب بھی اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ وہ ایسا کریں گے۔'

سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی کے آنے سے پنجاب میں ن لیگ کو کوئی بڑا سیاسی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ ان کے پاس آپشنز بہت ہیں جن کی مدد سے وہ واپس آ سکتے ہیں۔

'نواز شریف واپس آ سکتے ہیں، اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ایک مرتبہ پھر اپنایا جا سکتا ہے، ن لیگ بچ جائے گی ان کے پاس بہت آپشنر ہیں۔ وہ پہلے بھی اس قسم کی صورتحال سے باہر آتے رہے ہیں۔'

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ محاذ آرائی کی سیاست میں کسی جماعت کو نقصان پہنچانا مشکل ہوتا ہے۔