آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دریائے سندھ میں باراتیوں سے بھری کشتی کو حادثہ: ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28 ہو گئی، فوج کے 18 غوطہ خور اور کمانڈوز ریسکیو آپریشن میں شامل
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے علاقے میں دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے ڈوب کر ہلاک ہونے والے مزید چھ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد اب 28 ہو چکی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق، ریسکیو ترجمان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید پانچ خواتین اور ایک بچے کی لاشیں پانی سے نکالی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق باراتیوں سے بھری اس کشتی میں خواتین اور بچوں سمیت 90 سے زائد افراد سوار تھے جن میں سے 45 افراد کو بچا لیا گیا تھا جبکہ 28 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ لگ بھگ 20 کے قریب لاپتہ افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کے خصوصی دستے بھی رحیم یار خان کے علاقے ماچھکہ پہنچ گئے ہیں اور کمانڈوز نے لاپتہ افراد کی تلاش میں دریائے سندھ میں ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
کمشنر راجہ جہانگیر انور کے مطابق فوج کا امدادی دستہ خصوصی تربیت یافتہ غوطہ خور جوانوں اور ایس ایس جی کمانڈوز پر مشتمل ہے اور امدادی کارروائیوں میں فوج کے 18 غوطہ خور بھی حصہ لے رہے ہیں۔کمشنر راجہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ آپریشن میں مدد کے لیے فوج سے خصوصی درخواست کی گئی تھی۔
’ہمارا تو پورا گھر خواتین سے خالی ہو گیا‘
اس واقعہ میں محمد حسین اپنی بہو اور تین بھانجیوں سے محروم ہو گئے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارا تو پورا گھر اور علاقہ خواتین سے خالی ہو گیا۔ کسی نے اپنی ماں گنوائی ہے تو کوئی اپنی بیٹی کی تلاش میں ابھی بھی دریا کے کنارے کھڑا ہے۔ آج صبح نو جنازوں کی تدفین کی ہے۔ گذشتہ روز 12 میتوں کی تدفین ہوئی تھی۔ اس میں تین کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔‘
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پیر کو دریائے سندھ میں پیش آنے والے اس حادثے کا سبب کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد کی موجودگی تھی۔
حادثے میں ہلاک ہونے والی دیگر خواتین میں محمد حسین کی چچا زاد، تایا زاد، خالہ زاد بہنیں بھی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد حسین کہتے ہیں کہ ’ابھی تھوڑی دیر پہلے نو جنازوں کی تدفین کر کے فارغ ہوئے ہیں۔ دور دراز سے لوگ تعزیت کے لیے آ رہے ہیں۔ تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے ہم نے دو، تین لوگ گاؤں ہی میں چھوڑ دیے ہیں جبکہ باقی لاپتا ہونے والی خواتین کی تلاش میں مصروف ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس سانحہ نے پورے علاقے کو اجاڑ دیا۔ ہمارے گھر کی رونقیں جو ہماری بیٹیاں، بہنیں اور مائیں تھیں، وہ اب موجود نہیں۔‘
محمد حسین کہتے ہیں کہ چچا زاد بھائی سعود کی شادی کی بڑے عرصے سے تیاریاں کی جا رہی تھیں۔
’ہمیں کیا پتا تھا کہ ہم جو دھوم دھام سے شادی کی تیاریاں کر رہے ہیں وہ حقیقت میں اپنے علاقے میں جنازوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ جو کچھ ہم پر بیت رہی ہے خدا یہ دن کسی کو بھی نہ دکھائے۔‘
اس علاقے میں کوئی گھر ایسا نہیں جہاں سے کوئی نہ کوئی جنازہ نہ اٹھا ہو یا اس کے گھر کی کوئی خاتون لاپتا نہ ہو۔
بھابھی کی تدفین، بھتیجی کی تلاش
عاشق سولنگی اس حادثے میں اپنی بہن، بھابھی اور بھتیجی سے محروم ہو گئے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ بہن اور بھابھی کی تدفین کر دی گئی ہے اور اب بھتیجی کی تلاش کے لیے دریا کے پاس موجود ہیں۔
’کوشش اور دعا بھی کر رہے ہیں کہ بھتیجی مل جائے۔ اتنا وقت پانی میں گزرنے کے بعد اس کے زندہ ہونے کی امید تو نہیں مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ لاش مل جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میری بھابھی اور بھیتجی آپس میں ماں بیٹی ہیں۔ اس شادی کے بعد اب علاقے میں میری بھتیجی اور بہن کی شادی ہونا تھی۔ اس کے لیے دو ماہ بعد کا وقت رکھا گیا تھا۔‘
’جب بارات جارہی تھی تو اس وقت میری بھابھی نے میری بھتیجی یعنی ماں نے اپنی بیٹی اور میری بہن یعنی اپنی نند سے کہا تھا کہ آج تم لوگ کسی کی بارات پر جارہی ہوں تھوڑے عرصے بعد تم لوگوں کی بارات بھی اسی طرح آئے گی۔‘
عاشق سولنگی نے بتایا کہ ان کی بہن اور بھتیجی کی شادی کی تیاریاں تقریباً مکمل تھیں، بس کچھ فرنیچر وغیرہ باقی تھا۔ اب ان کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ جہیز کے اس سامان کا کیا کریں گے۔
’دو مائیں کھو دیں‘
نصیر سولنگی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے اس حادثہ میں اپنے گھر کی دو خواتین کو کھویا ہے۔
’اس حادثے میں، میں اپنی ماں اور چچی سے محروم ہو گیا۔ ماں کی تدفین تو کردی مگر چچی کی ابھی بھی تلاش ہے۔ ہم لوگ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں۔ جب چچی کی ہمارے چچا سے شادی ہوئی تو اس وقت میں پیدا ہوا تھا۔ میری ماں گھر کی بڑی تھی۔ ساری ذمہ داریاں اس پر تھیں۔ اس لیے مجھے چچی نے اپنی گود میں بڑا کیا تھا۔‘
نصیر سولنگی کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کی ایک ماں نہیں بلکہ دو مائیں ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر خیال رکھتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں اکثر اپنی ضرورت کے بارے میں چچی کو بتایا کرتے تھے اور جب ماں کسی بات پر ناراض ہوتی تو چچی ان کا دفاع کرتی تھی۔
’وہ کہا کرتی تھی کہ نصیر میرا بیٹا ہے۔ تمھیں اس کو مارنے کا کوئی حق نہیں۔‘
نصیر سولنگی کا کہنا تھا کہ کچھ دن پہلے ہی ان کی منگنی ہوئی ہے اور یہ رشتہ بھی چچی کی پسند سے کیا تھا۔
’شادی کچھ عرصہ بعد ہونا طے پائی تھی۔ چچی نے مجھ سے کہا تھا کہ میں خوب محنت مزدوری کرکے پیسے اکھٹے کروں تاکہ وہ میری شادی بہت دھوم دھام سے کرے۔‘