پی ٹی آئی کے استعفوں کا معاملہ: کیا پاکستان تحریکِ انصاف اسمبلی میں واپس آئے گی یا نہیں؟

    • مصنف, احمد اعجاز
    • عہدہ, صحافی، مصنف
  • وقت اشاعت

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان فی الوقت انتہائی سختی سے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ ان کی جماعت کے قومی اسمبلی میں واپسی کے امکانات نہیں ہیں لیکن پھر بھی سیاسی حلقوں میں اس سوال کی بازگشت سنی جا سکتی ہے کہ آیا وہ قومی اسمبلی میں واپس جائیں گے یا نہیں۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سیاست میں ’حتمی فیصلے‘ کا اصول کار فرما نہیں ہوتا اور اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو ایسے ہی ’اصولی اور حتمی‘ مؤقف پی ٹی آئی چیئرمین کئی مرتبہ اختیار کر چکے ہیں۔

قومی اسمبلی سے استعفوں کی ہی بات کی جائے تو سنہ 2014 میں اسلام آباد میں دھرنے کے دوران پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی نے استعفے دیے اور عمران خان نے بارہا یہ مطالبہ دہرایا کہ وہ نواز شریف کا استعفیٰ لیے بغیر اسلام آباد سے جانے والے نہیں۔

تاہم پی ٹی آئی ارکان کو اسمبلی میں واپس جانا پڑا اور حکومت نے اپنی مدت بھی پوری کی۔ تاہم موجودہ صورتحال میں تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ پی ٹی آئی استعفوں کے آپشن پر ہی کاربند رہے گی۔

31 مئی کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ اس وقت کے سپیکر کو اختیار نہیں کہ وہ سابق سپیکر کی جانب سے قبول کیے گئے استعفوں کا جائزہ لے۔‘

تاہم اگر موجودہ یا آنے والے لمحوں میں پی ٹی آئی اسمبلی میں واپس جانا چاہے تو کیا عمران خان کا یہ مؤقف کہ ’اسمبلی میں واپس جانے کا مطلب امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرنا ہے‘ رکاوٹ ہو سکتا ہے یا کوئی قانونی و آئینی پیچیدگی بھی راہ میں حائل ہو سکتی ہے؟

جب سنہ 2014 میں پی ٹی آئی کی جانب سے استعفے جمع کروائے گئے تو دو ستمبر 2014 کو اس وقت کے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے کہا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان کے استعفے اس لیے قبول نہیں کیے کہ شاید کوئی مفاہمت ہو جائے۔ ہر رکن کو بلا کر یہ تصدیق کروں گا کہ مستعفی ہونے میں ان کی اپنی مرضی شامل تھی یا نہیں۔‘

کیا اب بھی 2014 کی طرح حکومت استعفے منظور نہیں کرنا چاہتی اور پی ٹی آئی واپس اسمبلیوں میں آ سکتی ہے؟

پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں واپسی کے امکانات کتنے ہیں؟

اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہرِ قانون حامد خان کا کہنا تھا کہ ’ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ابھی تک پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور ہی نہیں ہوئے۔ اگر یہ ارکان چاہیں تو استعفے واپس لے سکتے ہیں اور اسمبلی میں واپس جا سکتے ہیں۔‘

حامد خان کا کہنا تھا کہ ’سنہ 2014 میں سپیکر نے استعفے کھولے ہی نہیں تھے اور الیکشن کمیشن کو بھی نہیں بھیجے گئے تھے۔ اس طرح پی ٹی آئی واپس اسمبلیوں میں آ گئی اور یہ اب بھی واپس آ سکتی ہے۔‘

تو کیا پی ٹی آئی واپس اسمبلی میں آ سکتی ہے؟ یا استعفوں کا فیصلہ اصولی ہے؟ اس سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان میں واپسی کا امکان موجود ہے۔ مختلف جگہوں پر بات چیت چل رہی ہے۔ مگر واپسی کا امکان بہت زیادہ بھی نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سیاسی حلقوں اور مقامی میڈیا پر بھی اس حوالے سے خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ اسمبلی میں واپسی کے حوالے سے پی ٹی آئی منقسم ہے۔

اس ضمن میں سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ ’پارٹی کے اندر مختلف آرا ہو سکتی ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی کے ابھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ پارٹی کی طرف سے مجموعی طور پر ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ یہ اسمبلی میں واپس جا سکتی ہے۔‘

یہی سوال جب پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما اور سابق وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کا یہ اصولی فیصلہ ہے۔ واپسی کی کوئی گنجائش نہیں اور عمران خان کے مطابق واپسی کا مطلب ہو گا کہ امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کیا جائے۔‘

استعفے جلدی انتخابات کروانے کا بہترین حربہ قرار دیے جا سکتے ہیں؟

عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے ایک روز بعد یعنی 10 اپریل کو فواد چودھری نے کہا تھا کہ ’وزیرِ اعظم کے انتخاب کے بعد پی ٹی آئی ارکان اسمبلی مستعفی ہو جائیں گے۔ نئے انتخابات کے علاوہ موجودہ سیاسی بحران کا اور کوئی حل نہیں ہے۔‘

اُس روز پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے 95 فیصد لوگ استعفے دینے کے خلاف ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پارٹی کے اندر استعفوں کے معاملے میں تقسیم پائی جاتی ہے اور اس پہلو سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن بینچوں پر نہ بیٹھ کر سارا میدان خالی چھوڑ دیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایوان کے اندر سے حکومت کوئی دباؤ محسوس نہیں کررہی۔

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی سے جب یہ پوچھا گیا کہ استعفے دینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے کتنا اہم حربہ ثابت ہو سکتا ہے؟تو ان کا کہنا تھا کہ ’سیاست کے اندر کوئی راستہ سو فیصد نہ درست ہوتا ہے اور نہ ہی غلط۔ یہ موقع کی مناسبت سے منصوبہ بندی ہوتی ہے جو کبھی درست ثابت ہوتی ہے اور کبھی غلط۔ سیاست میں کام کرنے کے کئی راستے ہیں۔ مکمل طور پر کوئی فیصلہ غلط یا صحیح نہیں ہو سکتا۔‘

مگر پی ٹی آئی کے پاس استعفوں کے ذریعے دباؤ کے علاوہ جلد انتخابات کروانے کا کوئی آپشن ہو سکتا تھا؟ اس سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، البتہ عدم اعتماد سے پہلے اسمبلیاں تحلیل کی جا سکتی تھیں۔ لیکن استعفوں کے ذریعے جلد انتخابات کروانے کا دباؤ پی ٹی آئی نے بدستور رکھا ہوا ہے۔‘

سپیکر کا ہر رکن کو بلا کر تصدیق کرنا، آئینی اختیار رکھتا ہے یا محض پارلیمانی روایت ہے؟

گذشتہ ماہ 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے استعفوں کی تصدیق کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان کو چھ جون کو طلب کر لیا تھا۔

موجودہ سپیکر تصدیق کے لیے ہر رکن اسمبلی کو بلانا چاہتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ انھوں نے استعفے دے دیے اور موجودہ سپیکر کو اختیار نہیں کہ وہ ان استعفوں کا جائزہ لے۔

سابق وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا ’آئین کا آرٹیکل 64 یہ کہتا ہے کہ جب کوئی رکن تحریری طور پر سپیکر کو اپنا استعفیٰ بھیج دے تو فوری منظور ہو جاتا ہے۔

’جب قاسم سوری نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیے تھے تو راجہ پرویز اشریف کو استعفوں کی تصدیق نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ قاسم سوری قائم مقام سپیکر تھے اور آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت وہ ایک مکمل سپیکر کے آئینی اختیارات رکھتے تھے۔‘

سپیکر کی جانب سے سکروٹنی اور ہر رکن کو انفرادی طور پر بلا کر تصدیق کرنا، آئینی اختیار رکھتا ہے یا محض پارلیمانی روایت؟ ماہرِ قانون حامد خان کا کہنا تھا ’یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ ایک کسی انفرادی کیس میں یہ سامنے آیا تھا کہ مستعفی ہونے والے نے کہا تھا کہ یہ استعفیٰ میرا نہیں۔

’اب یہ سپریم کورٹ کی ضرورت ہے کہ سپیکر پہلے بلا کر استعفے کی تصدیق کرے کہ جعلی تو نہیں، یا کسی دباؤ کے تحت تو نہیں دیا گیا۔‘