آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی: کھارادر میں بم دھماکے سے خاتون ہلاک، نو زخمی
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے کھارادر میں سوموار کی رات ایک بم دھماکے میں ایک خاتون ہلاک جب کہ تین پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
گزشتہ چار دنوں میں کراچی میں یہ دوسرا بم دھماکہ ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق یہ بم دھماکہ تھا جو کراچی کے کھارادر تھانے کی حدود میں کپڑا مارکیٹ میں ہوا۔ پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دھماکے میں پولیس کی ایک پک اپ سمیت چند گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ایس پی سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کے مطابق موٹرسائیکل میں آئی ڈی پلانٹ کی گئی تھی اور حملے میں گشت پر معمور پولیس موبائل کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔
بی ڈی کی رپورٹ کے مطابق ’صدر اور اس دھماکے میں مماثلت ہے، دھماکے میں بال بئیرنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایدھی سنٹر کے سعد ایدھی نے بتایا کہ اس بم دھماکے میں پولیس موبائل کو ٹارگٹ کیا گیا تھا جو بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل نے تصدیق کی کہ اس دھماکے میں پولیس کی موبائل کو ہی نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں زخمی اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی کراچی ایم اے جناح روڈ، بولٹن مارکیٹ کے قریب دھماکے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرداخلہ نے مرنے والی خاتون کے لواحقین اور دیگر زخمی افراد سے اظہارہمدردی کیا اور کہا کہ صوبے میں امن وامان کو بہتر بنانے کے حوالے سے وفاق مکمل سپورٹ فراہم کرے گا۔
انھوں نے سندھ رینجرز کو امن و امان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرنے کی ہدایت کی۔
شرجیل کھرل کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جارہی ہیں اور بم ڈسپوزل سکواڈ رپورٹ مرتب کر رہا ہے جس سے مواد کا اندازہ لگایا جاسکے گا۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی دھماکے کے مقام کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بچہ ہلاک ہونے والی خاتون کو کہہ رہا ہے کہ ماں اٹھو۔
واضح رہے کہ چار دن قبل جمعرات کی رات کو تقریباً 11 بجے کراچی کے ایک مصروف علاقے، یونائیٹڈ بیکری اور مرشد بازار کے قریب، بم دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے۔
کراچی پولیس کے مطابق کھارادر دھماکے کی جگہ پر کرائم یونٹ نے تفتیش شروع کر دی ہے اور بم ڈسپوزل سکواڈ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلومات اکھٹی کر رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ملوث عناصر کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی ہے اور وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو مکمل معاونت کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ تمام صوبے امن وامان کی صورتحال اور عوام کے جان و مال کو یقینی بنانے کے لئے سکیورٹی انتظامات میں بہتری لائیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امن وامان کی صورتحال میں بہتری کے لئے وفاق اور صوبوں میں اشتراک عمل موثر بنایا جائے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کھارادر میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو فون کر کے فوری تفیصلی رپورٹ مانگ لی ہے۔
وزیر اعلی سندھ کے ترجمان کے مطابق انھوں نے فوری طور سول اسپتال میں ایمرجنسی بھی ڈیکلئر کردی ہے۔