سعید غنی: ’شاید دن بھر کمرۂ عدالت کے باہر کھڑے رہنا ہی میری سزا ہے‘

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی رواں ہفتے کے دو روز سپریم کورٹ میں سائلین کی قطار میں کھڑے رہے لیکن ان کی باری نہیں آئی اور مقدمے کی سماعت ملتوی ہو گئی۔

سعید غنی توہین عدالت کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں اور گذشتہ ڈیڑھ سال سے بھی زائد عرصے سے کراچی میں سپریم کورٹ کی بیٹھک میں عدالت میں حاضر ہوتے ہیں۔

سعید غنی نے کسی وکیل کی خدمات حاصل نہیں کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود ہی الزام کا دفاع کریں گے۔ سماعت کے بعد جب صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ آج کیا ہوا تو انھوں نے کہا کہ آج بھی نہیں سنا گیا۔ سعید غنی کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی شاید یہ ہی سزا ہے کہ دن بھر کھڑے رہیں لیکن وہ تو ورکر کلاس کے بندے ہیں اس میں اپنی توہین نہیں سمجھتے۔

سپریم کورٹ میں جمعہ کو بھی سعید غنی کا کیس لگا اور وہ بھی صبح سے آکر بیٹھے گئے، مقدمات سوا بارہ بجے تک سنے گئے، عدالت نے جب کارروائی ختم کرنے کا اعلان کیا تو یوں خود بخود صوبائی وزیر سعید غنی کا مقدمہ اگلی سماعت تک چلا گیا۔ صحافیوں نے سوال کیا کہ آپ عہدہ کب چھوڑ رہے ہیں انھوں نے مسکرا کر ٹال دیا اور کہا کہ ایسا عمل جس سے انسانی المیہ جنم لے ان کا ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا۔

لاکھوں لوگوں کو سزا نہ دی جائے۔۔

سپریم کورٹ کی سماعت سے قبل سندھ اسمبلی سے گذشتہ ہفتے انھوں نے خطاب کیا اور کہا کہ ہر دور میں لوگوں نے غلط کیا ہوگا۔ میں کہتا ہوں ’سرکاری افسران کے ساتھ جن جن سیاسی لوگوں نے غلط کیا ہے ان کو بھی سزائیں دیں، پھر چاہے مصطفیٰ کمال ہوں یا سعید غنی ہوں، لیکن ہماری نالائقی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے، بروقت رکاوٹ نہ ڈالنے کی وجہ سے جو لوگ آباد ہوگئے ہیں آپ کہتے ہیں اٹھا دو، سپریم کورٹ کہتی ہے کہ اٹھا دو۔ آپ اٹھا دو بھائی میں تو نہیں اٹھا سکتا۔

’سپریم کورٹ میں ایک توہین عدالت کا مقدمہ لگا ہے، چاہے دس لگ جائیں میں اپنے سر پر یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا کہ اس صوبے میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے گھر مسمار کرنے کا فیصلہ لوں۔‘

سعید غنی کی یہ ویڈیو ٹوئٹر پر کافی وائرل ہوئی اور ان کی موقف کی تائید کے ساتھ ان کی تعریف کی گئی۔

پپو رانا نے لکھا کہ پیپلز پارٹی سے لاکھ اختلاف ہو سکتے ہیں لیکن سعید غنی کے موقف کے ساتھ ہیں۔

طارق باوجوہ نے لکھا کہ پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت انسان بھی ہیں۔ شیخ جی نامی صارف نے لکھا کہ پیپلز پارٹی میں بھی ایسے لوگ ہیں کمال ہے۔

سعید غنی کہتے ہیں کہ نیسلہ ٹاور ایک نہیں، شہر میں ایسی نوے فیصد خلاف ورزیاں ہوئی ہوں گی، سب کو توڑنا ممکن نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ عدالت ٹاؤن پلانرز اور ماہرین کا ایک کمیشن بنائے جو بتائے کہ جو ہوگیا اس کو کیسے درست کیا جائے اور مستقبل میں روک تھام کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جائیں۔

توہین عدالت کا الزام کیسے عائد ہوا؟

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں کراچی میں امن و امان کا مسئلہ زیر سماعت رہا اور اس کا نتیجے بالاخر ایک آپریشن کی صورت میں آیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے چیف جسٹس گلزار احمد نے منصب سنبھالنے کے بعد زمینوں پر تجاویزات اور رہائشی منصوبوں کی سماعت کی اور بعض خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی جس کے بعد ایمپریس مارکیٹ، گارڈن مارکیٹ، سرکلر ریلوے کے روٹ سے تجاویزات ہٹانے کے لیے آپریشن کیا گیا۔

اس کے بعد ندی نالوں پر آباد گھر بھی مسمار کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ آگے چل کر عدالت نے حکومت سندھ کو ندی نالوں کے متاثرین کو بسانے اور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

سعید غنی کہتے ہیں کہ حکومت نے عدالت سے درخواست کی کہ بحریہ ٹاؤن میں جو رقم وصول کی گئی اس میں سے دس ارب دے دیں تاکہ ان لوگوں کی بحالی کی جائے گی، لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے 22 جنوری 2019 کے فیصلے میں کراچی کو 40 سال پرانی حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا تھا اور اس ضمن میں پارک، کھیلوں کے میدان اور ہسپتالوں کی اراضی بھی واگزار کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر سعید غنی کے پاس اس وقت بلدیاتی اداروں کا قلمدان تھا، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا جس روز یہ حکم آیا اس روز وہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں تھے جب باہر آئے تو صحافیوں نے یہ سوال کیا جس پر انھوں نے کہا کہ کہ کراچی کے لاکھوں خاندانوں میں انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، ہم نہیں چاہتے کراچی کے لوگوں کے سروں سے چھت چھینی جائیں، انھیں پیپلزپارٹی کے دور سے پہلے ریگولرائز کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

انھوں نے یہ واضح کیا تھا کہ ’میں ان گھروں کو گرانے سے بہتر استعفیٰ دینا پسند کروں گا۔‘

ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں درجنوں آئینی درخواستیں دائر کرنے والے محمود اختر نقوی نے سپریم کورٹ میں ان کے خلاف درخواست دائر کی اور ان پر توہین عدالت کا الزام عائد کیا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے صوبائی وزیر سعید غنی کے بیان کا نوٹس لیا اور ریمارکس دیے کہ ’کہاں ہیں وہ بلدیاتی وزیر جو کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم ایک بھی بلڈنگ نہیں گرائیں گے، میئر کراچی بھی بولتے پھر رہے ہیں کہ ہم عمارتیں نہیں گرائیں گے، کیا انھوں نے عدالت سے جنگ لڑنی ہے؟‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’کراچی میں لینڈ مافیا منہ چڑا رہا ہے اور یہ ایسی باتیں کرتے رہے ہیں، ہم پہلے سب کو سن لیں پھر دیکھتے ہیں ان کو کہاں بھیجنا ہے۔‘

جس کے بعد عدالت اعظمیٰ نے صوبائی وزیر سعید غنی کو طلب کر لیا۔

سعید غنی کون ہیں ؟

سعید غنی کا تعلق کراچی کے قدیم اور غریب علاقے چنیسر گوٹھ سے ہے۔ ان کا خاندان ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہے۔ ان کے والد عثمان غنی کراچی کے سرگرم ٹریڈ یونینسٹ اور پیپلز لیبر بیورو کے سرکردہ رہنما تھے۔

وہ مسلم کمرشل بینک کی یونین کے صدر بھی رہے۔

کراچی میں 17 ستمبر 1995 کو عثمان غنی کو قتل کیا گیا۔ ان دنوں وہ بینکوں کی نجکاری کے خلاف تحریک کے سرگرم رہنما تھے۔

والد کے قتل کے بعد سعید غنی نے ایم سی بی کی نجکاری کے خلاف احتجاج کئی سال تک جاری رکھا اور کراچی پریس کلب کے باہر طویل ترین احتجاجی کیمپ میں بھی موجود رہے۔

جنرل پرویز مشرف نے جب بلدیاتی نظام متعارف کرایا تو وہ غریب اور مزدور پیشہ طبقے کی بستی سے یونین کونسل کے ناظم منتخب ہوئے اور کراچی سٹی کونسل میں قائد حزب اختلاف رہے۔

یہ بھی پڑھیے

ورکر کلاس سے تعلق کے طور پر پہچانے جانے والے سعید غنی کہتے ہیں کہ ’ان دنوں نعمت اللہ خان کے دور میں سڑکوں کو کمرشلائز کیا جا رہا تھا اور دیگر جو غلط فیصلے ہو رہے تھے انھوں نے اس کی مخالفت کی، خط لکھے، لیکن ان کی نہیں سنی گئی اب تعمیرات ہو گئیں تو کہتے ہیں کہ گرائیں، اب غریب لوگوں کا کیا قصور ہے؟‘

پاکستان پیپلز پارٹی نے جب 2008 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو سعید غنی کو سینیٹر منتخب کیا گیا۔ وہ پارٹی کے پارلیامانی لیڈر رہے۔ وہ 2017 کے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کے امیدوار کو شکست دے کر کامیاب ہوئے اور 2018 کے عام انتخابات میں دوبارہ اسی نشست سے کامیاب ہوئے۔

توہین عدالت کیا ہے؟

آئین پاکستان کی شق 204 کے مطابق کسی عدالت کو کسی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہوگا جو عدالت کی قانونی کارروائی کی کسی طرح مذمت کرے، اس میں مداخلت کرے یا مزاحمت کرے یا عدالت کے کسی حکم کی نافرمانی کرے۔

عدالت کو بدنام کرے یا بصورت دیگر کوئی ایسا فعل کرے جو اس عدالت یا عدالت کے جج کے بارے میں نفرت، تضیحک یا توہین کا باعث ہو، کوئی ایسا فعل کرے جس سے عدالت کے سامنے زیرِ سماعت کسی معاملے کا فیصلہ کرنے پر مضر اثرات پڑنے کا احتمال ہو، کوئی ایسا دوسرا فعل کرے جو توہین عدالت کا موجب ہو۔

ابھی تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟

سپریم کورٹ میں رواں ہفتے بدھ کو سماعت کے موقعے پر جب بہادر آباد میں پبلک پارک پر کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر پر بحث ہوئی تو چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ سعید غنی صاحب کہاں ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں عہدہ چھوڑ دوں گا مگر گراؤں گا نہیں۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے مخاطب ہو کر کہا کہ کب چھوڑیں گے وہ عہدہ یہ تو بتائیں؟

چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ سعید غنی کو ہائی کورٹ میں طلب کیا گیا تھا وہاں گئے ہوئے ہیں تو چیف جسٹس نے جواب دیا کہ جب سپریم کورٹ یہاں ہے تو وہ وہاں کیوں گئے ہیں، بلائیں انھیں۔

سعید غنی ایک گھنٹے کے اندر کمرہ عدالت میں پہنچ گئے لوگوں کے ہجوم کو سائیڈ پر کرتے کرتے وہ ججز کی بائیں جانب کھڑے رہے لیکن انھیں مخاطب نہیں کیا گیا، جس کے بعد وہ وکلا اور سائلین کی بینچوں کے درمیان میں آکر اس طرح کھڑے ہوئے کہ سامنے چیف جسٹس موجود تھے، سماعت کے اختتام تک انھیں نہیں بلایا گیا۔

سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس ایک بار ہی سعید غنی سے مخاطب ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں جب وہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ پیش ہوئے اور جب مراد علی شاہ بیان کے بعد جانے لگے تو چیف جسٹس گلزار احمد نے سعید غنی کو مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں آپ پر مقدمہ ہے آپ بیٹھ جائیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پیپلز پارٹی کے منتخب وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں نا اہل قرار دیا تھا۔

موجودہ تحریک انصاف حکومت کے وفاقی وزیر فواد چوہدری، غلام سرور اور فردوس عاشق اعوان سمیت دیگر وزرا بھی توہین عدالت کے مقدمات کا سامنے کرچکے ہیں۔ ان کے روبرو یا تحریری بیانات کے بعد یہ معاملہ نمٹا دیا گیا۔