آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مالم جبہ ریزوٹ ایک بار پھر بند: تنازع سے مقامی افراد کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ پر متعدد تفریحی سہولیات مہیا کرنے والے سکی ریزوٹ کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے۔ اس ریزوٹ کی مالک کمپنی کا دعویٰ ہے کہ انھیں مقامی افراد سے خطرہ ہے اور جب تک حکومت مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کرتی یہ ریزوٹ بند رہے گا۔
دوسری جانب مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ یہ ریزوٹ ان کی آباؤ اجداد کی زمینوں پر ’غیرقانونی‘ طور پر بنایا گیا اور اب ان کے ’آبائی راستوں‘ سے ان پر گزرنے اور اپنی زمینوں تک پہنچنے کی یا تو پابندی عائد کر دی گئی ہے یا پھر ان سے انٹری فیس کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اس ریزوٹ کا ٹھیکہ سنہ 2014 میں سیمسنز گروپ آف کمپنی کو دیا تھا جس کے مالکان کی مبینہ طور پر صوبائی وزیر عاطف خان سے قریبی رشتہ داری تھی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور صوبائی وزیر عاطف خان کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس بھی بنایا۔ لیکن پشاور کی احتساب عدالت نمبر 3 نے نیب کی درخواست پر گذشتہ جمعے کو پرویز خٹک اور عاطف خان کے خلاف مبینہ بدعنوانی کا ریفرنس خارج کر دیا ہے۔
اس وقت عاطف خان صوبائی کابینہ میں سینیئر وزیر ہیں جبکہ پرویز خٹک عمران خان کی کابینہ میں وزیر دفاع کے عہدے پر براجمان ہیں۔
واضح رہے کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک چھ برسوں میں اس ریزوٹ کو مختلف تنازعات کی وجہ سے چھ بار بند کیا جا چکا ہے۔
اب اس ریزوٹ کوکیوں بند کیا گیا ہے؟
بی بی سی نے اس معاملے کو سمجھنے کے لیے صوبائی انتظامیہ، اس کمپنی اور مقامی افراد سے تفصیل سے بات کی ہے اور عدالتی احکامات کا بھی جائزہ لیا ہے۔
سیمسنز گروپ آف کمپنی کا مؤقف
مالم جبہ سکی ریزوٹ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سات نومبر کو مشتعل ’شر پسندوں‘ نے مالم جبہ ریزوٹ پر حملہ کرنے کے علاوہ سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مین گیٹ پر نصب بیرئیر (رکاوٹ) مسمار کر دیا جبکہ وہاں موجود ’پولیس اہلکار خاموش تماشائی بن کر سب کچھ دیکھ رہے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پریس ریلیز کے مطابق ’شر پسند گروپ‘ نے ریزوٹ کے اندر داخل ہو کر سیاحوں کو ہراساں کیا، جس سے سیاحوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ جس کے بعد مالم جبہ سکی ریزوٹ کی انتظامیہ نے ریزوٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ’ریزوٹ اس وقت تک بند رہے گا جب تک سول اور پولیس انتظامیہ مستقل بنیادوں پر سکیورٹی فراہم نہیں کرتی ہے۔‘
مالم جبہ کے مقامی تھانے میں مالم جبکہ سکی ریزوٹ کے سکیورٹی گارڈ محمد آصف رضا کی جانب سے درج مقدمہ میں تقریباً 20 مقامی افرد کو نامزد کرتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ یہ لوگ ’ہمارے ساتھ لڑائی جھگڑے کی غرض سے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح ہو کر آئے اور مین گیٹ کے قریب حملہ کر دیا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے ٹکٹ گیٹ، مین گیٹ اور وہاں پر موجود کرسیوں کو نقصان پہنچایا۔‘
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ ریزوٹ کے اندر آنے کی کوشش کررہے تھے اور ’ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے سیکورٹی گارڈز پر حملہ بھی کیا تھا‘۔
درج مقدمہ میں مبینہ وجہ عناد کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’یہ لوگ بغیر انٹری فیس کے ریزوٹ میں داخل ہونا اور من مانی کرنا چاہتے تھے۔‘
پولیس کا مؤقف
سوات پولیس نے مالم جبہ سکی ریزوٹ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس قانون کے مطابق کام اور کارروائی کرتی ہے۔
ڈی پی او سوات سید زاہد مروت کا کہنا تھا کہ مالم جبہ کے مقامی لوگوں کو اپنے کیبن اور کیبن ہوٹلوں پر جانے کے لیے پی سی ہوٹل کی طرف سے نصب کی گئی رکاوٹ سے گزرنا پڑتا ہے، جس وجہ سے وہاں پر مقامی لوگوں اور ریزوٹ کی انتطامیہ کے درمیان جھگڑا ہوا ہے، جس میں کچھ لوگ معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
سید زاہد مروت کے مطابق مقامی پولیس کے ایس پی نفری سمیت موقع پر پہنچ گئے تھے اور پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارنا شروع کر دیے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر سوات کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ ان کے مطابق ’مالم جبہ سکی ریزوٹ اور مقامی لوگوں کے درمیان راستے کا تنازع ہے، جس کو حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘
اس پریس ریلیز پر بات کرنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر مالم جبہ ابرار وزیر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے مزید تفصیل سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا مؤقف ہی دہرایا کہ اس معاملے کا حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مقامی لوگ اس ریزوٹ سے کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟
مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ اس کمپنی کو ’غیر قانونی طور ہمارے آباؤ اجداد کی زمینوں پر بٹھا دیا گیا ہے‘ اور اب یہ کمپنی ’ہمیں اپنے علاقے میں ہی داخل ہونے اور کاروبار کرنے سے روک رہی ہے‘۔
مالم جبہ کے ایک مقامی شخص نصرت گل نے جو مالم جبہ کے علاقے میں چل پھر کر روز مرہ استعمال کی اشیا فروخت کرتے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ ’مالم جبہ میں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں۔ میں یہاں کا مقامی ہوں۔ روزانہ ہول سیلر سے پانچ چھ ہزار روپیہ کے سگریٹ، ٹافیاں، پانی وغیرہ خرید کر ریڑھے پر فروخت کرتا ہوں۔ جس مقام پر سیاحوں کا رش ہوتا ہے، وہاں پر اپنے ریڑھے کو کھڑا کر دیتا ہوں اور اس طرح میری فروخت ہوتی ہے، جس سے مجھے ہزار بارہ سو کی بچت ہوجاتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کے مطابق اب اگر’میرے چلنے پھرنے ہی پر پابندی ہوگی، مجھے کہا جائے گا کہ 500 روپے کی انٹری فیس لے کر ریزوٹ میں جاؤں تو کیسے کاروبار کروں گا؟ ان کے مطابق ’یہ پابندی قبول نہیں کی جاسکتی ہے، مجھے میرے علاقے ہی میں چلنے پھرنے اور کاروبار کی اجازت ہونی چاہیے۔‘
ایک اور مقامی شخص نصیب خان کا کہنا تھا کہ ’میں پکوڑے اور چائے کا سٹال لگاتا ہوں۔ مالم جبہ میں صرف امیر لوگ ہی نہیں غریب لوگ بھی آتے ہیں۔ ہم ان غریب لوگوں کو سستی چائے وغیرہ فراہم کرتے ہیں، جس سے ہمارا روزگار بھی چل رہا ہے۔ اب اگر مجھ پر پابندیاں ہوں گی تو یہ غریب سیاح کہاں جائیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ میرا روزگار کہاں جائے گا۔‘
سید لیاقت علی مالم جبہ کے رہائشی ہیں اور اس مقدمے میں نامزد بھی ہیں۔
مالم جبہ میں ان کی چائے اور پکوڑے کی دکان بھی ہے اور یہ مقامی لوگوں کی قیادت بھی کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معدمہ مکمل طور پر ’یکطرفہ کارروائی‘ ہے۔ سید لیاقت علی کہتے ہیں کہ ’ہمارا کمپنی کے ساتھ طویل عرصے سے راستے کا تنازع چل رہا ہے، جہاں پر انھوں نے رکاوٹ لگا رکھی ہے، وہاں سے گزر کر ہمارے گاؤں، مسجد اور قبرستان کو راستہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی لوگ وہاں تھوڑی بہت مزدوری بھی کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق کمپنی نے ’ہمارے راستے پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس پر ہم نے متعدد درخواستیں دی ہیں۔ حکام ہمارے مسئلے سے آگاہ ہیں مگر پھر بھی وہ اس معاملے کو حل نہیں کر رہے ہیں، جس وجہ سے اکثر و بیشتر ایسے ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں۔‘
سید لیاقت علی کا الزام ہے کہ حالیہ واقعے کا آغاز بھی کمپنی کی جانب سے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ’ہمارے ایک لڑکے کو ایک سکیورٹی گارڈ نے اپنے راستے پر سے گزرنے پر بندوق سے مارا تھا، جس پر ہمارے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے تھے اور بات تصادم تک جا پہنچی۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے اپنی رکاوٹ غلط مقام پر لگا رکھی ہے، ’جہاں پر یہ رکاوٹ لگائی گئی ہے وہ مقامی لوگوں کا راستہ ہے‘۔
وہ کہتے ہیں ’ہم غریب لوگ ہیں۔ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ریزوٹ کے اندر داخل ہونے کے لیے 500 روپے انٹری فیس ادا کریں۔ ہم لوگ پی سی ہوٹل اور چیئر لفٹ والے مقام پر کوئی مداخلت نہیں کرتے ہیں۔ مگر ہمیں اپنے روزگار کے مقامات اور گھروں میں جانے کے لیے راستہ استعمال کرنا ہی ہے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے کمپنی کی جانب سے تو مقدمہ درج کرلیا ہے مگر ’ہماری طرف سے مقدمہ درج نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ہمارے زخمی لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
ڈی پی او سوات سید زاہد مروت نے سید لیاقت علی کی جانب سے یکطرفہ ایف آئی آر کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس مقامی لوگوں کی شکایت سننے کو بھی تیار ہے۔ مگر پولیس کے مطابق مقامی لوگوں نے کوئی شکایت درج نہیں کروائی ہے۔
مالم جبہ سکی ریزوٹ اور مقامی لوگوں کے درمیان پرانا تنازع
مالم جبہ سکی ریزوٹ منصوبے کی مالک کمپنی سیمسنز گروپ آف کمپنی ہے۔ سیمسنز گروپ آف کمپنی نے پبلک پرائیویٹ معاہدے کے تحت سنہ 2014 میں اس منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔ منصوبے پر کام شروع ہوتے ہی مقامی لوگوں اور ریزوٹ کی انتظامیہ کے درمیان راستے کا تنازع شروع ہو گیا تھا۔
اب تک اس معاملے پر تقریباً چھ تصادم ہو چکے ہیں۔ یہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ کے سوات بینچ میں بھی زیر سماعت رہا تھا۔ سوات بینچ نے اپنے ایک فیصلے میں حکم دیا تھا کہ یہ کمپنی اس علاقے میں، جو ان کو حکومت نے لیز پر دے رکھا ہے، وہاں پر وہ انٹری فیس یا ٹیکس وصول کرسکتی ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کمپنی کو اپنی حدود سے باہر کوئی رکاوٹ وغیرہ نصب کرنے، فیس یا ٹیکس وصول کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حدود کا تعین کرے۔ اگر کمپنی کوئی ایسا کام کرتی ہے تو ضلعی انتظامیہ اس کے خلاف کارروائی کرے۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی فریق کو کوئی شکایت ہو تو وہ ایسے میں مقامی متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مقامی لوگوں نے مقامی عدالت سے سٹے آرڈر حاصل کر رکھا ہے۔ اب یہ معاملہ ایک سے زائد مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔
’کمپنی ہر سال حکومت کو دو کروڑ ادا کرتی ہے‘
کمپنی کے قانونی مشیر محمد طاہر قاسمکا کا کہنا ہے کہ 'ہماری کمپنی نے حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 275 ایکٹر زمین 33 سال کی لیز پر حاصل کی ہے، جس میں حکومت کو ہر سال تقریباً دو کروڑ روپے لیز کرائے کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔'
محمد طاہر قاسمکا کا کہنا ہے کہ 'ہماری کمپنی اب تک اس منصوبے پر تقریباً چھ سو کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔ حکومت کے ساتھ ہمارا معاہدہ تھا کہ ہم فائیو سٹار ہوٹل، چئیر لفٹ سمیت سیاحوں کی دلچسپی کے لیے دیگر 16 قسم کی سہولتیں فراہم کریں گے اور وہ سب سہولتیں تقریباً فراہم کر دی گئی ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'اس سیاحتی منصوبے کا آغاز انتہائی مشکل حالات میں اس وقت کیا گیا تھا جب سوات میں کوئی داخل بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہماری کمپنی نے صرف سرمایہ کاری ہی نہیں کی بلکہ پوری دنیا کو پیغام دیا کہ سوات اور پاکستان پرامن خطہ ہونے کے علاوہ سرمایہ کاری اور سیاحوں کے لیے بھی محفوظ ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'جب سے ہمارے فائیو سٹار ہوٹل نے کام شروع کیا ہے۔ اس وقت سے مالم جبہ میں بیس نئے اور جدید ہوٹل قائم ہوئے ہیں۔ ہماری سرمایہ کاری کے بعد علاقے میں روزگار کے نئے مواقع کھلے ہیں۔'
محمد طاہر قاسمکا کا دعویٰ ہے کہ مالم جبہ ریزوٹ میں سردیوں کے موسم میں یومیہ دو ہزار سیاح آتے ہیں، جو پورے سوات کے لیے معاشی سرگرمیاں لے کر آتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ 'حکومت کے ساتھ معاہدے کی شق اٹھارہ میں یہ شامل ہے کہ ریزوٹ کی حدود میں داخلے کی فیس وصول کی جائے گئی۔ اس فیس کے عوض ہم سیاحوں کو سکیورٹی کے علاوہ بیت الخلا، تفریح کی جگہ، صفائی ستھرائی، مفت طبی سہولت سمیت دیگر سہولتیں مہیا کرتے ہیں۔'
انھوں نے بتایا کہ مالم جبہ سکی ریزوٹ میں چھ سو افراد کا عملہ کام کر رہا ہے۔ جن میں اکثریت سوات کے مقامی افراد کی ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں سیاحت کے فروغ کے لیے کمپنی نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
’اب اگر بار بار ہمارے رستے میں روڑے اٹکائے جائیں گے تو اس سے کمپنی کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جو کسی بھی صورت میں سیاحت پر سرمایہ کاری کے لیے مناسب ماحول کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔‘
کمپنی کے مطابق حکومت نے جن 28 افراد پر مشتمل پولیس کی بٹالین انھیں سکیورٹی کے طور پر دے رکھی ہے اس کا خرچہ بھی کمپنی خود ادا کرتی ہے۔ طاہر قاسمکا کے مطابق یہ بٹالین ایسے پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہے جو ایس ڈی او بنا کر بٹھا دیے گئے تھے۔ ان کے مطابق پولیس کے علاوہ کمپنی نے اپنے طور پر نجی سکیورٹی کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔