آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں کام کرنے والے چینی انجینیئر جو فیکٹری میں ہی رہنے پر مجبور ہیں
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
’میں کیسے بتاؤں کہ چین میں میری زندگی کتنی مختلف تھی۔ وہاں بہت کچھ تھا جو یہاں نہیں۔‘
ہوجن (فرضی نام) جب 2017 میں کام کے لیے پہلی بار پاکستان آئے تو انھوں نے پاکستان اور چین کے گہرے تعلقات کے بارے میں بہت سن رکھا تھا۔ شاید یہ وہ واحد چیز تھی جو وہ پاکستان کے بارے میں یہاں آنے سے پہلے جانتے تھے۔
یہ وہی سال تھا جب ایک چینی جوڑے کو کوئٹہ سے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا جبکہ اس واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔
اس واقعے کے بعد جب پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور چین کے صدر شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے لیے قازقستان کے شہر آستانہ میں اکٹھے ہوئے تو خبریں آئیں کہ چینی صدر نے پاکستانی وزیر اغظم سے ملاقات نہیں کی۔
چینی حکام نے تو ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی صدر نے نواز شریف سے ملاقات کی تھی لیکن اس کا ذکر پاکستان کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری ہونے والی خبر میں تھا نہ چینی وزارت خارجہ کی ان تصاویر میں جن میں دیگر عالمی رہنماؤں سے صدر شی کی ملاقات کو محفوظ کیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد بھی شدت پسندوں کی جانب سے کئی بار پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جس کا اثر نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات پر ہوا بلکہ یہاں کام کرنے والے چینی شہریوں کی زندگیاں بھی اس سے متاثر ہوئیں۔
رواں سال جولائی میں داسو ڈیم کے قریب بس پر مبینہ حملے میں نو چینی انجینیئرز کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
’ہم فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور یہیں رہتے ہیں‘
ہوجن اور ان کے دیگر سات ساتھی پاکستان میں ایک ایسی فیکٹری میں بطور انجینیئرز کام کرتے ہیں جہاں مچھلی کا تیل نکالنے سمیت دیگر اشیا تیار کی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے علاوہ بھی مختلف چینی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ چینی ملازمین کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔
اس فیکٹری میں مچھلی کی اتنی بدبو تھی کہ وہاں چند لمہے بھی گزارنا محال تھا تو رہنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس فیکٹری کے چاروں اطراف اونچی دیواریں تھیں جس پر خاردار تاریں لگی تھیں اور ہر کچھ فاصلے پر ایک سی سی ٹی وی کیمرا بھی نصب تھا۔ اس کے علاوہ ایف سی کے گارڈز بھی فیکٹری کے اندر اور باہر تعینات تھے۔
ہوجن کہتے ہیں کہ ’ہماری زندگی اب اس فیکٹری تک ہی محدود ہے۔ ہم یہاں کام کرتے ہیں اور یہیں رہتے ہیں۔‘
اس فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے سکیورٹی کے حالات اور ان چینی شہریوں کی جان کو لاحق خطرے کی وجہ سے وہ انھیں فیکٹری کے اندر رکھنے پر مجبور ہیں۔
لیکن ان کی رہائش کے لیے فیکٹری میں کوئی علیحدہ رہائشی مکانات نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی جِم یا پارک وغیرہ ۔ بلکہ ہوجن اور ان کے ساتھی کارخانے میں قائم تین چھوٹے کمروں میں رہائش پذیر ہیں۔
’میرے دوست پاکستان آنے سے پہلے پوچھتے ہیں تو میں انھیں بتاتا ہوں ویسے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ پاکستان ضرور آئیں۔ بس اتنا ہے کہ آپ یہاں باہر نہیں نکل سکتے۔‘
فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ داسو ڈیم واقعے سے پہلے وہ کبھی کبھار ان چینی انجینیئرز کو پولیس سکیورٹی میں بازار وغیرہ لے جاتے تھے مگر اب اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمیں کہا گیا کہ ہم ان چینی شہریوں کو کہیں نہیں لے جا سکتے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی میڈیکل ایمرجنسی ہو تو ان کو ہسپتال لے جانے کے بجائے ہمیں ڈاکٹر کو فیکٹری لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘
’ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے کہ وہ کچھ غلط نہیں کھائیں گے‘
ہوجن اور ان کے ساتھیوں کے لیے خوف اور نقل و حرکت پر پابندی ہی واحد دشواری نہیں۔ خوراک اور رہن سہن کے فرق اور بعض متعصبانہ رویوں نے بھی ان کی زندگیوں کو چین میں زندگی سے بہت مختلف بنا دیا ہے۔
فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان کارکنان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ یہ ایسی کوئی چیز نہیں کھائیں گے جس پر انھیں اعتراض ہے۔
ہوجن کے ایک ساتھی اپنی اہلیہ کو بھی اپنے ساتھ پاکستان لائے تاکہ وہ ان سب کے لیے کھانا بنا سکیں۔ ہوجن کا کہنا ہے کہ وہ سب زیادہ تر چاول اور سبزیوں پر ہی گزارا کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’(چینی) کھانے پینے کی ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جو یہاں میسر نہیں۔ لیکن کیونکہ مجھے یہاں رہتے ہوئے پانچ سال سے زیادہ (عرصہ) ہوگیا ہے تو مجھے اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اب اس کی عادت سی ہو گئی ہے۔‘
ہوجن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین میں بڑا فرق مذہب کا ہے۔
’پاکستان اور چین بطور ملک تو بہت مختلف ممالک ہیں۔ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے جبکہ چین مختلف ہے۔ ظاہر ہے وہ اپنا ملک ہے۔ اس لیے وہاں ہم باہر بآسانی گھومتے پھرتے ہیں۔ جیسے چاہے رہ لیتے ہیں۔‘
’چینی انجینیئر رکھنا ہماری مجبوری ہے‘
پاکستان میں کام کرنے والے زیادہ تر چینی شہری حکومت کے زیر نگرانی چلنے والے سی پیک منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور اس فیکٹری کے مالک ان چند پاکستانیوں میں سے ہیں جنھوں نے اپنی فیکٹری میں چینی انجینیئرز کو بھرتی کیا ہوا ہے۔
’یہ پلانٹ چین سے آیا ہے اور اس کو چلانے والے بھی چینی ہیں۔ پاکستان میں اس پلانٹ کو چلانے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے میری مجبوری ہے کہ میں ان چینی انجینیئرز کو رکھوں۔ حالانکہ ان کو رکھنے پر حکومتی شرائط بہت سخت ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ کسی چینی شہری کو نوکری پر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سے این او سی لیا جائے۔
'اس کے علاوہ اب شرائط مزید سخت ہوگئی ہیں۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم ان کے لیے بلٹ پروف گاڑی رکھیں۔ حکومتی سکیورٹی کے علاوہ ہمیں ذاتی سکیورٹی گارڈز رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے جبکہ قریبی تھانے اور ڈی سی کو اطلاع دیے بغیر انھیں کہیں بھی لے جانے کی اجازت نہیں۔'
فیکٹری کے مالک کے مطابق ان تمام شرائط نے ان کے لیے زیادہ دشواریاں پیدا کر دی ہیں لیکن کیونکہ پاکستان میں یہ کام کوئی نہیں جانتا۔ لہذا چینی شہریوں کو رکھنا ان کی مجبوری ہے۔
چینی انجینیئرز کو پاکستان میں کس کا خطرہ؟
چینی اور پاکستانی حکومتیں سی پیک کو پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے لیے ’گیم چینجر‘ قرار دیتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سی پیک کے ذریعے بلوچستان سمیت ملک کے بہت سے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی کام کیے جائیں گے جس سے ترقی سے محروم ان علاقوں میں خوشحالی آئے گی۔
اسی لیے پاکستانی حکومت نے سی پیک اور اس کے منصوبوں میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے 9000 فوجی اور 6000 نیم فوجی اہلکاروں کا ایک خصوصی دستہ بھی ترتیب دیا ہے۔
اس کے علاوہ چینی کارکنان کی سکیورٹی کے لیے بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وقتاً فوقتاً شدت پسند تنظیموں کی جانب سے چینی سفارتی عملے اور کارکنان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
شدت پسندوں کی جانب سے چینی انجینیئرز کو پہلی مرتبہ 2004 میں گوادر میں نشانہ بنایا گیا جب ایک کار بم حملے میں تین چینی شہری مارے گئے تھے۔ اس کے بعد 2007 میں ایک بار پھر چینی کارکنان کو پشاور میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
سنہ 2017 میں ایک چینی جوڑے کو کوئٹہ سے اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی اور ایک سال بعد 2018 میں چینی انجینیئرز کی ایک بس کو خودکش حملہ آور نے دالبندین کے علاقے میں نشانہ بنایا تھا۔
اس حملے کے ایک ماہ بعد کراچی میں چینی قونصل خانے پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔
پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کو بلوچ علیحدگی پسندوں اور اسلامی شدت پسند تنظیموں دونوں ہی کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
بلوچ علیحدگی پسندوں نے چینی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سی پیک کے نام پر بلوچ سرزمین اور اس کے قدرتی وسائل پر قبضے کا منصوبہ ترک کریں ورنہ انھیں مزید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری طرف اسلامی شدت پسند تنظیموں نے چین میں اویغور نامی مسلمان اقلیتی برادری کے ساتھ امتیازی سلوک کو وجہ بنا کر ان کو پاکستان میں نشانہ بنایا ہے۔
چین ماضی میں اویغور برادری کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔
’ایسا پرٹوکول تو ہمیں چین میں بھی نہیں ملتا‘
لیکن ہوجن پاکستانی حکومت کے اقدامت سے مطمئن ہیں۔
’حفاظتی اقدامات کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان بہت اچھا ہے اس لیے کہ پاکستان اور چین بہت اچھے دوست ہیں۔ یہ جو حادثات ہوئے تھے تو شاید اس لیے ہوئے کہ وہاں بغیر سکیورٹی کے چینی دوست چلے گئے تھے، تو حادثہ ہو گیا۔
’ہمیں احتیاط کرنی چاہیے۔ بغیر سکیورٹی کے باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ لیکن حکومت پاکستان نے جو حفاظتی اقدامات کیے ہیں وہ بہت بہتر ہیں۔ پولیس فورسز ہمارے ساتھ 24 گھنٹے ہوتی ہیں۔ شاید ہمیں چین میں بھی ایسا پروٹوکول نہ ملے۔‘
ہوجن کو امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی پاکستان میں بھی معمول پر آتی جائے گی۔
’ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے ہاں اچھا ہی ہوگا۔ بہتری آئے گی۔ اور جو لوگ بھی پاک چین دوستی کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں، خواہ وہ یہاں کے مقامی ہوں، انڈیا سے ہوں یا کہیں سے بھی ہوں، سب تخریب کار اپنے مقاصد میں ناکام ہوں گے۔ پاکستانی اور چینی حکومتیں مل کر ان سب سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔‘