رجسٹریشن یا ’قابل اعتراض مواد‘ کی برآمدگی: کوئٹہ میں آٹھ ’ایرانی سکول‘ کیوں بند کیے گئے؟

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

سکولوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات میں ان کے باہر جو رونق نظر آتی ہے وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مری آباد کے علاقے میں واقع دو نجی سکولوں کے باہر اب نظر نہیں آ رہی کیونکہ ان دونوں سکولز کو 14 جون کو مقامی حکام نے سیل کر دیا۔

کوئٹہ میں مقامی حکام نے چار روز کے دوران مجموعی طور پر آٹھ سکول سیل کیے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ زوہیب الحق کا کہنا ہے کہ یہ ایرانی انتطامیہ کے تحت سکول تھے جو نہ تو مقامی قوانین کے تحت رجسٹرڈ تھے بلکہ یہاں ایرانی نصاب پڑھانے کے علاوہ قابل اعتراض مواد بھی برآمد ہوا۔

سکولوں کی بندش پر توحید بوائز پبلک سکول کے وائس پرنسپل محمد علی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سکول یہاں 30 سال سے زائد عرصے سے قائم تھے لیکن اتنے عرصے بعد اب اچانک ان کو سیل کرنے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

انھوں نے ان سکولوں میں قابل اعتراض مواد پڑھانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بندش سے یہاں زیر تعلیم طلبا اور طالبات کا قیمتی وقت ضائع ہو گا۔

سیل کیے جانے والے یہ سکول کوئٹہ میں کہاں تھے؟

جن دو سکولوں کو مری آباد کے علاقے میں بند کیا گیا وہ علمدار روڈ کے آخر میں جنت گلی میں واقع ہیں۔

ان میں سے ایک سکول توحید بوائز پبلک سکول اور دوسرا خدیجہ کبریٰ گرلز پبلک سکول کے نام سے قائم تھا لیکن یہ دونوں ایک ہی عمارت میں تھے۔ صبح کے وقت یہاں لڑکوں جبکہ شام میں لڑکیوں کو پڑھایا جاتا تھا۔

سکول کے سامنے اور اس کے ساتھ سٹیشنری کی چار پانچ دکانیں ہیں، جن کے مالکان نے بتایا کہ یہاں پولیس کی نفری آئی، عملے کو نکالا اور اس کو سیل کر کے چلے گئے۔

ان دو سکولوں کے علاوہ کوئٹہ شہر کے مغرب میں بروری کے علاقے ہزارہ ٹاﺅن میں بھی چھ سکولوں کو سیل کیا گیا۔

اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ زوہیب الحق نے وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی اسکول تھے جن کے فنڈز نہ صرف ایران سے آ رہے تھے بلکہ یہ ملکی اور مقامی قوانین کے تحت رجسٹرڈ بھی نہیں تھے۔

’ان کے اساتذہ بھی غیر ملکی تھے جبکہ ان میں نصاب بھی غیر ملکی پڑھایا جا رہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان سے جو قابل اعتراض مواد برآمد ہوا ہے ان کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

طویل عرصے سے قائم سکولوں کے خلاف پہلے کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

توحید بوائز پبلک سکول کے وائس پرنسپل محمد علی کا کہنا تھا کہ جن آٹھ سکولوں کو سیل کیا گیا وہ گذشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے قائم تھے اور ان میں مجموعی طور پر 11 سو سے زائد طلبا اور طالبات زیر تعلیم تھے ۔

انھوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ طویل عرصے سے قائم ان سکولوں کو آخر اب کیوں بند کیا گیا۔

’ان سکولوں کی سنہ 1991 میں باقاعدہ یہاں رجسٹریشن ہوئی لیکن اب حکام کا کہنا ہے کہ ان کی تجدید کیوں نہیں کی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آپ مطالعہ پاکستان اور یہاں کا نصاب کیوں نہیں پڑھا رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کی تجدید کے لے درخواستیں دی گئی تھیں لیکن ان کو تسلیم نہیں کیا گیا اور اچانک سکول بند کر دیے گئے۔

محمد علی کا کہنا تھا کہ جہاں تک غیر ملکی نصاب کی بات ہے تو وہ اس لیے پڑھایا جا رہا تھا کیونکہ ان سکولوں میں بچوں کی اکثریت افغان مہاجر ہیں۔

’یہاں اور بھی بہت سارے سکول ہیں جو فارسی اور دری میں پڑھا رہے ہیں لیکن معلوم نہیں ان آٹھ سکولوں کو ہی کیوں سیل کیا گیا۔‘

انھوں نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ ان سکولوں میں مذہبی یا کسی اور منافرت کی بنیاد پر کوئی قابل اعتراض مواد پڑھایا جا رہا تھا اور نہ ہی وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار تھے کہ سکولوں سے کوئی قابل اعتراض مواد برآمد ہوا۔

تاہم اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کا کہنا تھا کہ اس سے بڑھ کر قابل اعتراض مواد اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس ملک میں آپ نے سکول قائم کیا، اس کے نصاب کو آپ مکمل نظرانداز کر رہے ہیں۔

’جس ملک میں آپ کے سکول قائم ہیں ان میں اس ملک کے کسی ہیرو کی تصویر نہیں بلکہ ساری غیر ملکی شخصیات کی تصاویر ہیں۔‘

محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان کا کیا کہنا ہے؟

بلوچستان میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے لیے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ رجسٹریشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2015 قائم کیا گیا۔

بلوچستان ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلیویشن شبیر احمد خان نے بتایا کہ سنہ 2015 کے ایکٹ کے تحت بلوچستان میں تمام پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن ضروری ہے خواہ وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی۔

انھوں نے بتایا کہ اس ایکٹ کے بعد وہ تمام قوانین منسوخ ہو گئے جو سنہ 1991 میں تھے یا اس سے پہلے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے بعد تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی دوبارہ رجسٹریشن بھی لازمی قرار دی گئی تھی اس لیے بلوچستان میں جتنے بھی پرائیویٹ سکول تھے ان سب نے دوبارہ رجسٹریشن کروائی لیکن ان ایرانی سکولوں نے رجسٹریشن نہیں کروائی۔

انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان سکولوں کا سنہ 1991 میں محکمہ تعلیم کے کے ساتھ ایک سمجھوتہ ہوا تھا لیکن وہ وقتی تھا اور انھوں نے ہمارے قوانین پر عمل نہیں کیا۔

شبیر احمد خان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ان سکولز میں کام کرنے والے بعض اساتذہ نے شکایت کی تھی کہ ان کو تنخواہ نہیں مل رہی اور جب اس حوالے سے تحقیقات کی گئیں تو یہ معلوم ہوا کہ یہ ہمارے ملکی قوانین پر عملدرآمد نہیں کر رہے ہیں۔

شبیر احمد نے بتایا کہ ان کے ذمہ داروں کو رجسٹریشن اور ملکی قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے سے متعلق آگاہ کیا جس کے بعد انھوں نے رجسٹریشن کے لیے نیا پروفارما جمع کروایا لیکن ان میں بھی ہمارے قانونی تقاضے پورے نہیں ہو رہے تھے جس کے باعث ہم نے ان سکولوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب محمد علی نے بتایا کہ ان کے علم میں یہ بات نہیں کہ آیا ایرانی حکام نے ان سکولوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے رابطہ کیا یا نہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر زوہیب الحق نے بھی بتایا کہ اگر ایرانی حکام نے ان سکولوں کے بارے میں کوئی رابطہ کیا ہو گا تو یہ وزارت خارجہ کے حکام کو معلوم ہو گا لیکن ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں۔