بلاول بھٹو: مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے اتحاد کو نقصان پہنچنے نہیں دیں گے

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام اتحادیوں کو ساتھ رکھیں گے اور ’کسی ایک جماعت کی سائیڈ نہیں لیں گے۔‘

پی ڈی ایم کے اندر تناؤ برقرار ہے جہاں مسلم لیگ ن اس میں فارورڈ بلاک قائم کرنے کا عندیہ دے رہی ہے تو وہیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے واضح کیا ہے کہ 'ہمیں کسی کو منانے کی ضرورت نہیں۔'

سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب میں بلاول نے یہ امید ظاہر کی کہ ’مولانا صاحب چھوٹے موٹے اختلاف رائے کی وجہ سے اتحاد کو نقصان پہنچنے نہیں دیں گے۔‘

دوسری جانب پی ڈی ایم کی جماعت مسلم لیگ ن کی ناراضی برقرار ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ضابطے کی خلاف ورزی پر مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے جواب طلبی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’ہر وقت آر یا پار کی سیاست نہیں چلتی‘

پریس کانفرنس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ ’کچھ جماعتیں یہ پروپیگنڈا کر رہی ہیں کہ جیسے پی پی پی نے کوئی ڈیل کی ہے۔‘

’ہم اس قسم کی سیاست نہیں کرتے۔ میں سمجھتا ہوں ہمیں اس قسم کے غلط الزامات عائد نہیں کرنے چاہیے۔۔۔ غلط بیان بازی کسی بھی جماعت کے لیے اپوزیشن کے فائدے میں نہیں۔ اس لیے میں بھی گریز کر رہا ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ ہم ہر بات کا اچھی طرح سے جواب دے سکتے ہیں۔ اس لیے اب تک جواب نہیں دے رہا ہوں۔'

انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو منانے کی ضرورت ہے۔ ہم نے پی ڈی ایم کا اتحاد برابری پر مل کر کام کرنے کے لیے بنایا تھا۔‘

’امید کرتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان جلد صحتیاب ہوں گے تاکہ ان سے ملاقات کا موقع ہو۔ وہ پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں، ان پر بہت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو ساتھ رکھیں اور کسی ایک جماعت کی سائیڈ نہ لیں۔'

مسلم لیگ ن کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ ’ہر وقت اور ہر موقع پر آر یا پار کی سیاست نہیں چلتی، چھوٹی چھوٹی وجوہات کی وجہ سے ہمیں اپنے اصل مقصد کو نقصان نہیں پہچانا چاہیے جس کے لیے ہم سب یکجا ہوئے ہیں۔‘

مسلم لیگ ن کا پی ڈی ایم میں فارورڈ بلاک بنانے کا عندیہ

گذشتہ روز مسلم لیگ ن کے پارلیمانی رہنما اور امیدوار برائے قائدِ حزبِ اختلاف اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے سینیٹ میں پانچ جماعتوں کا فارورڈ بلاک بنانے کی بات کی گئی تھی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف بننے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ’اتحاد کو توڑنا کسی کی بھی خواہش نہیں، یہ جو ردعمل آیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے حکومتی بینچوں سے ووٹ لیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر بات آپس میں ہی رہتی کہ کچھ لوگ ڈیکلریشن فارم اِدھر دے دیتے کچھ اُدھر دے جاتے اور پیپلز پارٹی ہی (سینیٹ میں قائد حزب اختلاف) بن جاتی۔ یہ جو بذریعہ چیئرمین سینٹ اوپر سے لوگ آئے ہیں اس پر سب کو دُکھ ہوا ہے۔‘

’اس بات پر سینیٹ میں (اپوزیشن کی) پانچ اتحادی جماعتیں، اویس نورانی صاحب، جمعیت علمائے اسلام اور شیر پاؤ صاحب ہمارے ساتھ ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کے خلاف اتحاد بنایا گیا۔ اگر آپ حکومت کے ہی چھ ووٹ لیں گے تو اپوزیشن کی آزادی پر سمجھوتہ کریں گے۔‘

اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور اے این پی سے پوچھیں کہ ان ووٹوں کا جواز کیا تھا۔‘

’ہم کہتے ہیں کہ آپ ان چھ لوگوں کو خود سے الگ کر لیں، حقیقی اپوزیشن مل کر چلے تو کسی کو مسئلہ نہیں۔ لیکن اس طرح نہیں کہ آپ نے حکومت کے بندے بٹھائے ہوئے ہوں۔ آپ ان کو خدا حافظ کہہ دیں گے تو اپوزیشن پھر اکھٹے ہو جائے گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’ناراضی کہہ لیں یا بدمزگی لیکن کچھ تو ہے جو چل رہا ہے۔ پرسوں سے سینیٹ کا اجلاس ہو گا کسی بھی مسئلے پر ووٹنگ ہو گی تو پتا چل جائے گا کہ 49 ووٹ ہیں یا 57۔‘

تو دوسری صورت میں کیا آپشن ہے، اس کے جواب میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے سابق ڈپٹی چئیرمین سلیم مانڈوی والا نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ پیپلز پارٹی وہی چاہتی ہے جو پی ڈی ایم چاہتی ہے۔

’اگر کسی چیز پر اختلاف ہو چاہے وہ استعفے ہوں، سینیٹ میں جو پی پی پی نے فیصلہ لیا یا مارچ کا معاملہ ہو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پی ڈی ایم بحران میں ہے۔ میرا خیال ہے کہ کسی سٹیج پر جا کر یہ حل ہو جائے گا اور ابھی بھی بات چیت ہو رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم کا فارورڈ بلاک نہیں ہے اور اپوزیشن بھی الگ نہیں ہو سکتی۔ فارورڈ بلاک تو ان چھ لوگوں کا بنا تھا انھوں نے دیکھنا ہے کہ وہ کہاں بیٹھیں گے۔‘

’ایسا ضرور ہے کہ پارٹیوں میں لیڈر شپ لیول پر تھوڑا عدم اعتماد تو پیدا ہوا ہے اور اقدامات پر بُرا منایا گیا۔ جب بلاول صاحب نے یوسف رضا گیلانی کے نام کا اعلان کیا تو رابطہ نہیں کیا گیا اور جب میاں نواز شریف نے تارڑ صاحب کا نام لیا تو رابطہ نہیں کیا۔ اس وقت اگر رابطے ہو جاتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔‘

پی ڈی ایم کے مستقبل پر ان کا کہنا تھا کہ ’مولانا صاحب نواز شریف سے بھی بات کر رہے ہیں اور زرداری صاحب سے بھی بات کر رہے ہیں۔ اور یہ کوئی ایسی ناراضی نہیں کہ پی ڈی ایم ٹوٹ جائے۔‘