آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپریم کورٹ کا وکلا کو غیر قانونی چیمبرز ہٹانے کا حکم، مزید مہلت کی درخواست مسترد
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر کے فٹبال گراؤنڈ میں قائم وکلا کے غیر قانونی چیمبرز کو خالی کرنے کے لیے مزید مہلت کی درخواست کو رد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر جگہ خالی کر کے انتظامیہ کے حوالے کر دیں۔
سماعت کے دوران وکلا کی طرف سے وکیل حامد خان نے ان چیمبرز کو ہٹانے کے لیے ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں منتقل ہونے تک کی مہلت طلب کی لیکن اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔
زمین کا معاملہ کیا ہے؟
اگر اس بات کے پس منظر میں جائیں تو سنہ 2018 میں ایک خاتون نے ایف ایٹ کے فٹبال گراؤنڈ سے تمام تر غیر قانونی چیمبرز ہٹانے کی درخواست عدالت میں دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں لکھا تھا کہ اس گراؤنڈ میں بچوں کے کھیلنے کی جگہ تنگ کی جا رہی ہے۔
جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 17 فروری 2021 کو اوپن کورٹ میں حکم جاری کرتے ہوئے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو کہا تھا کہ وکلا کے غیر قانونی چیمبرز کو فوراً ہٹایا جائے اور اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ اس فٹبال گراؤنڈ پر پبلک سکولز کے درمیان 23 مارچ کو میچ بھی کروائیں۔
منگل کے روز سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے وکلا کی طرف سے جمع کرائی گئی پٹیشن خارج کر دی اور سوال اٹھایا کہ کس بنیاد پر غیر قانونی چیمبرز کو رہنے دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وکلا کی جانب سے موجود وکیل حامد خان نے درخواست کی کہ چیمبرز کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے دو سال کا وقت دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کو ریڈ زون میں ہائی کورٹ کی نئی عمارت میں منتقل ہونے میں تقریباً دو سال کا عرصہ لگے گا۔ تاہم جسٹس گلزار نے کہا کہ اتنا طویل وقت نہیں دے سکتے اور یہ کہ وکلا دو ماہ کے اندر جگہ خالی کر کے انتظامیہ کو دے دیں۔
اب وکلا کیا کریں گے؟
اس بارے میں بات کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری سہیل اکبر چوہدری نے کہا کہ 'ہمارے پاس کوئی اور جگہ نہیں ہے۔ حکومت اور جوڈیشل کمیشن کو چاہییے کہ ہماری مدد کریں۔ کیونکہ اچانک سے معزز عدالت کے حکم پر پانچ سو سے زیادہ وکلا دربدر ہو جائیں گے۔'
سہیل اکبر نے کہا کہ 'سی ڈی اے کا اپنا چیمبر بھی اسی جگہ پر ہے جس جگہ کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔ جی ٹین میں اسلام آباد ہائی کورٹ جہاں تعمیر ہوئی ہے وہ دراصل ڈسٹرکٹ کورٹ کی جگہ ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'ہمارے پاس اس وقت متبادل جگہ چالیس کنال کا پلاٹ ہے جہاں منتقل ہونے کے لیے وقت درکار ہے۔ اگر ہمیں وقت دیتے ہیں تو بہت اچھا ہو جائے گا۔ ورنہ بہت سے لوگ اس صورتحال میں سڑکوں پر بھی نکل سکتے ہیں۔ جبکہ اس وقت آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'ایسا نہیں کہ وکلا کی جانب سے غلط نہیں کیا گیا۔ جس پر اسلام آباد بار کونسل نے بھی کوئی خاص ایکشن نہیں لیا۔ لیکن تین چار جگہوں کو خالی کرانے کے بجائے سب کو ہٹایا جا رہا ہے۔'
سی ڈی اے کا موقف
اس بارے میں جب سی ڈی اے کے ترجمان آصف علی رضا سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ 'اس سے پہلے وکلا کو چیمبرز ہٹانے کے لیے 28 فروری تک کی ڈیڈ لائن اخباروں میں نوٹس کے ذریعے دی گئی تھی۔ جس کے بعد ہم نے 23 مارچ کو میچ کرانے کے لیے تیاریاں شروع کیں۔ پھر وکلا یہ معاملہ عدالت میں لے گئے۔ تو اب جو عدالت کہے گی وہ ہی ہو گا۔'
انھوں نے کہا کہ 'ایف ایٹ کے چیمبرز تقریباً 30 سے 40 سال کے عرصے سے یہاں موجود ہیں۔ جبکہ فٹبال گراؤنڈ پر بھی آہستہ آہستہ غیر قانونی تجاوزات پھیلنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس وقت ہم مکمل آرڈر کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد ہماری اپنی بھی میٹنگ ہو گی۔ اس میں آئندہ کا لائحہ عمل اور تجاوزات ہٹانے کے بارے میں فوری کام کرنے پر بھی بات ہو گی۔'
’یہ فیصلہ آج نہیں تو کل سامنے آنا ہی تھا‘
اس سے پہلے عدالت نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کو وکلا کے چیمبرز بنانے کے لیے سفارشات جمع کرانے کی تجویز دی تھی۔ اور ان کو کہا تھا کہ وکلا کو مختص کی گئی پانچ ایکڑ کی جگہ کو استعمال میں لایا جائے۔
ان تجاوزات کے بارے میں وکلا برادری میں چند لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ آج نہیں تو کل سامنے آنا ہی تھا۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے کہا کہ 'ہم غیر قانونی تجاوزات کی حمایت نہیں کر سکتے۔ آج سپریم کورٹ کے حکم اور اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔ ان غیر قانونی چیمبرز کو اب ہٹا دینا چاہییے۔'
دوسری جانب، ایڈووکیٹ عثمان وڑائچ نے کہا کہ 'اب سوال اٹھے گا کہ یہ لوگ کہاں جائیں گے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ غیر قانونی کام کرنے سے بہتر ہے کہ ریڈ زون میں ہائی کورٹ کی عمارت مکمل ہونے کا انتطار کریں۔'