ٹائیگر فورس اور شیر جوان فورس: ماضی کے طلبا رہنما نوجوانوں کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

وزیر اعظم عمران خان کی ’ٹائیگر فورس‘ ہو یا پھر مریم نواز کے ’شیر جوان فورس‘، سیاسی رہنماؤں کا ایسی فورسز تشکیل دینے کا بظاہر بنیادی مقصد ایک ہی نظر آتا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل کی سیاسی وابستگی کو یقینی بنا کر ان کی حمایت حاصل کی جا سکے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی وہ طبقہ ہے جو کسی بھی ملک میں تبدیلی لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

نوجوانوں کے سیاست میں کردار سے متعلق بی بی سی نے ماضی میں طلبا سیاست میں حصہ لینے والے سیاسی رہنماؤں سے بات کی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ تب اور آج کے نوجوان کی طرز سیاست میں کیا فرق ہے۔

حفیظ اللہ خان نیازی، سابق صدر قائد اعظم یونیورسٹی طلبا یونین

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار اور اپنے دور کے طالبعلم رہنما حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز سے نوجوانوں کو سیاست سے دور رکھا گیا ہے۔ ’یہ بات نہ تو مسلم لیگ ن نے سمجھی، نہ ہی پیپلز پارٹی نے اور نہ ہی کسی اور سیاسی جماعت نے اسے اہمیت دی۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کے مطابق جب سنہ 2013 میں عمران خان نے نوجوانوں کو مخاطب کیا تو اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہ آج اقتدار میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ حفیظ اللہ نیازی وزیر اعظم عمران کے رشتے میں بہنوئی بھی ہیں مگر وہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے تحریک انصاف کا حصہ نہیں ہیں۔

حفیظ اللہ نیازی نے اپنے دور کی سیاست کا آج کے دور کے نوجوانوں کی سیاسی سرگرمیوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے زمانے میں نظریاتی کشمکش عروج پر تھی۔‘

’وہ وقت بائیں بازو کی سیاست کے لیے بہترین تھا۔ میں اس وقت قائد اعظم یونیورسٹی کا صدر تھا۔ اور اس وقت کے طلبا اور نوجوانوں میں ’آئیڈیل ازم‘ ہوا کرتا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ اگر کسی نے نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہے تو انھیں آئیڈیل ازم دینا انتہائی ضروری ہے جبکہ ہماری ملک میں بہت عرصہ پہلے ہی نظریاتی سیاست ختم ہو چکی ہے۔

’ایک طویل عرصے کے بعد عمران خان نے نوجوانوں کو خواب دکھائے اور نوجوانوں کو اپنی جانب مائل کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ اگر پاکستان میں نظریاتی سیاست ہو رہی ہوتی تو ان کے وہ خواب وہاں جگہ نہ بنا پاتے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’80 کی دہائی میں بائیں اور دائیں بازو کی سیاست ایک تحریک تھی، جس کی وجہ سے ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی اس وقت کسی ایک شخصیت کی کوئی اہمیت تھی۔ اس کی مثال جماعت اسلامی ہے کیونکہ وہ کسی کو بھی جمہوری طریقے سے نیچے سے اٹھا کر اوپر لے آتی ہے۔‘

ان کے مطابق ستر کی دہائی میں پورے پاکستان میں جمیعت کبھی الیکشن نہیں ہارتی تھی، اگر کہیں ہارتی بھی تھی تو دوسرے نمبر پر آتی تھی جبکہ دوسری جانب جماعت اسلامی پاکستان کی کبھی مقبول ترین جماعت نہیں رہی ہے۔

’مجھے یاد ہے کہ بھٹو صاحب پاکستان میں جب الیکشن جیتے تو انھوں نے پنجاب یونیورسٹی کا دو مرتبہ دورہ کیا لیکن پھر بھی وہاں سے پاکستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کے امیدوار جہانگیر بدر الیکشن ہار گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ آج بھی اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاست کے بے شمار سیاسی رہنما جن میں جاوید ہاشمی، جہانگیر بدر، سعد رفیق، لیاقت بلوچ اور دیگر اپنے دورکے طالبعلم رہنما تھے۔

حفیظ اللہ نیازی کے مطابق اب جو سیاسی جماعتیں پاکستان میں موجود ہیں وہ کسی نظریے پر کام نہیں کر رہی ہیں کیونکہ ان کی سیاست مخصوص شخصیت کے گرد گھومتی ہے۔ عموماً نوجوان ایسی سیاست کی طرف جانا اور زیادہ دیر تک اس کے کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے۔

نوجوانوں کے لیے نئے پاکستان کا نظریہ

ان کے مطابق یہاں اگر ہم عمران خان کی اقتدار میں آنے سے چند سال پہلے کی سیاست کو دیکھیں تو انھوں نے نوجوانوں کو اس وقت نئے پاکستان کا نظریہ دیا، جس میں نوجوانوں کو سنہری خواب نظر آنے لگے۔ جبکہ اب جو لوگ عمران خان کے ارد گرد نظر آتے ہیں وہ عمران خان کے دیے ہوئے نظریے سے متاثر ہو کر نہیں آئے ہیں۔

ان کے مطابق یہ لوگ صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے عمران خان کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کا کام مریم نواز بھی کر رہی ہیں۔ ’اگر مریم نواز نوجوانوں کو کوئی نظریہ یا نعرہ دینے میں کامیاب ہو گئیں تو نوجوان ان کی طرف آئیں گے ورنہ یہ سب وقتی ہے۔‘

’میرے خیال میں تو ٹائیگر فورس یا شیر جوان فورس بنانے سے سیاسی فائدہ کو کم ہوگا البتہ سیاسی جماعتیں وقتی طور پر نوجوانوں کو اپنی سیاسی لڑائی اور مقاصد کے حصول کے لیے استعمال ضرور کریں گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ آج کے نوجوان آپس میں ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں، بے سمت ہیں کیونکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں سمیت نچلی سطع پر سیاسی شعور اور مسائل کی صیحح انداز میں آگاہی نہیں ہے۔ جس کے پاکستان پر دیرپا اثرات ہوں گے۔

ٹائیگر فورس ہو یا شیر جوان فورس، نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے مد مقابل کر دیا گیا ہے

جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پہلے طلبا اور نوجوان تعلیمی اداروں میں ہی جمہوری انداز میں اپنے لیڈر کا انتخاب کرتے تھے، جس سے نوجوانوں کی گرفت سیاست اور سیاسی فیصلوں میں مضبوط ہونے لگی۔

’جب طاقتور قوتوں کی گرفت کمزور ہونے لگی تو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نوجوانوں اور طلبا کی سیاست کو اس ملک میں بدنام کیا گیا اور پھر اس پر پابندی عائد کی گئی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کام تو فوجی آمریت نے کیا لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی انھی کا ساتھ دیا اور چیزوں کو آگے بڑھایا۔

مزید پڑھیے

ان کا کہنا تھا ’اس کے بعد سیاسی جماعتوں نے محسوس کیا کہ نوجوانوں کے بغیر گزارا نہیں ہے تو انھوں نے ایم ایس ایف، پی ایس ایف، آئی ایس ایف جیسی مختلف تنظیمیں بنائی لیکن وہ چل نہ سکیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی جڑیں مضبوط نہیں ہیں۔‘

’اس کے علاوہ نوجوانوں کو جمہوری سوچ دینے کے بجائے یہ سمجھا گیا کہ یہ ان کے زر خرید ہیں یا وہ صرف ان کی پارٹی کے اشاروں پر چلیں گے تو وہ اس طرز کی سیاست کے ساتھ چل نہیں پاتے ہیں جبکہ ہمارے زمانے میں نوجوان خود اپنے مسائل کی نشاندہی کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں کسی نے پارٹی لائن پر چلنے کے لیے پابند کیا۔‘

ان کے مطابق ہم آپس میں سب نوجوان مل کر بیٹھتے تھے بات چیت کرتے تھے، جس کی وجہ سے نظریاتی سیاست وجود میں رہتی تھیں۔

یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مشرف کے دور میں نوجوان ووٹر کی عمر 18 سال مختص کی گئی تھی، جس کے بعد ایک نوجوان نچلی سطح پر ہی نہیں بلکہ ملکی سیاست میں اہمیت احتیار کر گیا۔

ان کے مطابق ’میرے خیال میں سیاسی جماعتیں جو تنظمیں بنا رہی ہیں جیسے ٹائیگر فورس یا شیر جوان فورس ہے وہ صرف ایک دوسرے کے مقابلے میں تشکیل دی ہیں جبکہ ایسی تمام فورسز اور تنظمیں بری طرح ناکام ہو رہی ہیں، جس کی وجہ بھی یہی ہے کہ نوجوان بھی اپنے مفادات اور طاقت کے لیے ایسی فورسز کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ ’ہماری سیاسی پارٹیاں خود منظم نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں جمہوری عمل ہے تو وہ نوجوانوں کی سیاسی تربیت کیسے کریں گے۔‘

انھوں نے نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر اس ملک کے نوجوان متحد ہو گئے تو اس ملک کے نااہل لوگوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔

ہمارے نوجوان استعمال ہو رہے ہیں

سیاسی اور سماجی امور کے ماہر عاصم سجاد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ نوجوان اس ملک کا اہم حصہ ہیں اور بے چینی بھی اس حلقے میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے کیونکہ وہ اب ڈیجیٹیل مواصلات سے جڑے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق پڑھے لکھے طبقے کے علاوہ دیگر نوجوانوں کو بھی بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے اور وہ سماج میں ناہمواری اور درپیش دیگر مسائل کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔

ان کے مطابق جب آپ نظام کو بہتر نہ کر پا رہے ہوں تو پھر نوجوانوں میں پائی جانے والی تشویش کو کم کرنے کے لیے انھیں ایسے معاملات میں الجھاتے ہیں کہ بنیادی مسائل سے ان کا دھیان ہٹایا جا سکے۔

’گذشتہ ادوار میں طلبا اور نوجوان اپنے حقوق کے حصول کے لیے طاقت کے مراکز کو للکارا کرتے تھے، جس کے بعد ہی ضیا دور میں طلبا یونین پر بھی باقاعدہ پابندی لگا دی گئی۔ اب دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بھی نوجوانوں کو اس لیے اپنے ساتھ مصروف کرنے کوشش کر رہی ہیں کیونکہ ان کو یہ نظر آرہا ہے کہ نوجوان آن لائن ہی سہی لیکن بول رہے ہیں۔‘

’جبکہ دوسری جانب ان کے منصوبے میں یہ نہیں ہے کہ یہ نوجوانوں کے اصل مسائل کیسے حل کرنے ہیں۔ اس لیے ایک ٹائیگر فورس بناتا ہے تو دوسرا بھی جوابی کارروائی کرتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس سب کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نوجوان ایک دوسرے کے خلاف ہی پارٹی احکامات کو مانتے ہوئے ٹرولنگ کرتے ہیں۔

ان کے مطابق ’ہمارے نوجوان سیاست کی نظر ہو رہے ہیں اور وہ بھی ظاہری چیزوں پر۔ ہمارے ملک میں تعلیمی اداروں میں سوچ اور سیاست پر پابندی لگانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نوجوان مثبت پہلوؤں کی طرف جانے کے بجائے منفی سمت میں چل پڑے ہیں۔‘

’ابھی بھی دیکھا جائے تو ہمارے ملکی ادارے اس بات کو ماننے پر تیار نہیں ہیں کہ نوجوان ان کی مرضی کے بغیر بہتری یا حق کی بات کریں۔’

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی آن لائن بھی کرتا ہے تو اسے بھی روک دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ پندرہ کروڑ نوجوانوں کو اگر جگہ نہ دی گئی کہ تو اس کے پاکستان پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘