سوات کی نوجوان شاعرہ نورا احساس: ’والد کو مشورہ دیا گیا کہ اگر میں اُن کی بات نہ مانوں تو مجھے مار دیں‘

    • مصنف, خدائے نور ناصر
    • عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سوات کی سترہ برس کی نورا احساس نے گزشتہ ایک سال سے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا لیکن جب سے اُنھوں نے شاعری شروع کی ہے اور اُن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں، تب سے اُن کے قریبی رشتہ دار اُن سے نہ صرف ناراض ہیں بلکہ اُن کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کیے ہوئے ہیں۔

سوات کی یہ شاعرہ خیبرپختونخوا میں اُن گنی چنی نوجوان شاعراوں میں سے ہیں جن کی شاعری نہ صرف سوشل میڈیا پر سراہی جا رہی ہیں بلکہ وہ مشاعروں میں شرکت بھی کرتی ہیں۔

سوات سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نورا احساس بتاتی ہیں کہ رشتہ داروں نے پہلے اُن کے والدین سے کہا کہ اُنھیں شاعری نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی اُن کی شاعری کی ویڈیوز آنے چاہیے۔ لیکن جب اُن کے والدین نے اس پر انکار کیا تو اُن کے رشتہ داروں نے اُن کے ساتھ ہر قسم کے رابطے منقطع کر دیے۔

’میرے والد کو میرے بعض رشتہ داروں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ اگر میں اُن کی بات نہ مانوں تو مجھے مار دیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

نورا احساس کے مطابق اگرچہ اُنھیں پہلے ہی دن سے شعر پڑھنے اور سوشل میڈیا پر آنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے لیکن حال ہی میں جب اُن کے ایک شعر کی ویڈیو کو غلط ایڈیٹ کیا گیا تو اُس کے بعد اُن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

نورا احساس کا یہ شعر کچھ یوں ہے:

زہ ہسی پہ زڑہ سوری سوری یمہ

جو یو دی پہ کی بل وکی خو ودی کی

اس شعر کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میرا دل پہلے سے داغ داغ ہے، ایک اور داغ لگنے سے کیا فرق پڑے گا۔۔۔

نورا احساس کے مطابق اُن کے گاوں کے ایک نوجوان نے اس شعر اور ویڈیو میں سے ’دل‘ کا لفظ ایڈیٹ کر صرف داغ داغ چھوڑا دیا جس کے بعد اُنھیں ہر کوئی اس پر ہراس کرتا رہا۔

’مجھے نہ صرف سوشل میڈیا پر ہراس کیا گیا بلکہ جب میں گھر سے باہر کالج یا کسی کام کے لیے نکلتی تو بچے اور بڑے سارے داغ داغ کے نعرے لگاتے تھے۔‘

نورا احساس کی یہ شعر اور ویڈیو پشاور کے نوجوان شاعر اور صحافی آفسر افغان کے ساتھ ریکارڈ ہوئی تھی۔

آفسر افغان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو کی غلط ایڈیٹنگ کے بعد اُنھیں بھی اتنا ٹارچر کیا گیا کہ وہ بتا نہیں سکتے۔

’میں اکثر ایسی باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتا لیکن مجھے تین سو کے قریب میسیجز آئے، لوگوں نے مجھے سوشل میڈیا پر ٹیگ کیا اور مجھ سے طرح طرح کے سوال کیے۔‘

آفسر افغان بتاتے ہیں کہ جب اُنھیں ہر طرح سے ٹارچر کرنے کی کوشش کی گئی تو اُنھیں نورا احساس کا خیال آیا کہ اُن کو کس طرح ٹارچر کیا جا رہا ہو گا۔

’میں نے سوچھا کہ میں ایک نوجوان ہوتے ہوئے ایسا ٹارچر ہوا تو اُس بچی کو کتنا ٹارچر کیا ہو گا جو اس فیلڈ میں نئی آئی ہے۔‘

نورا احساس مشاعروں میں شرکت اور کیمرے کے سامنے نقاب میں آتی ہیں کیونکہ اُن کے والدین اُنھیں بغیر نقاب کے اجازت نہیں دیتے۔

نورا احساس کے مطابق اس کے باوجود اُن کے رشتہ داروں نے اُن کے والدین سے کہا کہ آج تک اُن کے خاندان میں سے کوئی بھی لڑکی اس طرح میڈیا پر نہیں آئی اور نورا احساس کو بھی شاعری چھوڑنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر ویڈیوز نہیں بنانی چاہیے۔

نورا احساس کے مطابق اکثر جب اُن کے رشتہ داروں میں کوئی غم یا شادی کی تقریب ہوتی ہیں تو اُس میں سارے رشتہ دار شریک ہوتے ہیں تاہم اُن کا خاندان نہیں ہوتا۔

’اکثر جب اس طرح کی تقاریب ہوتی ہیں تو میری والدہ بہت اُداس ہو جاتی ہیں کہ صرف ہم ہی نہیں ہیں اور باقی سارے شریک ہیں۔‘

نورا احساس کے مطابق خیبرپختونخوا میں بہت ساری ایسی لڑکیاں ہیں جنھوں نے شعروشاعری اور نثر کے ذریعے اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے لیکن وہ اس ڈر اور خوف کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ شئیر نہیں کرتیں کہ پھر لوگ عجیب عجیب باتیں کریں گے۔

’میں نے بہت سی لڑکیوں کو کہا ہے کہ اپنے جذبات اور احساسات لکھنے کے بعد چھپانا نہیں کیونکہ جب آپ لوگ آگے آئیں گے تو اور لڑکیاں بھی آپ کو دیکھتے ہوئے آگے آئیں گی۔‘