آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیربین: ’آپ بی بی سی والے ہیں، بتائیں پانی میں زہر ہے کہ نہیں‘
- مصنف, نازش ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
بی بی سی اردو کی سیربین نشریات کے لیے نامہ نگاروں نے قریہ قریہ گاؤں گاؤں سے خبر سٹوڈیو تک پہنچائی جو سامعین کی سماعتوں کی نذر ہوتی رہی۔
سیربین کے اس 51 سالہ سفر کے دوران نامہ نگاروں سے ان کی یادوں کی پٹاری کھلوائیں تو تجسس، تحقیق، تحریر اور صوتی تصویر کے ساتھ کئی آنسو اور قہقہے بھی برآمد ہوتے ہیں۔
نامہ نگاروں نے کئی کہانیاں کئی دہائیوں تک سامعین کو سنائیں،اب سیربین کے اختتام پر خود ان کی کہانی سنیں تو کتاب مرتب ہو جائے، چند یادوں کا احاطہ البتہ یہاں کیے دیتے ہیں۔
’آپ بی بی سی والے ہیں آپ بتائیں پانی میں زہر ہے کہ نہیں‘
ریاض مسرور سے پہلے یوسف جمیل انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے نامہ نگار کی حیثیت میں کام کرتے تھے۔ سیربین پر سامعین کے اعتماد کی کہانی سناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیربین پر لوگوں کے اعتماد کی قیمت بھی چکانی پڑی۔
کہتے ہیں ان کی ملازمت کے دوران ایک بار فسادات کی خبر اڑی کہ عوام کے پینے کے پانی میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ بی بی سی میں فون کالز کا تانتا بندھ گیا اور لوگ یہ پوچھ رہے تھے کہ بتائیں پانی میں زہر ہے یا نہیں۔ بہت سمجھایا کہ پانی ٹیسٹ کرنا لیبارٹری کا کام ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہوتا آپ بی بی سی والے ہیں آپ یہ بھی بتا سکتے ہیں۔
یوسف جمیل کے بقول غیر جانبداری کے جس معیار کے باعث سامعین کا یہ اعتماد جیتا اس کی قیمت یوں چکائی کہ 1995 میں بی بی سی کے دفتر پر پارسل میں بم بھیجا گیا۔ پارسل کھولنے والے ساتھی مشتاق علی مارے گئے اور خود یوسف زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد وہ لندن اور دلی میں قیام پذیر رہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
370 کے خاتمے نے کشمیری نوجوانوں کو سیربین سے جوڑ دیا‘
سیربین کے سامعین انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور ریاض مسرور کا نام ایک ہی جملے میں سننے کے عادی ہیں۔
ریاض کہتے ہیں سیربین یوں تو کشمیری نوجوان کو بزرگوں کی وراثت کی صورت ملا لیکن خود نوجوانوں نے ریڈیو سیٹ ڈھونڈ کر سیربین تب ٹیون کیا جب اگست 2019 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی گئی اور کشمیریوں کے لیے سیربین ہی خبر کا ذریعہ بنا۔
خود ریاض مسرور نے فون اور انٹر نیٹ کی بندش کے ان دنوں میں چار کمپیوٹرز اور ایک کمرے پر مشتمل مشترکہ اخباری دفتر سے کام کیا اور محدود بینڈ وڈتھ اور وقت کی قید میں رہتے ہوئے خبر کی ترسیل ممکن بناتے رہے۔
20 سالہ شورش کے دوران خود کشمیر کی خبر دنیا تک اور دنیا کی خبر کشمیر تک پہنچانا سیربین کا اعزاز رہا جبکہ سامعین سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کا اعتبار ترک کر چکے تھے۔
’نوشکی کے پہاڑوں میں رہنے والا تو سیربین سے محبت کرتا ہے‘
محمد کاظم نے سیربین کے لیے نامہ نگاری اس علاقے سے کی جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہاں کی صحیح خبر معلوم ہوتی تھی لیکن پہنچا نہیں سکتے تھے۔ بلوچستان میں خبر قدغنوں کے درمیان اپنا راستہ کیسے بنائے وہاں یہی بطور نامہ نگار ان کا امتحان تھا۔
سیربین کے لیے ضروری تھا کہ دونوں جانب فریقین کا موقف شامل کیا جائے لیکن کاظم کے بقول وہاں وہ پھنس جاتے جہاں ایک فریق تو چیخ رہا ہوتا لیکن دوسرا بالکل خاموش ہوتا۔ یعنی سرکاری رد عمل صفر، پھر دیگر سرگرم اور بارسوخ تنظیموں کا دباؤ الگ۔
البتہ بلوچستان کے سامعین کا رشتہ سیربین سے بہت گہرا رہا۔ کاظم کے بقول وہاں نوشکی کے پہاڑوں میں جہاں بجلی ہے نہ انٹرنیٹ، وہاں ریڈیو ہی اطلاع کا ذریعہ ہے۔ اور پھر خاص طور پر اس اطلاع کا جس کی شنید کسی مقامی میڈیا سے ہونی بھی نہیں۔
سیربین میں خواتین کی آوازوں کی شمولیت پر محمد کاظم کہتے ہیں وہاں احتجاجی مظاہروں میں اب مرد، مردوں کے لیے بولیں تو ڈرتے ہیں کہ ان کا انجام بھی جبری گمشدگی کی صورت میں ہو گا تو اس کی ذمہ داری خواتین نے اٹھا لی ہے اس لیے سیربین کے لیے وہ خواتین کی آوازیں جمع کر لاتے اور رپورٹ ترتیب دیتے۔
’ماہی گیروں نے کہا ہمیں یقین ہے ہمارے بچے آ جائیں گے‘
سندھ سے سیربین کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات ہوئی تو انھیں دو کردار یاد آئے۔ پہلا شاہ بندر کا وہ ماہی گیر جس کے رشتہ دار غلطی سے سرحد پار کرنے پرانڈیا میں جیل میں تھے۔ ان ماہی گیروں کا احتجاج کافی عرصے سے جاری تھا۔ جب سیربین کی کوریج کے لیے ان سے رابطہ ہوا تو وہ بے ساختہ بولے ’اب ہمارے بچے ضرور گھر لوٹ آئیں گے۔‘
انھیں سیربین کی آواز کے مؤثر ہونے کا اس حد تک یقین تھا۔ آٹھ ماہ بعد ان کے بچے واقعی گھر آ گئے تھے۔
خوشی کے ایسے ہی آنسو ریاض سہیل اس وقت بھی نہ روک پائے جب تھرپارکر میں ایک معمولی دکان پر حلوہ خریدنے گئے اور سامعین نے ان کی آواز پہچان لی۔ ریاض کہتے ہیں آواز سے تصویر بننا ہی ریڈیو کا سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن آواز سے ہی کوئی پہچان لے تو اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہے۔
’عباس ناصر اور شفیع جامعی کے ترلے کیے کہ کچھ گزارا کریں‘
عزیزاللہ خان سنہ 1998 میں لندن میں پڑھائی کے لیے موجود تھے جب انٹرن شپ کے لیے وہاں بی بی سی کے دفتر پہنچے۔ نو آموز طالبعلم کہنہ مشق عباس ناصر اور شفیع نقی جامعی کے ہاتھ لگا تو پہلے ہی دن دو ڈسپیچ مشق کے لیے پڑھنے کو تھمائے گئے۔
آن ایئر ہونے کے وقت عزیز اللہ کو معلوم ہوا کہ لائیو انھی کو جانا ہے۔ کہتے ہیں اس وقت ہاتھ پاؤں پھولے اور شفیع کے ترلے کیے کہ کچھ گزارا کر لیں۔
ڈسپیچ بہر حال پڑھے گئے اور پھر عزیز سیربین کو مستقلاً عزیز ہو گئے۔ بلوچستان سے کوریج کے دوران وہی مشکل کہ حالات مخدوش ہیں اور رابطے محدود۔ آپریشن، فرقہ ورانہ فسادات،احتجاج کی کوریج کے دوران محفوظ مقام کا ڈھونڈنا محال تھا جہاں سے ڈیڈ لائن کے اندر رپورٹ فائل کی جا سکے۔
عزیز اللہ خان کی یادوں کی پٹاری سے ایک بوسیدہ ٹیپ بھی برآمد ہوتا جس کے متعلق ہنستے ہنستے بتاتے ہیں کہ گھر سے اس پر ریکارڈنگ اور مکسنگ کا کام کرتا تھا اور سنجیدہ رپورٹ میں گلی بھر سے آوازیں بھی شامل ہو جاتیں اور پھر ریکارڈنگ دوبارہ کی جاتی۔
’عمر آفریدی نے غلط کلپ چلا دیے اور پھر میں نے اپنی گاڑی انھیں نہیں دی‘
سہیل حلیم لندن اور دلی سے سیربین سے جڑے رہے۔ انڈیا سے بہت سے واقعات کی کوریج کی۔ دلی میں گینگ ریپ کی کوریج کو مشکل اور اہم یاد قرار دیتے ہیں کیونکہ اس واقعے سے سامعین کی جذباتی وابستگی ہو گئی تھی وہ اس واقعے کے ذریعے انڈیا کو تبدیل ہوتا دیکھنے کے خواہشمند تھے۔
اس بیحد حساس واقعے کے علاوہ کئی فسادات کی رپورٹنگ مشکل لگی لیکن انھیں خوشی ہے کہ صحافتی کیریئر میں کئی میڈیمز میں کام کے باوجود ریڈیو کے باعث وہ پہچانے گئے۔
خوشگوار یادیں کنگھالتے ہوئے کہتے ہیں کہ لندن سے سٹاف انڈیا اور پاکستان منتقل کیا جا رہا تھا۔ وہ لندن میں ایک پروگرام کے ایڈیٹر تھے جبکہ عمر آفریدی سینیئر پروڈیوسر۔ سہیل نےانڈیا منتقلی سے پہلے اپنی ایک پرانی گاڑی عمر آفریدی کو دینے کا ارادہ کیا تھا۔ یہ تک کہا تھا کہ گاڑی خود ان کے گھر پہنچا آئیں گے وہ بھی مفت۔
پروگرام کے لیے سہیل نے دن بھر کی محنت سے کچھ کلپس تیار کیے تھے، جو عمر آفریدی نے غلط ترتیب میں چلا دیے۔ بس سہیل حلیم نے اس وقت گاڑی دینے کا فیصلہ بدلا لیا۔ اور عمر آفریدی نے بھی گاڑی لینے سے انکار کر دیا۔
’شفیع نقی جامعی نے کہا آپ تیسری منزل سے کود جائیں‘
سنہ 2010 سے سنہ 2016 تک بی بی سی سے وابستہ رہنے والی صحافی عنبر شمسی نے پہلے پہل سیلاب کی کوریج کی اور پھر وہ مستقل سٹاف ممبر کی حیثیت میں سیربین سے جڑی رہیں۔ تبھی ان کا واسطہ پڑا شفیع نقی جامعی سے جو ان کے سینیئر پروڈیوسر تھے۔
عنبر کا کہنا ہے کہ ان کی رپورٹ کے بعد شفیع کا روزانہ ہی فون آتا اور ان کا جملہ ہوتا ’تم ایسا کرو کہ تیسری منزل سے کود جاؤ۔‘
اس جملے سے معلوم ہو جاتا کہ آج الفاظ کی ادائیگی میں کسی جگہ چوک ہوئی ہے۔
عنبر شمسی شفیع کے اس جملے کے ساتھ ایک جملہ اور بھی یاد کرتی ہیں۔
’غلطی لائیو پروگرام کا زیور ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ سیربین میں سیکھا کہ غلطی ہو جائے تو اس کو درست کر کے آگے بڑھا جائے۔
’ڈائل اپ کے زمانے میں کارڈ سکریچ کر کے پاس ورڈ لوڈ ہونے کا انتظار کرتے‘
26 سال میں سے 13 سال کھیل کے میدان میں گزار دیے۔ عبدالرشید شکور 26 سال سے بی بی سی سے وابستہ ہیں اور ان میں سے 13 سال انھوں نے سیربین کے لیے ’کھیل کے میدان سے‘ نامی پروگرام کیا۔ کہتے ہیں کہ بیگم کہتی ہیں کہ میری پہلی بیوی سپورٹس ہی ہے۔
یادوں کی پٹاری میں کرکٹ کے پانچ ورلڈ کپ، لندن اولمپکس، سچن ٹنڈولکرکا ڈیبیو، مصباح الحق کی 56 گیندوں پر سنچری اور جانے کیا کیا چوکے چھکے ہیں۔
لیکن کہتے ہیں ان کے اپنے چھکے تب چھوٹتے تھے جب ڈائل اپ کے زمانے میں کارڈ سکریچ کر کے لوڈ کرنا ہوتا تھا اور رکتے چلتے انٹرنیٹ کی مدد سے خبر فائل کرنا ہوتی تھی۔ اور اس دوران سکور کچھ کا کچھ ہو جاتا۔
سیربین کے لیے کام کرنے والے نامہ نگاروں کی کہانیاں مختلف ہیں مگر سب کے سب ایک بات پر متفق ہیں کہ یہاں کچھ عشق کیا کچھ کام کیا والا معاملہ نہیں تھا، یہاں کام ہی عشق تھا اور اس عشق میں ملازمت نہیں کی بلکہ نادر یادوں کی صورت میں زندگی کمائی۔