آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آزادی مارچ: مولانا فضل الرحمان کا آئندہ کا لائحہ عمل آل پارٹیز کانفرنس میں طے کرنے کا فیصلہ
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے جمعے کو وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے سے متلعق دی گئی دو دن کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کل آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ بات جے یو آئی کے رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس کے بعد آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کے دوران کہی۔
انھوں نے کہا کہ احتجاج جاری رہے گا اور ان کے پاس پلان اے بی اور سی بھی ہیں۔
اس سے قبل جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے میڈیا کو بتایا کہ متحدہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
حکومتی اتحادی مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان سے فون پر بات کی اور انھیں کامیاب مارچ پر مبارکباد دی جبکہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اتوار کو چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر حکومتی مذاکرتی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا۔ اس اجلاس میں اپوزیشن سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس وقت کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتظامات بڑھا دیے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری ریڈ زون میں تعینات کر دی گئ ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا کو اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن سے ڈی چوک یا ریڈ زون کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کیا مولانا فضل الرحمان پر بغاوت کا مقدمہ بن سکتا ہے؟
اس سے قبل تحریک انصاف کی حکومت نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے وزیر اعظم عمران خان کو گرفتار کرنے سے متعلق بیان پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وزیر اعظم کو گرفتار کرنے سے متعلق بیان بغاوت کے مترادف ہے۔
حکومتی مذاکرتی کمیٹی کے ایک رکن وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ایسا بیان ملک دشمنی ہے۔
یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے جمعے کو آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہاں سے بنی گالا جا کر وزیر اعظم عمران خان کو گرفتار بھی کر سکتے ہیں۔
سینیئر وکیل اعتزاز احسن نے جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے وزیر اعظم کو گرفتار کرنے والے بیان کو سنگین غداری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی ایسے مارچ کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے جس میں سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال ہو اور جس میں خواتین شریک نہ ہوں۔
تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان کا دفاع کرتے ہوئے وضاحت دی ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم ہاؤس جا کر وزیر اعظم کو گھسیٹنے کی بات نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی دھرنے کا حصہ نہیں بنے گی، تاہم اگر ان کی پارٹی نے طے کیا تو پھر اس فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
وزیر اعظم کے استعفے کی ڈیڈلائن ختم، اب کیا ہوگا؟
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے اتوار تک مستعفی ہونے کی مہلت آج ختم ہو جائے گی لیکن اب سوال یہ ہے کہ مہلت ختم ہونے کے بعد اب کیا ہو گا؟
کیا اب بھی مذاکرات سے معاملات کا سیاسی حل نکالا جا سکے گا؟ اس پر بی بی سی کی نامہ نگار ہدیٰ اکرام نے اس دھرنے پر نظر رکھنے والی دو سینیئر صحافیوں سے گفتگو کی ہے۔
سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ فی الوقت سیاسی حل نکالنے کی جانب کسی کا رجحان نظر نہیں آ رہا، اس وقت اعصابی جنگ لڑی جا رہی ہے کہ پہلے پیچھے کون ہٹے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا تو یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ پحھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ وہ کئی ماہ کی تیاری کے بعد آئے ہیں، اور وہ کچھ کھونے نہیں بلکہ پانے کے لئے آئے ہیں۔ ایسی صورت میں ذمہ داری ریاست اور حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کو کیسے سنبھالتی ہے۔
صحافی منیزے جہانگیر نے کہا کہ اس وقت ایسا محسوں ہو رہا ہے جیسے آزادی مارچ کے لیے مولانا فضل الرحمان نے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی پوری طرح اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ ’شاید یہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف کے جماعتیں اس طرح مارچ میں شریک نہیں ہو سکیں جیسے ہونا چاہتی تھیں۔‘
عاصہ شیرازی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنی سیاست کا جوا کھیلا ہے 'پہلے یہ تاثر تھا کہ شاید وہ اور وزیر اعظم عمران خان انفرادی طور پر آمنے سامنے ہیں لیکن اب ایسا نہیں لگ رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا مؤقف
واضح رہے کہ جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سنیچر کو تیسرے روز آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'اپوزیشن جماعتوں کے حتمی فیصلوں تک ادھر ہی بیٹھے رہنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہاں سے ڈی چوک بھی جا سکتے ہیں۔
اپنے خطاب میں انھوں نے مظاہرین کو کہا کہ کل اور پرسوں تک اور سخت فیصلے کر سکتے ہیں، تاکہ تحریک کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ ’آپ نے ان فیصلوں پر لبیک کہنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن رہیں گے، جو فیصلہ قیادت کرے گی، آگے مراحل مل کر طے کریں گے۔
اپنے کارکنان سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری تاریخ جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔ آج جو مقاصد آپ نے تین دن میں حاصل کیے ہیں شاید کوئی جماعت سو سال میں بھی ایسا نہ کر سکے۔' انھوں نے اپنے کارکنان سے کہا کہ جب تک تمام اپوزیشن کوئی فیصلے نہیں کرتی، آپ نے استقامت سے اِدھر بیٹھے رہنا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن طریقے سے آگے بڑھیں گے اور ناجائز حکومت کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
’مذاکرات کے راستے ہی بند ہیں‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج 'جعلی حکومت' نے ایک کمیٹی بنائی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ ہم تو اسلام آباد میں گھوم رہے ہیں۔ ہر طرف کنٹینرز لگے ہوئے ہیں، نہ بنی گالا جانے کے لیے رستہ ہے، نہ تو وزیر اعظم ہاؤس اور نہ صدارتی محل کی طرف۔ تم نے تو سارے رستے بند کیے ہیں۔
انھوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ’کس راستے سے آپ ہمیں مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں‘؟
انھوں نے حکومت پر گالم گلوچ بریگیڈ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں گالیوں کے علاوہ کچھ آتا بھی نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ میں افغان طالبان کا جھنڈا لہرانے کو بھی حکومت کی شرارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو پاکستان سمیت کئی ممالک میں صدارتی پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا ہے۔
انھوں نے حکومت کی خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔
’ڈی چوک بھی جا سکتے ہیں‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا ’یہ عوام یہ دعویٰ لے کر آئی ہے کہ حکمران غیر آئینی ہے، غیر قانونی ہے، جعلی ہے، خلائی ہے، ناجائز ہے۔‘
انھوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ ’استعفی دے دو اور لوگوں کو اپنا حق دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دے دو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں رہبر کمیٹی نے طے کیا ہے کہ ڈی چوک تک جانا بھی ہماری تجویز ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام آپ کی حکومت کے لیے کافی ہے۔ ابھی لوگ آرہے ہیں۔ آج بھی قافلے آرہے ہیں اور کل بھی آئیں گے۔ ’ایک آواز پر پوری قوم اسلام آباد میں آئے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں تمھاری رٹ ختم ہو چکی ہے۔
’صرف کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھنا ہی حکومت کا نام نہیں ہوتا۔ اب ہم ملک کو چلائیں گے، ترقی دیں گے ملک کو، اس کی معیشت کو سنبھالیں گے۔‘
'خواتین گھروں میں بیٹھ کر شریک ہیں'
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کبھی کہتے ہیں کہ اس اجتماع میں خواتین نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے سے انھیں کسی نے نہیں روکا ہے، لیکن ماحول ایسا ہے۔ 'ہمارے معاشرے کی کچھ اقدار ہوتی ہیں۔ ہماری خواتین گھروں میں بیٹھ کر شریک ہیں، روزے رکھ رہی ہیں اوردعائیں مانگ رہی ہیں۔'
اس وقت اسمبلیوں میں خواتین ہماری نمائندگی کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں میں اقلیتیں بھی ان کی جماعت کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ غیر مسلم ہمارے نمائندے اور اسمبلیوں کے ممبر ہیں۔
انھوں نے سوال کیا کہ خواتین کی بات کرتے ہو تو قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں کس نے شکست دلوائی تھی۔ 'ان کو ایک فوجی مرد کے مقابلے میں کس نے ہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ولی خان نے اس خاتون کا ساتھ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کا قلم بڑا بے رحم ہوتا ہے، یہ سب تاریخ رقم کر رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا ہم ترقی پسند ہیں اور حکومت رجعت پسند ہے۔ ہم آج کے پاکستان کی بات کرتے ہیں اور یہ 1947 کی بات کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ سنیچر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ رہبر کمیٹی کے آج کے ہونے والے اجلاس میں 'آگے کے لائحہ عمل کے لیے اجتماعی استعفے زیر غور آئے ہیں'۔
اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ وزیر دفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ’پرویز خٹک نے کہا ہے کہ استعفوں پر بات نہیں ہوسکتی، تو ہمارا پہلا مطالبہ ہی استعفی ہے۔‘
اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے انتخابات کے لیے اپوزیشن کا اتفاق رائے برقرار ہے۔
شٹرڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی تجاویز بھی زیر غور
رہبر کمیٹی کے رہنماؤں کے مطابق اجلاس میں ’اس بات پر غور ہوا ہے کہ ملک گیر شٹر ڈاؤن اور ہائی ویز کو لاک ڈاؤن کیا جائے۔‘
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مستعفی ہو اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار نے پنجاب کے وزیر اطلاعات کے اپوزیشن اتحاد میں شامل بزرگوں کی تحریک پاکستان میں کردار سے متعلق متنازعہ بیان کی مذمت کی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سنیچر کو ہی وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی اجلاس کے بعد حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔
تحریک انصاف کی حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ قبل از وقت انتخابات نہیں ہونگے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کےساتھ رابطے کے دروازے کھلے ہیں، تاہم وزیر اعظم کے استعفے پر کوئی بات نہیں ہوگی۔
وزیر دفاع پرویز خٹک نے، جو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، کہا کہ امید ہے اپوزیشن معاہدہ کی پاسداری کرے گی، اگر جے یو آئی معاہدے سے ہٹی تو انتظامیہ ایکشن لے گی۔
مولانا فضل الرحمان کی آزادی مارچ اور دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پاکستان اتنا کمزور ملک نہیں ہے کہ چالیس پچاس ہزار لوگ آ کر نظام الٹا دیں۔
’ادارے ہم سب کے ہیں‘
پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ملک کو نقصان پہنچا تو ذمہ داری اپوزیشن ہوگی، (اور یہ سب) ان کے گلے پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ اداروں پر اپوزیشن نے تنقید کی۔ 'اپوزیشن ملک دشمنی کی بات نہ کرے، ادارے ہم سب کے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آرنے بتا دیا وہ ہر جمہوری حکومت کے ساتھ ہیں۔ ادارے غیرجانبدار ہیں ہم سیاسی لوگ ہیں ادارے ہمارے پیچھے نہیں ہوتے۔
مولانا فضل الرحمان: 'آصف غفور نے فوج کو جانبدار بنانے کی کوشش کی'
اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے ایک بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'انھوں (آصف غفور) نے اپنے بیان سے فوج کو جانبدار بنانے کی کوشش کی ہے، جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
انھوں نے یہ بات جمعہ کی رات میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا کو فوج پر الزام تراشی کرنے کے بجائے الیکشن میں شفافیت سے متعلق اپنی شکایت متعلقہ اداروں کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب جمعے کو آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اداروں کو غیر جانبدار دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر ایسا محسوس ہو کہ ’ناجائز حکمرانوں کی پشت پناہی ہمارے ادارے کر رہے ہیں تو پھر دو دن کی مہلت ہے اور پھر ہمیں نہ روکا جائے کہ ہم اداروں کے بارے میں اپنی کیا رائے قائم کرتے ہیں۔‘
مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں دیے گئے اس بیان کے بعد جمعے کی رات نجی ٹیلی ویژن چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور کا کہنا تھا ’اگر ان (فضل الرحمان) کا اشارہ فوج کی طرف ہے تو اپوزیشن کو یہ بات سمجھنا چاہیے کہ فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے۔ فوج پر الزام تراشی کرنے کے بجائے وہ الیکشن کی شفافیت سے متعلق اپنی شکایت متعلقہ اداروں کے پاس لے کر جائیں۔'
تاہم اس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے حوالے سے کہا کہ 'وہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) فوج کے بحیثیت ادارہ نمائندے ہیں، یہ بیان تو کسی سیاستدان کو دینا چاہیے تھا۔‘
جمعے کو رات گئے اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا نمائندگان نے جب مولانا فضل الرحمان سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی بابت دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی گفتگو سے خود ہی واضح کر دیا کہ جب میں نے اداروں کی بات کی تھی تو اس سے مراد کون سا ادارہ ہو سکتا ہے۔‘
’مجھے اس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے انھوں نے خود ہی بتا دیا کہ اداروں سے میری مراد کیا تھی۔‘
فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 'اس طریقے سے وہ اپنے آپ کو سیاست میں ملوث نہ کریں، ادارے کو سیاست سے دور رکھیں۔۔۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کیوں فوج کے ادارے کو عوام کے ساتھ تصادم کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ہے؟'
انھوں نے کہا کہ اداروں سے متعلق ان کا ابتدائی بیان عمران خان کے اس بیان کے جواب میں تھا جس میں انھوں نے کہا کہ فوج میری پشت پر ہے۔ 'تب ان (اداروں) کو واضح کر دینا چاہیے تھا، انھوں نے اس پر خاموشی کیوں اختیار کی؟ جب وہ خاموشی اختیار کریں گے تو اپنے بارے میں ابہام تو پیدا کریں گے نا۔'
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ 'یہ اچھا ہوتا اگر ڈی جی آئی ایس پی آر ایسا ہی بیان جاری کرتے جب ستمبر 2014 میں عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے سے چینی صدر کا دورہ منسوخ ہوگیا تھا۔'
یاد رہے جمعہ کی رات آل پارٹیز کانفرنس کے ہونے والے ایک اجلاس میں مولانا فضل الرحمان سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، راجہ پرویز اشرف، نیئر بخاری، مصطفیٰ نواز کھوکھر، مخمود خان اچکزئی اور آفتاب خان شیرپاؤ نے شرکت کی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ: ’مالکان کی مرضی کے بغیر کنٹینرز پکڑنا غیر قانونی ہے‘
آزادی مارچ کے دوران اسلام آباد کی سڑکوں پر انتظامیہ کی طرف سے لگائے گئے کنٹینرز سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر کوئی بھی کنٹینرغیر قانونی طور پر روکا یا قبضہ میں لیا گیا تو نقصان پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سنیچر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کنٹینرز قبضہ کیس کا نو صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے نجی کاروباری کمپنی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو یہ حکم دیا کہ سامان سے لدے کنٹینرز کی نقل و حمل میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے مالکان کی مرضی کے بغیر ان کے کنٹینرز قبضہ میں لینا غیر قانونی ہے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وفاقی حکومت کنٹینرز کے ذریعے سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائے۔
تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اشیا کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز پکڑنا آئین کے آرٹیکل 18 کی خلاف ورزی ہے۔
’ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں جو شہریوں کو قانونی کاروبار کرنے کے حق سے محروم کرے۔‘