کراچی: مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دارالعلوم کورنگی کے اساتذہ پر حملے کیے گئے جن میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی ان حملوں میں محفوظ رہے۔

دونوں واقعات نیپا چورنگی کے قریب پیش آئے۔ پولیس کے مطابق دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے ایک کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا، جناح ہسپتال میں شعبہِ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق صنوبر خان کو مردہ حالت میں لایا گیا جبکہ عامر شہاب شدید زخمی ہیں اور ونٹی لیٹر پر ہیں۔ انہیں سر اور پیٹ سمیت متعدد گولیاں لگی ہیں۔

دوسرے واقعے میں تھوڑے ہی فاصلے پر ایک کار پر موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔ جبکہ دوسری گاڑی میں موجود مفتی تقتی عثمانی محفوظ رہے۔

ایس پی گلشن طاہر نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’مفتی تقی دارلعلوم سے گلشن اقبال جارہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ گلشن اقبال میں واقع بیت المکرم مسجد میں وہ کئی سالوں سے جمعے کا خطبہ دیتے ہیں۔‘

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس سے حملوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جے یو آئی کے رہنما قاری عثمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کار میں مفتی تقی عثمانی بھی سوار تھے جو محفوظ رہے جبکہ ان کا گارڈ ہلاک ہوگیا۔ قاری عثمان کے مطابق مفتی تقی نماز کے بعد فیملی کے ہمراہ جا رہے تھے۔

مفتی تقی عثمانی کون ہیں ؟

مفتی تقی عثمانی تحریک پاکستان کے رکن مولانا شفیع عثمانی کے فرزند ہیں جو دیوبند کے ان علما میں سے تھے جنہوں نے قیام پاکستان کی حمایت کی۔

مولانا شفیع عثمانی، محمد علی جناح کے رفیق مولانا شبیر عثمانی کے قریبی رشتے دار تھے۔ انھوں نے کورنگی میں دارالعلوم کراچی کی بنیاد رکھی جس کے موجودہ مہتمم رفیع عثمانی ہیں جو تقی عثمانی کے بڑے بھائی ہیں اور انہیں مفتی اعظم کا منصب بھی حاصل ہے۔

تقی عثمانی کی پیدائش اکتوبر 1943 میں ہوئی۔ انھوں نے پنجاب بورڈ سے فاضل عربی کی تعلیم حاصل کی اور درس نظامی سے فارغ ہونے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی کی سند حاصل کی۔ آج کل وہ دارالعلوم کراچی میں حدیث اور فقہ پڑھا رہے ہیں۔

تقی عثمانی 44 سے زائد کتابوں کے مصنف اور البلاغ نامی جریدے کے مدیر بھی ہیں جو اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا رہا ہے۔

1981 میں وہ فیڈرل شریعت کورٹ میں جج تعینات ہوئے اور ایک بڑے عرصے تک اس منصب پر فائز رہنے کے بعد جنرل مشرف کی حکومت میں انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

پاکستان میں اسلامی بینکنگ کا نظام متعارف کرانے میں بھی ان کا بنیادی کردار رہا ہے۔ شریعت کورٹ میں انہوں نے ایک فیصلے میں بینکوں میں سود کو اسلامی نظام کے خلاف قرار دیا تھا۔

مفتی تقی عثمانی کا خاندان سیاست سے دور رہا ہے جبکہ مذہبی طور پر ان کی پاکستان، افغانستان اور انڈیا میں پذیرائی کی جاتی ہے۔ ملا عمر سے مذاکرات کے لیے جب حکومت پاکستان نے علماء کا وفد اسلام آباد بھیجا تو اس میں تقی عثمانی کے بھائی رفیع عثمانی شامل تھے جبکہ لال مسجد آپریشن سے قبل جب حکومت نے لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے وفد بھیجا تو ان میں تقی عثمانی بھی شامل تھے۔

تقی عثمانی پر حملے کی تفصیلات اور ردِ عمل

قاری عثمان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر علماء سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی تھی اور ’وفاق المدارس نے کئی بار شکایت کی لیکن سنا نہیں گیا۔‘

مفتی تقی کے بھتیجے سرور عثمانی نے اپنے فیس بک پر لکھا ہے ’میرے محبوب چچا جان مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی پر آج کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ فائرنگ میں محفوظ رہے. البتہ ان کا محافظ فائرنگ سے شہید ہوگیا اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا لیکن وہ زخمی حالت میں گاڑی کو اس جگہ سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔‘

سرور عثمانی کے مطابق ’گاڑی میں چچا جان، چچی جان اور ان کے پوتے پوتیاں موجود تھے جو اللہ کا شکر ہے سب محفوظ رہے۔ البتہ شیشے کے ٹکڑوں سے چچی جان کو معمولی زخم آیا۔ پوتے کو بھی شیشے کے کچھ ٹکڑے لگے لیکن سب لوگ بڑے حادثے سے محفوظ رہے۔‘

مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے مولانا مفتی تقی عثمانی پر حملے کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذہبی شخصیات پر فائرنگ اور دہشتگردانہ حملے شہر کا امن تباہ کرنے کی سازش ہے۔ دہشتگرد قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بھی کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں ہلاکتوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ صوبے میں امن و امان کے خلاف سازش کو آہنی ہاتھوں سے روکے اور واقعے میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔