ایوان بالا میں فوجی عدالتوں کے بل کی منظوری موخر

وقت اشاعت

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بدھ کے روز قومی اسمبلی سے ایک روز قبل پاس ہونے والے آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو تو کثرتِ رائے سے منطور کر لیا ہے لیکن فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں دو سال کی توسیع کی منظوری نہیں دی۔

حکمراں اتحاد میں شامل دو جماعتوں پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام نے اس بل کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا۔

سینیٹ کے ارکان کی اکثریت کا موقف تھا کہ چونکہ اس معاملے پر مزید بحث ہونی چاہیے، اس لیے اس آئینی ترمیم کی فوری طور پر منظوری نہ دی جائے۔

سینیٹ سے اس بل کی منظوری نہ ہونے کی وجہ سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا معاملہ ایک ہفتے کے لیے کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد یہ بل دستخطوں کے لیے صدر مملکت کو بھیجا جائے گا جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگا۔

فوجی عدالتوں میں توسیع کے بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمنٹ نے فوج کو سویلین معاملات میں مداخلت کا موقع فراہم کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دینے سے نہ صرف اُن کا بلکہ پوری پارلیمنٹ کا وقار میں کم ہوا ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ آج ’سیڈ ڈے (افسوسناک دن) ہے اور یہ ڈیموکریٹس اور پارلیمنٹ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی وجہ سے وہ پارٹی کے قواعد و ضوابط کے پابند ہیں اور وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کے حق میں ووٹ بھی دیں گے لیکن وہ ذاتی حیثیت میں اس پر بہت شرمندہ ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے سینیٹر تاج حیدر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی طرف سے عدالتی اصلاحات کی ہوتیں تو آج فوجی عدالتوں میں توسیع کی نوبت نہ آتی۔

عوامی نینشل پارٹی کے سینیٹر الیاس بلور کا کہنا تھا کہ دوبارہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی نوبت آئے تو وہ دن دیکھنے سے بہتر ہے کہ اُنھیں موت ہی آجائے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر گذشتہ دو سال میں نینشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع ہوجاتا تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

الیاس بلور نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینے والوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے پاکستان میں شدت پسندی کو متعارف کروایا اسے کیسے شہید قرار دیا جاسکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ عدالتی اصلاحات کے لیے ایک جامعہ حکمت عملی اپنائی جائے۔

بدھ کے روز سینیٹ کے اجلاس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی شریک ہوئے اور اُنھیں اُمید تھی کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا چونکہ ایوان میں سینیٹرز کی تعداد مطلوبہ تعداد سے کم تھی۔

اجلاس 28 مارچ تک ملتوی کردیا گیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اسی روز فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع سے متعلق آئینی ترمیم منظور کر لی جائے گی۔