Saturday, 08 November, 2008, 12:47 GMT 17:47 PST
برطانیہ میں نسلی امتیاز کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے کے سربراہ کے مطابق باراک اوباما کی طرز پر کسی سیاہ فام رہنما کے لیے برطانیہ میں وزیر اعظم منتخب ہونا انتہائی مشکل ہوگا۔
مساوات اور انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ ٹریور فلپس نے انگریزی روز نامہ دی ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی سیاہ فام رہنما کے اعلی ترین سطح تک پہنچنے میں رکاوٹ ملک کے ووٹر نہیں بلکہ سیاسی نظام ہے۔
ان کا دعوی تھا کہ باراک اوباما جیسی صلاحیتوں کے مالک کو بھی برطانیہ میں اعلی ترین سیاسی عہدے تک پہنچنے میں بہت دشواری ہوگی کیونکہ یہاں کا سیاسی نظام تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں۔
ٹریور فلپس کے خیال میں ان لوگوں کے لیے وزیر اعظم بننا زیادہ مشکل ہے جو ایک مخصوص سانچےمیں فٹ نہیں بیٹھتے۔
’اگر باراک اوباما یہاں رہ رہے ہوتے تو مجھے اس بات پر بہت حیرت ہوتی اگر وہ طاقت پر اس اجارہ داری کو توڑنے میں کامیاب ہوجاتے جیسی کے لیبر پارٹی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔‘
لیکن لیبر پارٹی نے کہا کہ ’ اسے نسلی اقلیتوں کے امیدوارووں کو انتخابی میدان میں اتارنے کے اپنے ریکارڈ پر فخر ہے۔‘
لیبر پارٹی کے تیرہ اراکین پارلیمنٹ کا تعلق نسلی اقلیتوں سے ہے جبکہ کنزرویٹو پارٹی کے دو ایم پی ہیں۔
مسٹر فلپس کے خیال میں سیاہ فام اور ایشیائی امیدواروں کے انتخاب میں موجودہ نظام آڑے آتا ہے۔
بعد میں اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے مسٹر فلپس نے کہا کہ ایک خاص نسل، طبقے اور جنس سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے برطانیہ کے موجودہ سیاسی نظام کی وجہ سے اوپر تک پہنچانا بہت مشکل ہے۔
لیکن ان کا خیال ہے کہ سیاہ فام وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹروں کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
’میرے خیال میں اس نئے دور میں، اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اس ہفتے کیا کچھ ہوا ہے، وہ شاید اس بات کو کافی پسند کریں گے۔‘