http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 05 November, 2008, 11:48 GMT 16:48 PST

اوباما جیت عالمی ذرائع ابلاغ میں

دنیا کی انتخابی تاریخ میں شاید ہی عالمی برادری نے کسی ملک کے انتخابات میں اس قدر دلچسپی لی ہو جتنی کہ اس سال چار نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات میں دیکھنے کو ملی۔ پانچ نومبر کو دنیا بھر میں شاید ایک بھی بڑا اخبار ایسا نہ ہو جس نے ڈیموکریٹ باراک اوبامہ کی فتح کی خبر جلی حروف میں شائع نہ کی ہو۔

یہ دلچسپی بے وجہ نہیں۔ چار نومبر کے امریکی انتخابات محض ایک صدر کا چناؤ نہیں تھے بلکہ دنیا بھر کے کروڑہا امن پسند لوگوں کی خواہشات کا بھی نچوڑ تھے جو لگ بھگ آٹھ برس سے طاقت کے نشے میں بدمست ریپبلکن انتظامیہ کی سرکوبی کے لیے دعاگو تھے۔

عوام عالم کی ان خواہشات کا اندازہ ایک طرف تو دنیا بھر میں جاری جشن سے ہوتا ہے اور دوسرے ان تبصروں اور تجزیوں سے جو باراک اوباما کی جیت پر لکھے اور پڑھے گئے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ سے شائع ہونے والے روزنامے چائنہ ڈیلی کا کہنا ہے کہ باراک اوباما کی جیت پر چینی عوام بھی اتنے ہی خوش ہیں جتنے کہ امریکی۔ چائنہ ڈیلی کے مطابق اب چین یہ توقع کر سکتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی جارحیت اور انسدادی حملوں سے بدل کر مذاکراتی سمت میں موڑے گی۔

روس کے سرکاری خبر رساں ادارے اتار-تاس میں ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق باراک اوباما ایک نظریاتی شخصیت ہیں جن سے دنیا کو سمجھنے کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ گو زیادہ تر تجزیہ کار وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ باراک اوباما کا انتخاب روس-امریکہ تعلقات کے لیے کیا معنی رکھتا ہے، ایک
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اب کم از کم یہ امید تو رکھی جا سکتی ہے کہ بہتری کی جانب کچھ تو پیشرفت ہو گی۔

خلیجی اخبار گلف نیوز نے عرب ریاستوں میں پھیلے اپنے نامہ نگاروں کی مدد سے باراک اوباما کی جیت پر رائے عامہ جانچنے کی کوشش کی ہے۔ گلف نیوز کے مطابق گو نوے فیصد سے زائد افراد اوباما کے حامی ہیں لیکن ان میں سے صرف چند ایک ایسے ہیں جو اسے امریکی خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں۔

قطر اور اومان سمیت کئی خلیجی ریاستوں میں اوباما کی جیت کا جشن منایا گیا۔ عرب دنیا کی تمام بڑی ویب سائٹس نے بھی تقریباً ایک ہفتے سے اپنی تمام توجہ امریکی انتخابات پر رکھی اور ان کا کہنا ہے کہ جتنی دلچسپی عرب عوام نے ان انتخابات میں دکھائی اتنی تو انہوں نے کبھی مقامی مسائل کو بھی نہیں دی۔

عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق جہاں عراقی عوام عراق سے غیر ملکی افواج کی واپسی چاہتے ہیں وہیں انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ ایک مضبوط مقامی حکومت کی غیر موجودگی میں امریکی افواج کے انخلاء سے ملک مزید بد امنی کا شکار ہو جائے گا اور مادر پدر آزاد میلیشیاؤں کے ہتھے چڑھ جائے گا۔

عراقی ویب سائٹ بغداد ڈاٹ کام پر چھپنے والے ایک تجزیے کے مطابق باراک اوباما کے حالات زندگی ہی اس بات کی ضمانت ہیں کہ وہ دنیا کو ایک ہمدرد اور سیاسی مسیحا کی نظر سے دیکھیں گے نہ کہ ایک غاصب حکمران کے غرور سے۔ لیکن مختلف نوعیت کے تبصروں میں جو بنیادی خواہش سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ عراق میں اوباما جو بھی فیصلے کریں وہ عراق کے لیے بھی ہوں نہ کہ صرف اور صرف امریکہ کے لیے۔

اوباما سے متعلق توقعات کو انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون نے کچھ یوں سمیٹا ہے: باراک اوباما کے انتخابات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پچھلے آٹھ سال کے واقعات کے باوجود بھی امریکہ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں معجزے ممکن ہیں۔ لیکن باراک اوباما کا معجزہ شاید ان کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو کیونکہ اس معجزے نے ان سے ایسی توقعات وابستہ کر دی ہیں جو وہ کبھی بھی پوری نہیں کر سکتے۔

شاید انہیں توقعات کے پیش نظر برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ نے انہیں ’دی ہسٹری مین‘ کا خطاب دیا ہے۔