Tuesday, 04 November, 2008, 22:39 GMT 03:39 PST
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے نئے امریکی صدر کو پاکستانی سرحدوں کے اندر میزائیل حملے روکنے ہوں گے۔
مسٹر یوسف رضا گیلانی نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے جنرل ڈیوڈ پیٹریئس پاکستان کے دورے کے بعد افغانستان پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ امریکی پالیسی جاری رہی تو افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع پاکستانی قبائلی علاقوں کے عوام شدت پسندوں کے قریب ہو جائیں گے۔
گزشتہ روز پاکستان کے وزیر دفاع احمد مختار نے امریکہ پر واضح کیا تھا کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں جاری میزائل حملوں سے خطے میں امریکہ مخالف جذبات بھڑکیں گے، لہذا امریکہ کو پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا۔
وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں احمد مختار سے ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ امریکہ کی طرف سے جاری حملوں سے لوگوں کے غم وغصے میں اضافہ ہوگا۔
بیان کے مطابق وزیر دفاع نے امریکی اہلکاروں کو پاکستان کی سکیورٹی ضروریات سے بھی آگاہ کیا تاکہ وہ بہتر انداز میں دہشت گردی عناصر کا مقابلہ کرسکے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اگست سے لیکر اب تک پاکستان کی سرزمین پر سترہ میزائیل حملے کیے ہیں۔