Tuesday, 04 November, 2008, 19:48 GMT 00:48 PST
امریکی صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ہونے والی پولنگ کے موقع پر نیویارک کے حصص بازار میں تیزی دیکھنے میں آئی۔
ڈاؤ جونز انڈیکس میں منگل کے روز ٹریڈنگ میں تین اعشاریہ تین فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور انڈیکس تین سو پانچ اعشاریہ پانچ پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ نو ہزار چھ سو پچیس اعشاریہ تین پر بند ہوا۔
اس سے پہلے ایشیاء اور یورپ کے حصص بازاروں میں بھی اس امید پر تیزی دیکھنے میں آئی کہ نئے امریکی صدر حالیہ مالیاتی بحران کو حل کرنے کے لیے نئے اقدامات اٹھائیں گے۔
نیویارک کے نیسڈک کمپوزٹ انڈیکس میں بھی تریپن اعشاریہ پانچ پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
حصص بازاروں میں تیزی کے بارے میں بریفنگ ڈاٹ کام سے منسلک پیٹرک او ہئیر کا کہنا ہے کہ شیئرز کی قدر میں یہ اضافہ اس وجہ سے نہیں ہو رہا کہ ایک امیدوار دوسری پر غالب آئے گا۔
’بلکہ یہ اضافہ اس امید پر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بالآخر اس معاملے میں صورتِ حال کوئی وااضح رخ اختیار کرے گی۔
امریکی حصص بازار میں یہ اضافہ وزارتِ تجارت کی طرف سے جاری ہونے والے ان اعداد وشمار کے باوجود دیکھنے میں آیا ہے کہ ملک میں مینو فیکچرنگ کے شعبے میں تیزی سے کمی آ ہوئی ہے۔
ان اعداد و شمار کے مطابق امریکی کارخانوں کو ملنے والے آرڈروں میں ڈھائی فیصد کمی ہوئے ہے۔ اگست میں یہ کمی چار فیصد ہونا تھی لیکن در حقیقت یہ کمی چار اعشاریہ پانچ فیصد رہی۔
نائٹ ایکویٹی مارکیٹس سے منسلک پیٹر کینی کے مطابق یہ اعداد و شمار مایوس کن ہیں لیکن اس کے باوجود یہ صدارتی انتخابات کے موقع پر دیکھےجانے والے جوش و خروش کو کم نہیں کر سکے۔